Loading...

Loading...
کتب
۳۰ احادیث
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سینگ والے دو چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی۔ انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا۔ بسم اللہ اور اللہ اکبر پڑھا اور اپنا پاؤں ان کی گردن کے اوپر رکھ کر ذبح کیا۔
حدثنا قتيبة، حدثنا ابو عوانة، عن قتادة، عن انس، قال ضحى النبي صلى الله عليه وسلم بكبشين املحين اقرنين، ذبحهما بيده، وسمى وكبر ووضع رجله على صفاحهما
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہیں اسماعیل نے خبر دی، انہیں شعبی نے، انہیں مسروق نے کہ وہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں آئے اور عرض کیا کہ ام المؤمنین! اگر کوئی شخص قربانی کا جانور کعبہ میں بھیج دے اور خود اپنے شہر میں مقیم ہو اور جس کے ذریعے بھیجے اسے اس کی وصیت کر دے کہ اس کے جانور کے گلے میں ( نشانی کے طور پر ) ایک قلادہ پہنا دیا جائے تو کیا اس دن سے وہ اس وقت تک کے لیے محرم ہو جائے گا جب تک حاجی اپنا احرام نہ کھول لیں۔ بیان کیا کہ اس پر میں نے پردے کے پیچھے ام المؤمنین کے اپنے ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ پر مارنے کی آواز سنی اور انہوں نے کہا میں خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کے جانوروں کے قلادے باندھتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے کعبہ بھیجتے تھے لیکن لوگوں کے واپس ہونے تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی چیز حرام نہیں ہوتی تھی جو ان کے گھر کے دوسرے لوگوں کے لیے حلال ہو۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا اسماعيل، عن الشعبي، عن مسروق، انه اتى عايشة، فقال لها يا ام المومنين ان رجلا يبعث بالهدى الى الكعبة، ويجلس في المصر، فيوصي ان تقلد بدنته، فلا يزال من ذلك اليوم محرما حتى يحل الناس. قال فسمعت تصفيقها من وراء الحجاب فقالت لقد كنت افتل قلايد هدى رسول الله صلى الله عليه وسلم فيبعث هديه الى الكعبة، فما يحرم عليه مما حل للرجال من اهله، حتى يرجع الناس
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو نے بیان کیا، انہیں عطاء نے خبر دی، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ پہنچنے تک ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں قربانی کا گوشت جمع کرتے تھے اور کئی مرتبہ ( بجائے «لحوم الأضاحي» کے ) «لحوم الهدى.» کا لفظ استعمال کیا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، قال عمرو اخبرني عطاء، سمع جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال كنا نتزود لحوم الاضاحي على عهد النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة، وقال غير مرة لحوم الهدى
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سلیمان نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے قاسم نے، انہیں ابن خزیمہ نے خبر دی، انہوں نے ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ وہ سفر میں تھے جب واپس آئے تو ان کے سامنے گوشت لایا گیا۔ کہا گیا کہ یہ ہماری قربانی کا گوشت ہے۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اسے ہٹاؤ میں اسے نہیں چکھوں گا۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر اٹھ گیا اور گھر سے باہر نکل کر اپنے بھائی ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ ماں کی طرف سے ان کے بھائی تھے اور بدر کی لڑائی میں شرکت کرنے والوں میں سے تھے۔ میں نے ان سے اس کا ذکر کیا اور انہوں نے کہا کہ تمہارے بعد حکم بدل گیا ہے۔
حدثنا اسماعيل، قال حدثني سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن القاسم، ان ابن خباب، اخبره انه، سمع ابا سعيد، يحدث انه كان غايبا، فقدم فقدم اليه لحم. قال وهذا من لحم ضحايانا. فقال اخروه لا اذوقه. قال ثم قمت فخرجت حتى اتي اخي قتادة وكان اخاه لامه، وكان بدريا فذكرت ذلك له فقال انه قد حدث بعدك امر
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے تم میں سے قربانی کی تو تیسرے دن وہ اس حالت میں صبح کرے کہ اس کے گھر میں قربانی کے گوشت میں سے کچھ بھی باقی نہ ہو۔ دوسرے سال صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا ہم اس سال بھی وہی کریں جو پچھلے سال کیا تھا۔ ( کہ تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت بھی نہ رکھیں ) ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب کھاؤ، کھلاؤ اور جمع کرو۔ پچھلے سال تو چونکہ لوگ تنگی میں مبتلا تھے، اس لیے میں نے چاہا کہ تم لوگوں کی مشکلات میں ان کی مدد کرو۔
