Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ہم سے یحییٰ بن قزعہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے زہری نے، ان سے عامر بن سعد بن مالک نے اور ان سے ان کے والد سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع 10 ھ کے موقع پر میری مزاج پرسی کے لیے تشریف لائے۔ اس مرض میں میرے بچنے کی کوئی امید نہیں رہی تھی۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مرض کی شدت آپ خود ملاحظہ فرما رہے ہیں، میرے پاس مال بہت ہے اور صرف میری ایک لڑکی وارث ہے تو کیا میں اپنے دو تہائی مال کا صدقہ کر دوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ میں نے عرض کیا پھر آدھے کا کر دوں؟ فرمایا کہ سعد! بس ایک تہائی کا کر دو، یہ بھی بہت ہے۔ تو اگر اپنی اولاد کو مالدار چھوڑ کر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑے اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔ احمد بن یونس نے بیان کیا، ان سے ابراہیم بن سعد نے کہ تم اپنی اولاد کو چھوڑ کر جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے اللہ تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو گی تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا ثواب دے گا، اللہ تمہیں اس لقمہ پر بھی ثواب دے گا جو تم اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے۔ میں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے مکہ میں رہ جاؤں گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پیچھے نہیں رہو گے اور تم جو بھی عمل کرو گے اور اس سے مقصود اللہ تعالیٰ کی رضا مندی ہو گی تو تمہارا مرتبہ اس کی وجہ سے بلند ہوتا رہے گا اور شاید تم ابھی بہت دنوں تک زندہ رہو گے تم سے بہت سے لوگوں ( مسلمانوں ) کو نفع پہنچے گا اور بہتوں کو ( غیرمسلموں ) نقصان ہو گا۔ اے اللہ! میرے صحابہ کی ہجرت پوری کر دے اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر ( کہ وہ ہجرت کو چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس آ جائیں ) البتہ سعد بن خولہ نقصان میں پڑ گئے اور احمد بن یونس اور موسیٰ بن اسماعیل نے اس حدیث کو ابراہیم بن سعد سے روایت کیا اس میں ( اپنی اولاد ذریت کو چھوڑو، کے بجائے ) تم اپنے وارثوں کو چھوڑو یہ الفاظ مروی ہیں۔
حدثنا يحيى بن قزعة، حدثنا ابراهيم، عن الزهري، عن عامر بن سعد بن مالك، عن ابيه، قال عادني النبي صلى الله عليه وسلم عام حجة الوداع من مرض اشفيت منه على الموت، فقلت يا رسول الله، بلغ بي من الوجع ما ترى، وانا ذو مال ولا يرثني الا ابنة لي واحدة، افاتصدق بثلثى مالي قال " لا ". قال فاتصدق بشطره قال " الثلث يا سعد، والثلث كثير، انك ان تذر ذريتك اغنياء خير من ان تذرهم عالة يتكففون الناس ". قال احمد بن يونس عن ابراهيم " ان تذر ذريتك، ولست بنافق نفقة تبتغي بها وجه الله الا اجرك الله بها، حتى اللقمة تجعلها في في امراتك ". قلت يا رسول الله، اخلف بعد اصحابي قال " انك لن تخلف فتعمل عملا تبتغي به وجه الله الا ازددت به درجة ورفعة، ولعلك تخلف حتى ينتفع بك اقوام، ويضر بك اخرون، اللهم امض لاصحابي هجرتهم، ولا تردهم على اعقابهم، لكن البايس سعد ابن خولة يرثي له رسول الله صلى الله عليه وسلم ان توفي بمكة ". وقال احمد بن يونس وموسى عن ابراهيم " ان تذر ورثتك
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا، ان سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ ہجرت کر کے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کا بھائی چارہ سعد بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ کے ساتھ کرایا تھا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ ان کے اہل و مال میں سے آدھا وہ قبول کر لیں لیکن عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اہل و مال میں برکت دے۔ آپ تو مجھے بازار کا راستہ بتا دیں۔ چنانچہ انہوں نے تجارت شروع کر دی اور پہلے دن انہیں کچھ پنیر اور گھی میں نفع ملا۔ چند دنوں کے بعد انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ان کے کپڑوں پر ( خوشبو کی ) زردی کا نشان ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عبدالرحمٰن یہ کیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے ایک انصاری عورت سے شادی کر لی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں مہر میں تم نے کیا دیا؟ انہوں نے بتایا کہ ایک گھٹلی برابر سونا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب ولیمہ کرو خواہ ایک ہی بکری کا ہو۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن حميد، عن انس رضى الله عنه قال قدم عبد الرحمن بن عوف، فاخى النبي صلى الله عليه وسلم بينه وبين سعد بن الربيع الانصاري، فعرض عليه ان يناصفه اهله وماله، فقال عبد الرحمن بارك الله لك في اهلك ومالك، دلني على السوق. فربح شييا من اقط وسمن، فراه النبي صلى الله عليه وسلم بعد ايام وعليه وضر من صفرة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " مهيم يا عبد الرحمن ". قال يا رسول الله، تزوجت امراة من الانصار. قال " فما سقت فيها ". فقال وزن نواة من ذهب. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اولم ولو بشاة
