Loading...

Loading...
کتب
۶۵ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے دنیا میں شراب پی اور پھر اس نے توبہ نہیں کی تو آخرت میں وہ اس سے محروم رہے گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " من شرب الخمر في الدنيا، ثم لم يتب منها، حرمها في الاخرة
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، انہیں زہری نے، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( بیت المقدس کے شہر ) ایلیاء میں شراب اور دودھ کے دو پیالے پیش کئے گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ کا پیالہ لے لیا۔ اس پر جبرائیل علیہ السلام نے کہا اس اللہ کے لیے تمام تعریفیں ہیں جس نے آپ کو دین فطرت کی طرف چلنے کی ہدایت فرمائی۔ اگر آپ نے شراب کا پیالہ لے لیا ہوتا تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔ شعیب کے ساتھ اس حدیث کو معمر، ابن الہاد، عثمان بن عمر اور زبیدی نے زہری سے نقل کیا ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، اخبرني سعيد بن المسيب، انه سمع ابا هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اتي ليلة اسري به بايلياء بقدحين من خمر، ولبن فنظر اليهما، ثم اخذ اللبن، فقال جبريل الحمد لله الذي هداك للفطرة، ولو اخذت الخمر غوت امتك. تابعه معمر وابن الهاد وعثمان بن عمر والزبيدي عن الزهري
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی جو تم سے اب میرے سوا کوئی اور نہیں بیان کرے گا ( کیونکہ اب میرے سوا کوئی صحابی زندہ موجود نہیں رہا ہے ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ جہالت غالب ہو جائے گی اور علم کم ہو جائے گا، زناکاری بڑھ جائے گی، شراب کثرت سے پی جانے لگے گی، عورتیں بہت ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس پچاس عورتوں کی نگرانی کرنے والا صرف ایک ہی مرد رہ جائے گا۔
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا هشام، حدثنا قتادة، عن انس رضى الله عنه قال سمعت من، رسول الله صلى الله عليه وسلم حديثا لا يحدثكم به غيري قال " من اشراط الساعة ان يظهر الجهل، ويقل العلم، ويظهر الزنا، وتشرب الخمر، ويقل الرجال، ويكثر النساء، حتى يكون لخمسين امراة قيمهن رجل واحد
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن مسیب سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص جب زنا کرتا ہے تو عین زنا کرتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب وہ شراب پیتا ہے تو عین شراب پیتے وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اسی طرح جب چور چوری کرتا ہے تو اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا۔ اور ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام نے خبر دی، ان سے ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ۔ پھر انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر بن عبدالرحمٰن ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں امور مذکورہ کے ساتھ اتنا اور زیادہ کرتے تھے کہ کوئی شخص ( دن دھاڑے ) اگر کسی بڑی پونجی پر اس طور ڈاکہ ڈالتا ہے کہ لوگ دیکھتے کے دیکھتے رہ جاتے ہیں تو وہ مومن رہتے ہوئے یہ لوٹ مار نہیں کرتا۔
حدثنا احمد بن صالح، حدثنا ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، قال سمعت ابا سلمة بن عبد الرحمن، وابن المسيب، يقولان قال ابو هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " لا يزني الزاني حين يزني وهو مومن، ولا يشرب الخمر حين يشربها وهو مومن، ولا يسرق السارق حين يسرق وهو مومن ". قال ابن شهاب واخبرني عبد الملك بن ابي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام ان ابا بكر كان يحدثه عن ابي هريرة ثم يقول كان ابو بكر يلحق معهن " ولا ينتهب نهبة ذات شرف، يرفع الناس اليه ابصارهم فيها حين ينتهبها وهو مومن
ہم سے حسن بن صباح نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن سابق نے بیان کیا، کہا ہم سے امام مالک نے جو مغول کے صاحبزادے ہیں، بیان کیا ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو انگور کی شراب مدینہ منورہ میں نہیں ملتی تھی۔
حدثنا الحسن بن صباح، حدثنا محمد بن سابق، حدثنا مالك هو ابن مغول عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال لقد حرمت الخمر، وما بالمدينة منها شىء
