Loading...

Loading...
کتب
۵۲۵ احادیث
اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں ان لوگوں میں تھا جنہیں غزوہ احد کے موقع پر اونگھ نے آ گھیرا تھا اور اسی حالت میں میری تلوار کئی مرتبہ ( ہاتھ سے چھوٹ کر بے اختیار ) گر پڑی تھی۔ میں اسے اٹھا لیتا، پھر گر جاتی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا۔
وقال لي خليفة حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا سعيد، عن قتادة، عن انس، عن ابي طلحة رضى الله عنهما قال كنت فيمن تغشاه النعاس يوم احد، حتى سقط سيفي من يدي مرارا، يسقط واخذه، ويسقط فاخذه
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں ( صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام ) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» ( آل عمران: 128 ) تک نازل کی۔
حدثنا يحيى بن عبد الله السلمي، اخبرنا عبد الله، اخبرنا معمر، عن الزهري، حدثني سالم، عن ابيه، انه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا رفع راسه من الركوع من الركعة الاخرة من الفجر يقول " اللهم العن فلانا وفلانا وفلانا ". بعد ما يقول " سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد ". فانزل الله {ليس لك من الامر شىء} الى قوله { فانهم ظالمون}
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» تک نازل ہوئی۔
وعن حنظلة بن ابي سفيان، سمعت سالم بن عبد الله، يقول كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يدعو على صفوان بن امية وسهيل بن عمرو والحارث بن هشام فنزلت {ليس لك من الامر شىء} الى قوله {فانهم ظالمون}
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ثعلبہ بن ابی مالک نے بیان کیا کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں چادریں تقسیم کروائیں۔ ایک عمدہ قسم کی چادر باقی بچ گئی تو ایک صاحب نے جو وہیں موجود تھے، عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے جو آپ کے نکاح میں ہیں۔ ان کا اشارہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان سے زیادہ مستحق ہیں۔ ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوہ احد میں وہ ہمارے لیے پانی کی مشک بھربھر کر لاتی تھیں۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن يونس، عن ابن شهاب، وقال ثعلبة بن ابي مالك ان عمر بن الخطاب رضى الله عنه قسم مروطا بين نساء من نساء اهل المدينة، فبقي منها مرط جيد، فقال له بعض من عنده يا امير المومنين اعط هذا بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم التي عندك. يريدون ام كلثوم بنت علي. فقال عمر ام سليط احق به. وام سليط من نساء الانصار ممن بايع رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال عمر فانها كانت تزفر لنا القرب يوم احد
مجھ سے ابو جعفر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجین بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن فضل نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کو وحشی ( ابن حرب حبشی جس نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ہندہ زوجہ ابوسفیان نے ان کی لاش کا مثلہ کیا تھا ) سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی ( رضاعی ) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا ( طعیمہ ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب ( دونوں فوجیں آمنے سامنے ) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو ( قریش کی صف میں سے ) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ ( اس کی اس دعوت مبازرت پر ) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا ( اور اسے قتل کر دیا ) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے ( اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی ) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ ( میدان جنگ میں ) میں نے دیکھا کہ ایک شخص ( مسیلمہ ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں ( عبدالعزیز بن عبداللہ ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ( مسیلمہ کے قتل کے بعد ) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام ( یعنی وحشی ) نے قتل کر دیا۔
