Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے عبدالملک بن میسرہ نے، ان سے نزال نے بیان کیا کہ وہ علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں مسجد کوفہ کے صحن میں حاضر ہوئے پھر علی رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کر پیا اور کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو مکروہ سمجھتے ہیں حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے دیکھا ہے جس طرح تم نے مجھے اس وقت کھڑے ہو کر پانی پیتے دیکھا ہے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا مسعر، عن عبد الملك بن ميسرة، عن النزال، قال اتى علي رضى الله عنه على باب الرحبة، فشرب قايما فقال ان ناسا يكره احدهم ان يشرب وهو قايم، واني رايت النبي صلى الله عليه وسلم فعل كما رايتموني فعلت
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن میسرہ نے بیان کیا، انہوں نے نزال بن سبرہ سے سنا، وہ علی رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے کہ انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی پھر مسجد کوفہ کے صحن میں لوگوں کی ضرورتوں کے لیے بیٹھ گئے۔ اس عرصہ میں عصر کی نماز کا وقت آ گیا پھر ان کے پاس پانی لایا گیا۔ انہوں نے پانی پیا اور اپنا چہرہ اور ہاتھ دھوئے، ان کے سر اور پاؤں ( کے دھونے کا بھی ) ذکر کیا۔ پھر انہوں نے کھڑے ہو کر وضو کا بچا ہوا پانی پیا، اس کے بعد کہا کہ کچھ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو برا سمجھتے ہیں حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یونہی کیا تھا جس طرح میں نے کیا، وضو کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عبد الملك بن ميسرة، سمعت النزال بن سبرة، يحدث عن علي رضى الله عنه انه صلى الظهر ثم قعد في حوايج الناس في رحبة الكوفة حتى حضرت صلاة العصر، ثم اتي بماء فشرب وغسل وجهه ويديه وذكر راسه ورجليه، ثم قام فشرب فضله وهو قايم ثم قال ان ناسا يكرهون الشرب قايما وان النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، ان سے عاصم احول نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی کھڑے ہو کر پیا۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا سفيان، عن عاصم الاحول، عن الشعبي، عن ابن عباس، قال شرب النبي صلى الله عليه وسلم قايما من زمزم
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن ابی سلمہ نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوالنضر نے خبر دی، انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام عمیر نے اور انہیں ام فضل بنت حارث نے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دودھ کا ایک پیالہ بھیجا میدان عرفات میں۔ وہ عرفہ کے دن کی شام کا وقت تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اپنی سواری پر ) سوار تھے، آپ نے اپنے ہاتھ میں وہ پیالہ لیا اور اسے پی لیا۔ مالک نے ابوالنضر سے ”اپنے اونٹ پر“ کے الفاظ زیادہ کئے۔
حدثنا مالك بن اسماعيل، حدثنا عبد العزيز بن ابي سلمة، اخبرنا ابو النضر، عن عمير، مولى ابن عباس عن ام الفضل بنت الحارث، انها ارسلت الى النبي صلى الله عليه وسلم بقدح لبن، وهو واقف عشية عرفة، فاخذ بيده فشربه. زاد مالك عن ابي النضر على بعيره
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پانی ملا ہوا دودھ پیش کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داہنی طرف ایک دیہاتی تھا اور بائیں طرف ابوبکر رضی اللہ عنہ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر باقی دیہاتی کو دیا اور فرمایا کہ دائیں طرف سے، پس دائیں طرف سے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بلبن قد شيب بماء، وعن يمينه اعرابي وعن شماله ابو بكر، فشرب، ثم اعطى الاعرابي، وقال " الايمن الايمن
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے ابوحازم بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شربت لایا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا، آپ کے دائیں طرف ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف بوڑھے لوگ ( خالد بن ولید رضی اللہ عنہ جیسے بیٹھے ہوئے ) تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے کہا کیا تم مجھے اجازت دو گے کہ میں ان ( شیوخ ) کو ( پہلے ) دے دوں۔ لڑکے نے کہا: اللہ کی قسم، یا رسول اللہ! آپ کے جھوٹے میں سے ملنے والے اپنے حصہ کے معاملہ میں، میں کسی پر ایثار نہیں کروں گا۔ راوی نے بیان کیا کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے کے ہاتھ میں پیالہ دے دیا۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك، عن ابي حازم بن دينار، عن سهل بن سعد رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي بشراب فشرب منه، وعن يمينه غلام وعن يساره الاشياخ. فقال للغلام " اتاذن لي ان اعطي هولاء ". فقال الغلام والله يا رسول الله لا اوثر بنصيبي منك احدا. قال فتله رسول الله صلى الله عليه وسلم في يده
ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے سعید بن حارث نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ
حدثنا يحيى بن صالح، حدثنا فليح بن سليمان، عن سعيد بن الحارث، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الانصار ومعه صاحب له، فسلم النبي صلى الله عليه وسلم وصاحبه، فرد الرجل فقال يا رسول الله بابي انت وامي. وهى ساعة حارة، وهو يحول في حايط له يعني الماء فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ان كان عندك ماء بات في شنة والا كرعنا ". والرجل يحول الماء في حايط فقال الرجل يا رسول الله عندي ماء بات في شنة. فانطلق الى العريش فسكب في قدح ماء، ثم حلب عليه من داجن له، فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم اعاد، فشرب الرجل الذي جاء معه
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے، کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں کھڑا ہوا اپنے قبیلہ میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا۔ میں ان میں سے سب سے چھوٹا تھا، اتنے میں کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی ( ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا کہ شراب پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے پھینک دی۔ سلیمان نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا اس وقت لوگ کس چیز کی شراب پیتے تھے کہا کہ پکی اور کچی کھجور کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ یہی ان کی شراب ہوتی تھی انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا، بکر بن عبداللہ مزنی یا قتادہ نے کہا اور مجھ سے بعض لوگوں نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ”ان کی ان دنوں یہی ( فضیح ) ان کی شراب تھی۔“
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، عن ابيه، قال سمعت انسا رضى الله عنه قال كنت قايما على الحى اسقيهم عمومتي وانا اصغرهم الفضيخ، فقيل حرمت الخمر. فقال اكفيها. فكفانا. قلت لانس ما شرابهم قال رطب وبسر. فقال ابو بكر بن انس وكانت خمرهم. فلم ينكر انس. وحدثني بعض اصحابي انه سمع انسا يقول كانت خمرهم يوميذ
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی جب ابتداء ہو یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب شام ہو تو اپنے بچوں کو روک لو ( اور گھر سے باہر نہ نکلنے دو ) کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں پھر جب رات کی ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو اور دروازے بند کر لو اور اس وقت اللہ کا نام لو کیونکہ شیطان بند دروازے کو نہیں کھولتا اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا منہ باندھ دو۔ اللہ کا نام لے کر اپنے برتنوں کو ڈھک دو، خواہ کسی چیز کو چوڑائی میں رکھ کر ہی ڈھک سکو اور اپنے چراغ ( سونے سے پہلے ) بجھا دیا کرو۔
حدثنا اسحاق بن منصور، اخبرنا روح بن عبادة، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، انه سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا كان جنح الليل او امسيتم فكفوا صبيانكم، فان الشياطين تنتشر حينيذ، فاذا ذهب ساعة من الليل فحلوهم، فاغلقوا الابواب واذكروا اسم الله، فان الشيطان لا يفتح بابا مغلقا، واوكوا قربكم واذكروا اسم الله، وخمروا انيتكم واذكروا اسم الله، ولو ان تعرضوا عليها شييا واطفيوا، مصابيحكم
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم جب سونے لگو تو چراغ بجھا دو۔ دروازے بند کر دو، مشکوں کے منہ باندھ دو اور کھانے پینے کے برتنوں کو ڈھانپ دو۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا خواہ لکڑی ہی کے ذریعہ سے ڈھک سکو جو اس کی چوڑائی میں بسم اللہ کہہ کر رکھ دی جائے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا همام، عن عطاء، عن جابر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " اطفيوا المصابيح اذا رقدتم، وغلقوا الابواب، واوكوا الاسقية، وخمروا الطعام والشراب واحسبه قال ولو بعود تعرضه عليه
ہم سے آدم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا مشک کا منہ کھول کر اس میں منہ لگا کر پانی پینے سے روکا۔
حدثنا ادم، حدثنا ابن ابي ذيب، عن الزهري، عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الاسقية. يعني ان تكسر افواهها فيشرب منها
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، کہا ہم کو یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھ سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا، کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے مشکوں میں «اختناث» سے منع فرمایا ہے۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ معمر نے بیان کیا یا ان کے غیر نے کہ «اختناث» مشک سے منہ لگا کر پانی پینے کو کہتے ہیں۔
حدثنا محمد بن مقاتل، اخبرنا عبد الله، اخبرنا يونس، عن الزهري، قال حدثني عبيد الله بن عبد الله، انه سمع ابا سعيد الخدري، يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ينهى عن اختناث الاسقية. قال عبد الله قال معمر او غيره هو الشرب من افواهها