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوشہاب عبدربہ بن نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے ثابت بنانی نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب ہم پر حرام کی گئی تو مدینہ منورہ میں انگور کی شراب بہت کم ملتی تھی۔ عام استعمال کی شراب کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا ابو شهاب عبد ربه بن نافع، عن يونس، عن ثابت البناني، عن انس، قال حرمت علينا الخمر حين حرمت وما نجد يعني بالمدينة خمر الاعناب الا قليلا، وعامة خمرنا البسر والتمر
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ان سے ابوحیان نے، کہا ہم سے عامر نے بیان کیا اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ ممبر پر کھڑے ہوئے اور کہا امابعد! جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی انگور، کھجور، شہد، گیہوں اور جَو اور شراب ( خمر ) وہ ہے جو عقل کو زائل کر دے۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابي حيان، حدثنا عامر، عن ابن عمر رضى الله عنهما قام عمر على المنبر فقال اما بعد نزل تحريم الخمر وهى من خمسة العنب والتمر والعسل والحنطة والشعير، والخمر ما خامر العقل
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے مالک بن انس نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ابوعبیدہ، ابوطلحہ اور ابی بن کعب رضی اللہ عنہم کو کچی اور پکی کھجور سے تیار کی ہوئی شراب پلا رہا تھا کہ ایک آنے والے نے آ کر بتایا کہ شراب حرام کر دی گئی ہے۔ اس وقت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انس اٹھو اور شراب کو بہا دو چنانچہ میں نے اسے بہا دیا۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك بن انس، عن اسحاق بن عبد الله بن ابي طلحة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال كنت اسقي ابا عبيدة وابا طلحة وابى بن كعب من فضيخ زهو وتمر فجاءهم ات فقال ان الخمر قد حرمت. فقال ابو طلحة قم يا انس فاهرقها. فاهرقتها
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ایک قبیلہ میں کھڑا میں اپنے چچاؤں کو کھجور کی شراب پلا رہا تھا میں ان میں سب سے کم عمر تھا۔ کسی نے کہا کہ شراب حرام کر دی گئی۔ ان حضرات نے کہا کہ اب اسے پھینک دو۔ چنانچہ ہم نے شراب پھینک دی۔ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ وہ کس چیز کی شراب بنتی تھی؟ فرمایا کہ تازہ پکی ہوئی اور کچی کھجوروں کی۔ ابوبکر بن انس نے کہا کہ ان کی شراب ( کھجور کی ) ہوتی تھی تو انس رضی اللہ عنہ نے اس کا انکار نہیں کیا اور مجھ سے میرے بعض اصحاب نے بیان کیا کہ انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ اس زمانہ میں ان کی شراب اکثر کچی اور پکی کھجور سے تیار کی جاتی تھی۔
حدثنا مسدد، حدثنا معتمر، عن ابيه، قال سمعت انسا، قال كنت قايما على الحى اسقيهم عمومتي وانا اصغرهم الفضيخ، فقيل حرمت الخمر. فقالوا اكفيها. فكفاتها. قلت لانس ما شرابهم قال رطب وبسر. فقال ابو بكر بن انس وكانت خمرهم. فلم ينكر انس. وحدثني بعض اصحابي انه سمع انسا يقول كانت خمرهم يوميذ
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یوسف ابومعشر براء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن عبداللہ سے سنا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے بکر بن عبداللہ نے بیان کیا اور انہوں نے کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب شراب حرام کی گئی تو وہ کچی اور پختہ کھجوروں سے تیار کی جاتی تھی۔
حدثنا محمد بن ابي بكر المقدمي، حدثنا يوسف ابو معشر البراء، قال سمعت سعيد بن عبيد الله، قال حدثني بكر بن عبد الله، ان انس بن مالك، حدثهم ان الخمر حرمت، والخمر يوميذ البسر والتمر
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابن شہاب نے، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بھی پینے والی چیز نشہ لاوے وہ حرام ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن ابن شهاب، عن ابي سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة، قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البتع فقال " كل شراب اسكر فهو حرام
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے «بتع» کے متعلق سوال کیا گیا۔ یہ مشروب شہد سے تیار کیا جاتا تھا اور یمن میں اس کا عام رواج تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو چیز بھی نشہ لانے والی ہو وہ حرام ہے۔