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہوا جس نے اس کے نبی کے ساتھ یہ کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ آگے کے دندان مبارک ( کے ٹوٹ جانے ) کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص ( ابی بن خلف ) پر انتہائی سخت ہوا۔ جسے اس کے نبی نے اللہ کے راستے میں قتل کیا۔
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، عن معمر، عن همام، سمع ابا هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اشتد غضب الله على قوم فعلوا بنبيه يشير الى رباعيته اشتد غضب الله على رجل يقتله رسول الله صلى الله عليه وسلم في سبيل الله
مجھ سے مخلد بن مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا اس شخص پر انتہائی غضب نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس قوم پر نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے نبی کے چہرہ مبارک کو ( غزوہ احد کے موقع پر ) خون آلود کر دیا تھا۔
حدثني مخلد بن مالك، حدثنا يحيى بن سعيد الاموي، حدثنا ابن جريج، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال اشتد غضب الله على من قتله النبي صلى الله عليه وسلم في سبيل الله، اشتد غضب الله على قوم دموا وجه نبي الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (غزوہ احد کے موقع پر ہونے والے) زخموں کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو کس نے دھویا تھا اور کون ان پر پانی ڈال رہا تھا اور جس دوا سے آپ کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی خون کو دھو رہی تھیں۔ علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ نکلا آ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور پھر اسے زخم پر چپکا دیا جس سے خون کا آنا بند ہو گیا۔ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہو گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن ابي حازم، انه سمع سهل بن سعد، وهو يسال عن جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال اما والله اني لاعرف من كان يغسل جرح رسول الله صلى الله عليه وسلم ومن كان يسكب الماء وبما دووي قال كانت فاطمة عليها السلام بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم تغسله وعلي يسكب الماء بالمجن، فلما رات فاطمة ان الماء لا يزيد الدم الا كثرة اخذت قطعة من حصير، فاحرقتها والصقتها فاستمسك الدم، وكسرت رباعيته يوميذ، وجرح وجهه، وكسرت البيضة على راسه
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جس نے ( یعنی عبداللہ بن قمیہ نے لعنتہ اللہ علیہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو خون آلود کیا تھا۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، حدثنا ابن جريج، عن عمرو بن دينار، عن عكرمة، عن ابن عباس، قال اشتد غضب الله على من قتله نبي، اشتد غضب الله على من دمى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ( آیت ) «الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما أصابهم القرح للذين أحسنوا منهم واتقوا أجر عظيم» ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی آواز پر لبیک کہا۔“ انہوں نے عروہ سے اس آیت کے متعلق کہا، میرے بھانجے! تمہارے والد زبیر رضی اللہ عنہ اور ( نانا ) ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ احد کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو کچھ تکلیف پہنچنی تھی جب وہ پہنچی اور مشرکین واپس جانے لگے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا خطرہ ہوا کہ کہیں وہ پھر لوٹ کر حملہ نہ کریں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا پیچھا کرنے کون کون جائیں گے۔ اسی وقت ستر صحابہ رضی اللہ عنہم تیار ہو گئے۔ راوی نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور زبیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔