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا کہ ہم سے عکرمہ نے کہا، تمہیں میں چند چھوٹی چھوٹی باتیں نہ بتا دوں جنہیں ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے منہ لگا کر پانی پینے کی ممانعت کی تھی اور ( اس سے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا تھا کہ ) کوئی شخص اپنے پڑوس کو اپنی دیوار میں کھونٹی وغیرہ گاڑنے سے روکے۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا ايوب، قال لنا عكرمة الا اخبركم باشياء، قصار حدثنا بها ابو هريرة، نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من فم القربة او السقاء، وان يمنع جاره ان يغرز خشبه في داره
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم کو ایوب نے خبر دی، انہیں عکرمہ نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کی ممانعت فرما دی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا اسماعيل، اخبرنا ايوب، عن عكرمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه نهى النبي صلى الله عليه وسلم ان يشرب من في السقاء
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشک کے منہ سے پانی پینے کو منع فرمایا تھا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الشرب من في السقاء
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے شیبان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی شخص پانی پئے تو ( پینے کے ) برتن میں ( پانی پیتے ہوئے ) سانس نہ لے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیشاب کرے تو داہنے ہاتھ کو ذکر پر نہ پھیرے اور جب استنجاء کرے تو داہنے ہاتھ سے نہ کرے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا شيبان، عن يحيى، عن عبد الله بن ابي قتادة، عن ابيه، قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا شرب احدكم فلا يتنفس في الاناء، واذا بال احدكم فلا يمسح ذكره بيمينه، واذا تمسح احدكم فلا يتمسح بيمينه
ہم سے ابوعاصم اور ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عروہ بن ثابت نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے شمامہ بن عبداللہ نے خبر دی، بیان کیا کہ انس رضی اللہ عنہ دو یا تین سانسوں میں پانی پیتے تھے۔
حدثنا ابو عاصم، وابو نعيم قالا حدثنا عزرة بن ثابت، قال اخبرني ثمامة بن عبد الله، قال كان انس يتنفس في الاناء مرتين او ثلاثا، وزعم ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يتنفس ثلاثا
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حکیم بن ابی لیلیٰ نے، انہوں نے بیان کیا کہ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ مدائن میں تھے۔ انہوں نے پانی مانگا تو ایک دیہاتی نے ان کو چاندی کے برتن میں پانی لا کر دیا، انہوں نے برتن کو اس پر پھینک مارا پھر کہا میں نے برتن صرف اس وجہ سے پھینکا ہے کہ اس شخص کو میں اس سے منع کر چکا تھا لیکن یہ باز نہ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ریشم و دیبا کے پہننے سے اور سونے اور چاندی کے برتن میں کھانے پینے سے منع کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ یہ چیزیں ان کفار کے لیے دنیا میں ہیں اور تمہیں آخرت میں ملیں گے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن الحكم، عن ابن ابي ليلى، قال كان حذيفة بالمداين فاستسقى، فاتاه دهقان بقدح فضة، فرماه به فقال اني لم ارمه الا اني نهيته فلم ينته، وان النبي صلى الله عليه وسلم نهانا عن الحرير والديباج والشرب في انية الذهب والفضة وقال " هن لهم في الدنيا وهى لكم في الاخرة
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے مجاہد نے اور ان سے ابن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ ہم حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ نکلے پھر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ سونے اور چاندی کے پیالہ میں نہ پیا کرو اور نہ ریشم و دیبا پہنا کرو کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے دینا میں ہیں اور تمہارے لیے آخرت میں ہیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا ابن ابي عدي، عن ابن عون، عن مجاهد، عن ابن ابي ليلى، قال خرجنا مع حذيفة وذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا تشربوا في انية الذهب والفضة، ولا تلبسوا الحرير والديباج، فانها لهم في الدنيا ولكم في الاخرة
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے نافع نے، ان سے زید بن عبداللہ بن عمر نے، ان سے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو وہ شخص اپنے پیٹ میں دوزخ کی آگ بھڑکا رہا ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني مالك بن انس، عن نافع، عن زيد بن عبد الله بن عمر، عن عبد الله بن عبد الرحمن بن ابي بكر الصديق، عن ام سلمة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " الذي يشرب في اناء الفضة انما يجرجر في بطنه نار جهنم