حدثنا ابو عاصم، عن يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة بن الاكوع، قال قال النبي صلى الله عليه وسلم " من ضحى منكم فلا يصبحن بعد ثالثة وفي بيته منه شىء ". فلما كان العام المقبل قالوا يا رسول الله نفعل كما فعلنا عام الماضي قال " كلوا واطعموا وادخروا فان ذلك العام كان بالناس جهد فاردت ان تعينوا فيها
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے اور ان سے یحییٰ بن سعید نے، ان سے عمرہ بنت عبدالرحمٰن نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ مدینہ میں ہم قربانی کے گوشت میں نمک لگا کر رکھ دیتے تھے اور پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھی پیش کرتے تھے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ نہ کھایا کرو۔ یہ حکم ضروری نہیں تھا بلکہ آپ کا منشا یہ تھا کہ ہم قربانی کا گوشت ( ان لوگوں کو بھی جن کے یہاں قربانی نہ ہوئی ہو ) کھلائیں اور اللہ زیادہ جاننے والا ہے۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني اخي، عن سليمان، عن يحيى بن سعيد، عن عمرة بنت عبد الرحمن، عن عايشة رضى الله عنها قالت الضحية كنا نملح منه، فنقدم به الى النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة فقال " لا تاكلوا الا ثلاثة ايام ". وليست بعزيمة، ولكن اراد ان يطعم منه والله اعلم
ہم سے حبان بن موسیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی، ان سے زہری نے، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ازہر کے غلام ابو عبید نے بیان کیا کہ وہ بقر عید کے دن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عیدگاہ میں موجود تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ سے پہلے عید کی نماز پڑھائی پھر لوگوں کے سامنے خطبہ دیا اور خطبہ میں فرمایا اے لوگو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ان دو عیدوں میں روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے ایک وہ دن ہے جس دن تم ( رمضان کے ) روزے پورے کر کے افطار کرتے ہو ( عیدالفطر ) اور دوسرا تمہاری قربانی کا دن ہے۔
حدثنا حبان بن موسى، اخبرنا عبد الله، قال اخبرني يونس، عن الزهري، قال حدثني ابو عبيد، مولى ابن ازهر انه شهد العيد يوم الاضحى مع عمر بن الخطاب رضى الله عنه فصلى قبل الخطبة، ثم خطب الناس فقال يا ايها الناس ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد نهاكم عن صيام هذين العيدين، اما احدهما فيوم فطركم من صيامكم واما الاخر فيوم تاكلون نسككم
ابو عبید نے بیان کیا کہ پھر میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( ان کی خلافت کے زمانہ میں عیدگاہ میں ) حاضر تھا۔ اس دن جمعہ بھی تھا۔ آپ نے خطبہ سے پہلے نماز عید پڑھائی پھر خطبہ دیا اور فرمایا کہ اے لوگو! آج کے دن تمہارے لیے دو عیدیں جمع ہو گئیں ہیں۔ ( عید اور جمعہ ) پس اطراف کے رہنے والوں میں سے جو شخص پسند کرے جمعہ کا بھی انتظار کرے اور اگر کوئی واپس جانا چاہے ( نماز عید کے بعد ہی ) تو وہ واپس جا سکتا ہے، میں نے اسے اجازت دے دی ہے۔
قال ابو عبيد ثم شهدت مع عثمان بن عفان فكان ذلك يوم الجمعة، فصلى قبل الخطبة ثم خطب فقال يا ايها الناس ان هذا يوم قد اجتمع لكم فيه عيدان، فمن احب ان ينتظر الجمعة من اهل العوالي فلينتظر، ومن احب ان يرجع فقد اذنت له
ابوعبید نے بیان کیا کہ پھر میں عید کی نماز میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ آیا۔ انہوں نے بھی نماز خطبہ سے پہلے پڑھائی پھر لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اپنی قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ کھانے کی ممانعت کی ہے اور معمر نے زہری سے اور ان سے ابوعبیدہ نے اسی طرح بیان کیا۔
قال ابو عبيد ثم شهدته مع علي بن ابي طالب، فصلى قبل الخطبة، ثم خطب الناس فقال ان رسول الله صلى الله عليه وسلم نهاكم ان تاكلوا لحوم نسككم فوق ثلاث. وعن معمر عن الزهري عن ابي عبيد نحوه
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، انہیں ابن شہاب کے بھتیجے نے، انہیں ان کے چچا ابن شہاب (محمد بن مسلم) نے، انہیں سالم نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قربانی کا گوشت تین دن تک کھاؤ۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ سے کوچ کرتے وقت روٹی زیتون کے تیل سے کھاتے کیونکہ وہ قربانی کے گوشت سے ( تین دن کے بعد ) پرہیز کرتے تھے۔
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، اخبرنا يعقوب بن ابراهيم بن سعد، عن ابن اخي ابن شهاب، عن عمه ابن شهاب، عن سالم، عن عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " كلوا من الاضاحي ثلاثا ". وكان عبد الله ياكل بالزيت حين ينفر من منى، من اجل لحوم الهدى