حدثنا محمد، حدثنا ابو معاوية، عن هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها {الذين استجابوا لله والرسول من بعد ما اصابهم القرح للذين احسنوا منهم واتقوا اجر عظيم} قالت لعروة يا ابن اختي كان ابوك منهم الزبير وابو بكر، لما اصاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ما اصاب يوم احد، وانصرف عنه المشركون خاف ان يرجعوا قال " من يذهب في اثرهم ". فانتدب منهم سبعون رجلا، قال كان فيهم ابو بكر والزبير
ہم سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن ہشام نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ عرب کے تمام قبائل میں کوئی قبیلہ انصار کے مقابلے میں اس عزت کو حاصل نہیں کر سکا کہ اس کے سب سے زیادہ آدمی شہید ہوئے اور وہ قبیلہ قیامت کے دن سب سے زیادہ عزت کے ساتھ اٹھے گا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ غزوہ احد میں قبیلہ انصار کے ستر آدمی شہید ہوئے اور بئرمعونہ کے حادثہ میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے اور یمامہ کی لڑائی میں اس کے ستر آدمی شہید ہوئے۔ راوی نے بیان کیا کہ بئرمعونہ کا واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں پیش آیا تھا اور یمامہ کی جنگ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی جو مسیلمہ کذاب سے ہوئی تھی۔
حدثني عمرو بن علي، حدثنا معاذ بن هشام، قال حدثني ابي، عن قتادة، قال ما نعلم حيا من احياء العرب اكثر شهيدا اعز يوم القيامة من الانصار. قال قتادة وحدثنا انس بن مالك انه قتل منهم يوم احد سبعون، ويوم بير معونة سبعون، ويوم اليمامة سبعون، قال وكان بير معونة على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، ويوم اليمامة على عهد ابي بكر يوم مسيلمة الكذاب
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو آگے فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احد، قدمه في اللحد، وقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة ". وامر بدفنهم بدمايهم، ولم يصل عليهم، ولم يغسلوا. وقال ابو الوليد عن شعبة، عن ابن المنكدر، قال سمعت جابرا، قال لما قتل ابي جعلت ابكي واكشف الثوب عن وجهه،، فجعل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ينهوني والنبي صلى الله عليه وسلم لم ينه، وقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تبكيه او ما تبكيه، ما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفع
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے عبدالرحمٰن بن کعب بن مالک نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد کے شہداء کو ایک ہی کپڑے میں دو دو کو کفن دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم دریافت فرماتے کہ ان میں قرآن کا عالم سب سے زیادہ کون ہے؟ جب کسی ایک کی طرف اشارہ کر کے آپ کو بتایا جاتا تو لحد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہی کو آگے فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن میں ان سب پر گواہ رہوں گا۔ پھر آپ نے تمام شہداء کو خون سمیت دفن کرنے کا حکم فرما دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا گیا۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، ان جابر بن عبد الله رضى الله عنهما اخبره ان رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يجمع بين الرجلين من قتلى احد في ثوب واحد ثم يقول " ايهم اكثر اخذا للقران ". فاذا اشير له الى احد، قدمه في اللحد، وقال " انا شهيد على هولاء يوم القيامة ". وامر بدفنهم بدمايهم، ولم يصل عليهم، ولم يغسلوا. وقال ابو الوليد عن شعبة، عن ابن المنكدر، قال سمعت جابرا، قال لما قتل ابي جعلت ابكي واكشف الثوب عن وجهه،، فجعل اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم ينهوني والنبي صلى الله عليه وسلم لم ينه، وقال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تبكيه او ما تبكيه، ما زالت الملايكة تظله باجنحتها حتى رفع