حدثنا ابو اليمان، اخبرنا شعيب، عن الزهري، قال اخبرني ابو سلمة بن عبد الرحمن، ان عايشة رضى الله عنها قالت سيل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البتع وهو نبيذ العسل، وكان اهل اليمن يشربونه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كل شراب اسكر فهو حرام
اور زہری سے روایت ہے، کہا کہ مجھ سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”دباء“ اور ”مزفت“ میں نبیذ نہ بنایا کرو اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اس کے ساتھ ”حنتم“ اور ”نقیر“ کا بھی اضافہ کیا کرتے تھے۔
وعن الزهري، قال حدثني انس بن مالك، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " لا تنتبذوا في الدباء، ولا في المزفت ". وكان ابو هريرة يلحق معها الحنتم والنقير
ہم سے احمد بن ابی رجاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ابوحیان تمیمی نے، ان سے شعبی نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر خطبہ دیتے ہوئے کہا جب شراب کی حرمت کا حکم ہوا تو وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔ انگور سے، کھجور سے، گیہوں سے، جَو اور شہد سے اور «خمر» ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو مخمور کر دے اور تین مسائل ایسے ہیں کہ میری تمنا تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے جدا ہونے سے پہلے ہمیں ان کا حکم بتا جاتے، دادا کا مسئلہ، کلالہ کا مسئلہ اور سود کے چند مسائل۔ ابوحیان نے بیان کیا کہ میں نے شعبی سے پوچھا: اے ابوعمرو! ایک ایسا شربت ہے جو سندھ میں چاول سے بنایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں نہیں پائی جاتی تھی یا کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں نہ تھی اور فرج ابن منہال نے بھی اس حدیث کو حماد بن سلمہ سے بیان کیا اور ان سے ابوحیان نے اس میں انگور کے بجائے کشمش ہے۔
حدثنا احمد بن ابي رجاء، حدثنا يحيى، عن ابي حيان التيمي، عن الشعبي، عن ابن عمر رضى الله عنهما قال خطب عمر على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال انه قد نزل تحريم الخمر، وهى من خمسة اشياء العنب والتمر والحنطة والشعير والعسل، والخمر ما خامر العقل، وثلاث وددت ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يفارقنا حتى يعهد الينا عهدا الجد والكلالة وابواب من ابواب الربا. قال قلت يا ابا عمرو فشىء يصنع بالسند من الرز. قال ذاك لم يكن على عهد النبي صلى الله عليه وسلم او قال على عهد عمر. وقال حجاج عن حماد عن ابي حيان مكان العنب الزبيب
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن ابی السفر نے بیان کیا، ان سے شعبی نے ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ شراب پانچ چیزوں سے بنتی تھی کشمش، کھجور، گیہوں، جَو اور شہد سے۔
حدثنا حفص بن عمر، حدثنا شعبة، عن عبد الله بن ابي السفر، عن الشعبي، عن ابن عمر، عن عمر، قال الخمر يصنع من خمسة من الزبيب والتمر والحنطة والشعير والعسل
اور ہشام بن عمار نے بیان کیا کہ ان سے صدقہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، ان سے عطیہ بن قیس کلابی نے، ان سے عبدالرحمٰن بن غنم اشعری نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے ابوعامر رضی اللہ عنہ یا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اللہ کی قسم! انہوں نے جھوٹ نہیں بیان کیا کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت میں ایسے برے لوگ پیدا ہو جائیں گے جو زناکاری، ریشم کا پہننا، شراب پینا اور گانے بجانے کو حلال بنا لیں گے اور کچھ متکبر قسم کے لوگ پہاڑ کی چوٹی پر ( اپنے بنگلوں میں رہائش کرنے کے لیے ) چلے جائیں گے۔ چرواہے ان کے مویشی صبح و شام لائیں گے اور لے جائیں گے۔ ان کے پاس ایک فقیر آدمی اپنی ضرورت لے کر جائے گا تو وہ ٹالنے کے لیے اس سے کہیں گے کہ کل آنا لیکن اللہ تعالیٰ رات کو ان کو ( ان کی سرکشی کی وجہ سے ) ہلاک کر دے گا پہاڑ کو ( ان پر ) گرا دے گا اور ان میں سے بہت سوں کو قیامت تک کے لیے بندر اور سور کی صورتوں میں مسخ کر دے گا۔