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے، ان سے ان کے دادا ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے تلوار کو ہلایا اور اس سے اس کی دھار ٹوٹ گئی۔ اس کی تعبیر مسلمانوں کے اس نقصان کی شکل میں ظاہر ہوئی جو غزوہ احد میں انہیں اٹھانا پڑا تھا۔ پھر میں نے دوبارہ اس تلوار کو ہلایا، تو پھر وہ اس سے بھی زیادہ عمدہ ہو گئی جیسی پہلے تھی۔ اس کی تعبیر اللہ تعالیٰ نے فتح اور مسلمانوں کے پھر از سر نو اجتماع کی صورت میں ظاہر کی۔ میں نے اسی خواب میں ایک گائے دیکھی تھی ( جو ذبح ہو رہی تھی ) اور اللہ تعالیٰ کے تمام کام خیر و برکت لیے ہوتے ہیں۔ اس کی تعبیر وہ مسلمان تھے ( جو ) احد کی لڑائی میں ( شہید ہوئے ) ۔
حدثنا محمد بن العلاء، حدثنا ابو اسامة، عن بريد بن عبد الله بن ابي بردة، عن جده ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه ارى عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " رايت في روياى اني هززت سيفا فانقطع صدره، فاذا هو ما اصيب من المومنين يوم احد، ثم هززته اخرى فعاد احسن ما كان، فاذا هو ما جاء به الله من الفتح واجتماع المومنين، ورايت فيها بقرا والله خير، فاذا هم المومنون يوم احد
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا، ان سے شقیق نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی اور ہمارا مقصد اس سے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا مندی حاصل کرنا تھا۔ ضروری تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر ثواب دیتا۔ ہم میں سے بعض لوگ تو وہ تھے جو اللہ سے جا ملے اور ( دنیا میں ) انہوں نے اپنا کوئی ثواب نہیں دیکھا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے تھے۔ غزوہ احد میں انہوں نے شہادت پائی اور ایک چادر کے سوا اور کوئی چیز انہوں نے نہیں چھوڑی۔ اس چادر سے ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کا سر چھپاتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں چھپاتے تو سر کھل جاتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا ” «غطوا بها رأسه، واجعلوا على رجليه الإذخر» چادر سے سر چھپا دو اور پاؤں پر اذخر گھاس رکھ دو۔“ یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ” «ألقوا على رجليه من الإذخر» یعنی ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو۔“ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہیں ان کے اس عمل کا پھل ( اسی دنیا میں ) دے دیا گیا اور وہ اس سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
حدثنا احمد بن يونس، حدثنا زهير، حدثنا الاعمش، عن شقيق، عن خباب رضى الله عنه قال هاجرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نبتغي وجه الله، فوجب اجرنا على الله، فمنا من مضى او ذهب لم ياكل من اجره شييا، كان منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد، فلم يترك الا نمرة كنا اذا غطينا بها راسه خرجت رجلاه، واذا غطي بها رجلاه خرج راسه، فقال لنا النبي صلى الله عليه وسلم " غطوا بها راسه، واجعلوا على رجليه الاذخر ". او قال " القوا على رجليه من الاذخر ". ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها
ہم سے نصر بن علی نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں قرہ بن خالد نے، انہیں قتادہ نے اور انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”احد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“
حدثني نصر بن علي، قال اخبرني ابي، عن قرة بن خالد، عن قتادة، سمعت انسا رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " هذا جبل يحبنا ونحبه
ہم سے عبداللہ بن یوسف تینسی نے بیان کیا، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں مطلب کے غلام عمرو بن ابی عمرو نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خیبر سے واپس ہوتے ہوئے ) احد پہاڑ دکھائی دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔ اے اللہ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا شہر قرار دیا تھا اور میں ان دو پتھریلے میدانوں کے درمیان والے علاقے ( مدینہ منورہ ) کو حرمت والا شہر قرار دیتا ہوں۔“
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن عمرو، مولى المطلب عن انس بن مالك رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم طلع له احد فقال " هذا جبل يحبنا ونحبه، اللهم ان ابراهيم حرم مكة، واني حرمت ما بين لابتيها
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی حبیب نے، ان سے ابوالخیر نے اور ان سے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر تشریف لائے اور شہداء احد پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے مردوں پر ادا کی جاتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارے آگے جاؤں گا، میں تمہارے حق میں گواہ رہوں گا۔ میں اب بھی اپنے حوض ( حوض کوثر ) کو دیکھ رہا ہوں۔ مجھے دنیا کے خزانوں کی کنجی عطا فرمائی گئی ہے یا ( آپ حوض کوثر نے یوں فرمایا ) «مفاتيح الأرض» یعنی زمین کی کنجیاں دی گئی ہیں۔ ( دونوں جملوں کا مطلب ایک ہی ہے ) ۔ اللہ کی قسم! میں تمہارے بارے میں اس سے نہیں ڈرتا کہ تم میرے بعد شرک کرنے لگو گے بلکہ مجھے اس کا ڈر ہے کہ تم دنیا کے لیے حرص کرنے لگو گے۔
حدثني عمرو بن خالد، حدثنا الليث، عن يزيد بن ابي حبيب، عن ابي الخير، عن عقبة، ان النبي صلى الله عليه وسلم خرج يوما فصلى على اهل احد صلاته على الميت، ثم انصرف الى المنبر فقال " اني فرط لكم، وانا شهيد عليكم، واني لانظر الى حوضي الان، واني اعطيت مفاتيح خزاين الارض او مفاتيح الارض واني والله ما اخاف عليكم ان تشركوا بعدي، ولكني اخاف عليكم ان تنافسوا فيها
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، انہیں معمر بن راشد نے، انہیں زہری نے، انہیں عمرو بن ابی سفیان ثقفی نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جاسوسی کے لیے ایک جماعت ( مکہ، قریش کی خبر لانے کے لیے ) بھیجی اور اس کا امیر عاصم بن ثابت رضی اللہ عنہ کو بنایا، جو عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا ہیں۔ یہ جماعت روانہ ہوئی اور جب عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچی تو قبیلہ ہذیل کے ایک قبیلے کو جسے بنو لحیان کہا جاتا تھا، ان کا علم ہو گیا اور قبیلہ کے تقریباً سو تیر اندازوں نے ان کا پیچھا کیا اور ان کے نشانات قدم کو تلاش کرتے ہوئے چلے۔ آخر ایک ایسی جگہ پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جہاں صحابہ کی اس جماعت نے پڑاؤ کیا تھا۔ وہاں ان کھجوروں کی گٹھلیاں ملیں جو صحابہ مدینہ سے لائے تھے۔ قبیلہ والوں نے کہا کہ یہ تو یثرب کی کھجور ( کی گھٹلی ) ہے اب انہوں نے پھر تلاش شروع کی اور صحابہ کو پا لیا۔ عاصم رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے جب یہ صورت حال دیکھی تو صحابہ کی اس جماعت نے ایک ٹیلے پر چڑھ کر پناہ لی۔ قبیلہ والوں نے وہاں پہنچ کر ٹیلہ کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور صحابہ سے کہا کہ ہم تمہیں یقین دلاتے ہیں اور عہد کرتے ہیں کہ اگر تم نے ہتھیار ڈال دیئے تو ہم تم میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ اس پر عاصم رضی اللہ عنہ بولے کہ میں تو کسی کافر کی حفاظت و امن میں خود کو کسی صورت میں بھی نہیں دے سکتا۔ اے اللہ! ہمارے ساتھ پیش آنے والے حالات کی خبر اپنے نبی کو پہنچا دے۔ چنانچہ ان صحابہ نے ان سے قتال کیا اور عاصم اپنے سات ساتھیوں کے ساتھ ان کے تیروں سے شہید ہو گئے۔ خبیب، زید اور ایک اور صحابی ان کے حملوں سے ابھی محفوظ تھے۔ قبیلہ والوں نے پھر حفاظت و امان کا یقین دلایا۔ یہ حضرات ان کی یقین دہانی پر اتر آئے۔ پھر جب قبیلہ والوں نے انہیں پوری طرح اپنے قبضے میں لے لیا تو ان کی کمان کی تانت اتار کر ان صحابہ کو انہیں سے باندھ دیا۔ تیسرے صحابہ جو خبیب اور زید کے ساتھ تھے، انہوں نے کہا کہ یہ تمہاری پہلی غداری ہے۔ انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا۔ پہلے تو قبیلہ والوں نے انہیں گھسیٹا اور اپنے ساتھ لے جانے کے لیے زور لگاتے رہے لیکن جب وہ کسی طرح تیار نہ ہوئے تو انہیں وہیں قتل کر دیا اور خبیب اور زید کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر انہیں مکہ میں لا کر بیچ دیا۔ خبیب رضی اللہ عنہ کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب رضی اللہ عنہ نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔ وہ ان کے یہاں کچھ دنوں تک قیدی کی حیثیت سے رہے۔ جس وقت ان سب کا خبیب رضی اللہ عنہ کے قتل پر اتفاق ہو چکا تو اتفاق سے انہیں دنوں حارث کی ایک لڑکی ( زینب ) سے انہوں نے موئے زیر ناف صاف کرنے کے لیے استرہ مانگا اور انہوں نے ان کو استرہ بھی دے دیا تھا۔ ان کا بیان تھا کہ میرا لڑکا میری غفلت میں خبیب رضی اللہ عنہ کے پاس چلا گیا۔ انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ میں نے جو اسے اس حالت میں دیکھا تو بہت گھبرائی۔ انہوں نے میری گھبراہٹ کو جان لیا، استرہ ان کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے کہا، کیا تمہیں اس کا خطرہ ہے کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ ان شاءاللہ میں ہرگز ایسا نہیں کر سکتا۔ ان کا بیان تھا کہ خبیب رضی اللہ عنہ سے بہتر قیدی میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نے انہیں انگور کا خوشہ کھاتے ہوئے دیکھا حالانکہ اس وقت مکہ میں کسی طرح کا پھل موجود نہیں تھا جبکہ وہ زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی تھے، تو وہ اللہ کی بھیجی ہوئی روزی تھی۔ پھر حارث کے بیٹے قتل کرنے کے لیے انہیں لے کر حرم کے حدود سے باہر گئے۔ خبیب رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا کہ مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی اجازت دو ( انہوں نے اجازت دے دی اور ) ۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو ان سے فرمایا کہ اگر تم یہ خیال نہ کرنے لگتے کہ میں موت سے گھبرا گیا ہوں تو اور زیادہ نماز پڑھتا۔ خبیب رضی اللہ عنہ ہی پہلے وہ شخص ہیں جن سے قتل سے پہلے دو رکعت نماز کا طریقہ چلا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ان کے لیے بددعا کی، اے اللہ! انہیں ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور یہ اشعار پڑھے ”جب کہ میں مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جا رہا ہوں تو مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ کس پہلو پر اللہ کی راہ میں مجھے قتل کیا جائے گا۔ یہ سب کچھ اللہ کی راہ میں ہے اور اگر وہ چاہے گا تو جسم کے ایک ایک کٹے ہوئے ٹکڑے میں برکت دے گا۔“ پھر عقبہ بن حارث نے کھڑے ہو کر انہیں شہید کر دیا اور قریش نے عاصم رضی اللہ عنہ کی لاش کے لیے آدمی بھیجے تاکہ ان کے جسم کا کوئی بھی حصہ لائیں جس سے انہیں پہچانا جا سکے۔ عاصم رضی اللہ عنہ نے قریش کے ایک بہت بڑے، سردار کو بدر کی لڑائی میں قتل کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے بھڑوں کی ایک فوج کو بادل کی طرح ان کے اوپر بھیجا اور ان بھڑوں نے ان کی لاش کو قریش کے آدمیوں سے محفوظ رکھا اور قریش کے بھیجے ہوئے یہ لوگ ( ان کے پاس نہ پھٹک سکے ) کچھ نہ کر سکے۔
ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے جابر سے سنا کہ خبیب رضی اللہ عنہ کو ابوسروعہ ( عقبہ بن عامر ) نے قتل کیا تھا۔
حدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع جابرا، يقول الذي قتل خبيبا هو ابو سروعة
حدثني ابو جعفر، محمد بن عبد الله حدثنا حجين بن المثنى، حدثنا عبد العزيز بن عبد الله بن ابي سلمة، عن عبد الله بن الفضل، عن سليمان بن يسار، عن جعفر بن عمرو بن امية الضمري، قال خرجت مع عبيد الله بن عدي بن الخيار، فلما قدمنا حمص قال لي عبيد الله هل لك في وحشي نساله عن قتل حمزة قلت نعم. وكان وحشي يسكن حمص فسالنا عنه فقيل لنا هو ذاك في ظل قصره، كانه حميت. قال فجينا حتى وقفنا عليه بيسير، فسلمنا، فرد السلام، قال وعبيد الله معتجر بعمامته، ما يرى وحشي الا عينيه ورجليه، فقال عبيد الله يا وحشي اتعرفني قال فنظر اليه ثم قال لا والله الا اني اعلم ان عدي بن الخيار تزوج امراة يقال لها ام قتال بنت ابي العيص، فولدت له غلاما بمكة، فكنت استرضع