وقال هشام بن عمار حدثنا صدقة بن خالد، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا عطية بن قيس الكلابي، حدثنا عبد الرحمن بن غنم الاشعري، قال حدثني ابو عامر او ابو مالك الاشعري والله ما كذبني سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول " ليكونن من امتي اقوام يستحلون الحر والحرير والخمر والمعازف، ولينزلن اقوام الى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم، ياتيهم يعني الفقير لحاجة فيقولوا ارجع الينا غدا. فيبيتهم الله ويضع العلم، ويمسخ اخرين قردة وخنازير الى يوم القيامة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے سہل بن سعد ساعدی سے سنا، انہوں نے کہا کہ ابواسید مالک بن ربیع آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ولیمہ کی دعوت دی، ان کی بیوی ہی سب کام کر رہی تھیں حالانکہ وہ نئی دلہن تھیں۔ سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلایا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انہوں نے پتھر کے کونڈے میں رات کے وقت کھجور بھگو دی تھی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن، عن ابي حازم، قال سمعت سهلا، يقول اتى ابو اسيد الساعدي فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم في عرسه، فكانت امراته خادمهم وهى العروس. قالت اتدرون ما سقيت رسول الله صلى الله عليه وسلم انقعت له تمرات من الليل في تور
ہم سے یوسف بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ ابواحمد زبیری نے، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے، ان سے سالم بن ابی الجعد نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے کی ( جن میں شراب بنتی تھی ) ممانعت کر دی تھی پھر انصار نے عرض کیا کہ ہمارے پاس تو دوسرے برتن نہیں ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو خیر پھر اجازت ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے منصور بن معتمر نے اور ان سے سالم بن ابی الجعد نے پھر یہی حدیث روایت کی تھی۔
حدثنا يوسف بن موسى، حدثنا محمد بن عبد الله ابو احمد الزبيري، حدثنا سفيان، عن منصور، عن سالم، عن جابر رضى الله عنه قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الظروف فقالت الانصار انه لا بد لنا منها. قال " فلا اذا ". وقال خليفة حدثنا يحيى بن سعيد حدثنا سفيان عن منصور عن سالم بن ابي الجعد عن جابر بهذا حدثنا عبد الله بن محمد حدثنا سفيان بهذا وقال فيه لما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الاوعية
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے، وہ سلیمان بن ابی مسلم احول سے، وہ مجاہد سے، وہ ابوعیاض عمرو بن اسود سے اور انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن عاص سے روایت کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کے سوا اور برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا تو لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہر کسی کو مشک کہاں سے مل سکتی ہے؟ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بن لاکھ لگے گھڑے ( روغن زفت لگے برتن ) میں نبیذ بھگونے کی اجازت دے دی۔ ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے یہی بیان کیا اور اس میں یوں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند برتنوں میں نبیذ بھگونے سے منع فرمایا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن سليمان بن ابي مسلم الاحول، عن مجاهد، عن ابي عياض، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما قال لما نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الاسقية قيل للنبي صلى الله عليه وسلم ليس كل الناس يجد سقاء فرخص لهم في الجر غير المزفت
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے، کہ ان سے سفیان بن عیینہ نے، ان سے سفیان ثوری نے، ان سے ابراہیم تیمی نے، ان سے حارث بن سوید نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دباء اور مزفت ( خاص قسم کے برتن جن میں شراب بنتی تھی ) کے استعمال کی بھی ممانعت کر دی تھی۔ ہم سے عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، کہا ان سے اعمش نے یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن سفيان، حدثني سليمان، عن ابراهيم التيمي، عن الحارث بن سويد، عن علي رضى الله عنه نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن الدباء والمزفت. حدثنا عثمان حدثنا جرير عن الاعمش بهذا