له، فحملت ذلك الغلام مع امه، فناولتها اياه، فلكاني نظرت الى قدميك. قال فكشف عبيد الله عن وجهه ثم قال الا تخبرنا بقتل حمزة قال نعم، ان حمزة قتل طعيمة بن عدي بن الخيار ببدر، فقال لي مولاى جبير بن مطعم ان قتلت حمزة بعمي فانت حر، قال فلما ان خرج الناس عام عينين وعينين جبل بحيال احد، بينه وبينه واد خرجت مع الناس الى القتال، فلما اصطفوا للقتال خرج سباع فقال هل من مبارز قال فخرج اليه حمزة بن عبد المطلب فقال يا سباع يا ابن ام انمار مقطعة البظور، اتحاد الله ورسوله صلى الله عليه وسلم قال ثم شد عليه فكان كامس الذاهب قال وكمنت لحمزة تحت صخرة فلما دنا مني رميته بحربتي، فاضعها في ثنته حتى خرجت من بين وركيه قال فكان ذاك العهد به، فلما رجع الناس رجعت معهم فاقمت بمكة، حتى فشا فيها الاسلام، ثم خرجت الى الطايف، فارسلوا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم رسولا، فقيل لي انه لا يهيج الرسل قال فخرجت معهم حتى قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما راني قال " انت وحشي ". قلت نعم. قال " انت قتلت حمزة ". قلت قد كان من الامر ما بلغك. قال " فهل تستطيع ان تغيب وجهك عني ". قال فخرجت، فلما قبض رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج مسيلمة الكذاب قلت لاخرجن الى مسيلمة لعلي اقتله فاكافي به حمزة قال فخرجت مع الناس، فكان من امره ما كان قال فاذا رجل قايم في ثلمة جدار، كانه جمل اورق ثاير الراس قال فرميته بحربتي، فاضعها بين ثدييه حتى خرجت من بين كتفيه قال ووثب اليه رجل من الانصار، فضربه بالسيف على هامته. قال قال عبد الله بن الفضل فاخبرني سليمان بن يسار انه سمع عبد الله بن عمر يقول فقالت جارية على ظهر بيت وا امير المومنين، قتله العبد الاسود
حدثني ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام بن يوسف، عن معمر، عن الزهري، عن عمرو بن ابي سفيان الثقفي، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال بعث النبي صلى الله عليه وسلم سرية عينا، وامر عليهم عاصم بن ثابت وهو جد عاصم بن عمر بن الخطاب فانطلقوا حتى اذا كان بين عسفان ومكة ذكروا لحي من هذيل، يقال لهم بنو لحيان، فتبعوهم بقريب من ماية رام، فاقتصوا اثارهم حتى اتوا منزلا نزلوه فوجدوا فيه نوى تمر تزودوه من المدينة فقالوا هذا تمر يثرب. فتبعوا اثارهم حتى لحقوهم، فلما انتهى عاصم واصحابه لجيوا الى فدفد، وجاء القوم فاحاطوا بهم، فقالوا لكم العهد والميثاق ان نزلتم الينا ان لا نقتل منكم رجلا. فقال عاصم اما انا فلا انزل في ذمة كافر، اللهم اخبر عنا نبيك. فقاتلوهم حتى قتلوا عاصما في سبعة نفر بالنبل، وبقي خبيب، وزيد ورجل اخر، فاعطوهم العهد والميثاق، فلما اعطوهم العهد والميثاق نزلوا اليهم، فلما استمكنوا منهم حلوا اوتار قسيهم فربطوهم بها. فقال الرجل الثالث الذي معهما هذا اول الغدر. فابى ان يصحبهم فجرروه وعالجوه على ان يصحبهم، فلم يفعل، فقتلوه، وانطلقوا بخبيب وزيد حتى باعوهما بمكة، فاشترى خبيبا بنو الحارث بن عامر بن نوفل، وكان خبيب هو قتل الحارث يوم بدر، فمكث عندهم اسيرا حتى اذا اجمعوا قتله استعار موسى من بعض بنات الحارث استحد بها فاعارته، قالت فغفلت عن صبي لي فدرج اليه حتى اتاه، فوضعه على فخذه، فلما رايته فزعت فزعة عرف ذاك مني، وفي يده الموسى فقال اتخشين ان اقتله ما كنت لافعل ذاك ان شاء الله. وكانت تقول ما رايت اسيرا قط خيرا من خبيب، لقد رايته ياكل من قطف عنب، وما بمكة يوميذ ثمرة، وانه لموثق في الحديد، وما كان الا رزق رزقه الله، فخرجوا به من الحرم، ليقتلوه فقال دعوني اصلي ركعتين. ثم انصرف اليهم فقال لولا ان تروا ان ما بي جزع من الموت، لزدت. فكان اول من سن الركعتين عند القتل هو، ثم قال اللهم احصهم عددا ثم قال ما ابالي حين اقتل مسلما على اى شق كان لله مصرعي وذلك في ذات الاله وان يشا يبارك على اوصال شلو ممزع ثم قام اليه عقبة بن الحارث فقتله، وبعث قريش الى عاصم ليوتوا بشىء من جسده يعرفونه، وكان عاصم قتل عظيما من عظمايهم يوم بدر، فبعث الله عليه مثل الظلة من الدبر، فحمته من رسلهم، فلم يقدروا منه على شىء