مجھ سے حامد بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، ان سے حمید طویل نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ جب عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے کی خبر ہوئی تو وہ آپ سے چند سوال کرنے کے لیے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ سے تین چیزوں کے متعلق پوچھوں گا جنہیں نبی کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ قیامت کی سب سے پہلی نشانی کیا ہو گی؟ اہل جنت کی ضیافت سب سے پہلے کس کھانے سے کی جائے گی؟ اور کیا بات ہے کہ بچہ کبھی باپ پر جاتا ہے اور کبھی ماں پر؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جواب ابھی مجھے جبرائیل نے آ کر بتایا ہے۔ عبداللہ بن سلام نے کہا کہ یہ ملائکہ میں یہودیوں کے دشمن ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جو انسانوں کو مشرق سے مغرب کی طرف لے جائے گی۔ جس کھانے سے سب سے پہلے اہل جنت کی ضیافت ہو گی وہ مچھلی کی کلیجی کا بڑھا ہوا ٹکڑا ہو گا ( جو نہایت لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے ) اور بچہ باپ کی صورت پر اس وقت جاتا ہے جب عورت کے پانی پر مرد کا پانی غالب آ جائے اور جب مرد کے پانی پر عورت کا پانی غالب آ جائے تو بچہ ماں پر جاتا ہے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا اور کوئی معبود نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ پھر انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہودی بڑے بہتان لگانے والے لوگ ہیں۔ اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام کے بارے میں انہیں کچھ معلوم ہو، ان سے میرے متعلق دریافت فرمائیں۔ چنانچہ چند یہودی آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہاری قوم میں عبداللہ بن سلام کون ہیں؟ وہ کہنے لگے کہ ہم میں سب سے بہتر اور سب سے بہتر کے بیٹے ہیں، ہم میں سب سے افضل اور سب سے افضل کے بیٹے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر وہ اسلام لائیں؟ وہ کہنے لگے اس سے اللہ تعالیٰ انہیں اپنی پناہ میں رکھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے یہی سوال کیا اور انہوں نے یہی جواب دیا۔ اس کے بعد عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آئے اور کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں۔ اب وہ کہنے لگے یہ تو ہم میں سب سے بدتر آدمی ہیں اور سب سے بدتر باپ کے بیٹے ہیں۔ فوراً ہی برائی شروع کر دی، عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! اسی کا مجھے ڈر تھا۔
حدثني حامد بن عمر، عن بشر بن المفضل، حدثنا حميد، حدثنا انس، ان عبد الله بن سلام، بلغه مقدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة، فاتاه يساله عن اشياء، فقال اني سايلك عن ثلاث لا يعلمهن الا نبي ما اول اشراط الساعة وما اول طعام ياكله اهل الجنة وما بال الولد ينزع الى ابيه او الى امه قال " اخبرني به جبريل انفا ". قال ابن سلام ذاك عدو اليهود من الملايكة. قال " اما اول اشراط الساعة فنار تحشرهم من المشرق الى المغرب، واما اول طعام ياكله اهل الجنة، فزيادة كبد الحوت، واما الولد، فاذا سبق ماء الرجل ماء المراة نزع الولد، واذا سبق ماء المراة ماء الرجل نزعت الولد ". قال اشهد ان لا اله الا الله وانك رسول الله. قال يا رسول الله، ان اليهود قوم بهت، فاسالهم عني قبل ان يعلموا باسلامي، فجاءت اليهود فقال النبي صلى الله عليه وسلم " اى رجل عبد الله بن سلام فيكم ". قالوا خيرنا وابن خيرنا وافضلنا وابن افضلنا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " ارايتم ان اسلم عبد الله بن سلام ". قالوا اعاذه الله من ذلك. فاعاد عليهم، فقالوا مثل ذلك، فخرج اليهم عبد الله فقال اشهد ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله. قالوا شرنا وابن شرنا. وتنقصوه. قال هذا كنت اخاف يا رسول الله
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع ابا المنهال عبد الرحمن بن مطعم، قال باع شريك لي دراهم في السوق نسيية فقلت سبحان الله ايصلح هذا فقال سبحان الله، والله لقد بعتها في السوق فما عابه احد، فسالت البراء بن عازب فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نتبايع هذا البيع، فقال " ما كان يدا بيد فليس به باس، وما كان نسيية فلا يصلح ". والق زيد بن ارقم فاساله فانه كان اعظمنا تجارة، فسالت زيد بن ارقم فقال مثله. وقال سفيان مرة فقال قدم علينا النبي صلى الله عليه وسلم المدينة ونحن نتبايع، وقال نسيية الى الموسم او الحج
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع ابا المنهال عبد الرحمن بن مطعم، قال باع شريك لي دراهم في السوق نسيية فقلت سبحان الله ايصلح هذا فقال سبحان الله، والله لقد بعتها في السوق فما عابه احد، فسالت البراء بن عازب فقال قدم النبي صلى الله عليه وسلم ونحن نتبايع هذا البيع، فقال " ما كان يدا بيد فليس به باس، وما كان نسيية فلا يصلح ". والق زيد بن ارقم فاساله فانه كان اعظمنا تجارة، فسالت زيد بن ارقم فقال مثله. وقال سفيان مرة فقال قدم علينا النبي صلى الله عليه وسلم المدينة ونحن نتبايع، وقال نسيية الى الموسم او الحج
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے قرہ بن خالد نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر دس یہودی ( احبار و علماء ) مجھ پر ایمان لے آتے تو تمام یہود مسلمان ہو جاتے۔“
حدثنا مسلم بن ابراهيم، حدثنا قرة، عن محمد، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " لو امن بي عشرة من اليهود لامن بي اليهود
مجھ سے احمد یا محمد بن عبیداللہ غدانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن اسامہ نے بیان کیا کہ انہیں ابو عمیس نے خبر دی، انہیں قیس بن مسلم نے، انہیں طارق بن شہاب نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم اس دن روزہ رکھنے کے زیادہ حقدار ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا حکم دیا۔
حدثني احمد او محمد بن عبيد الله الغداني حدثنا حماد بن اسامة، اخبرنا ابو عميس، عن قيس بن مسلم، عن طارق بن شهاب، عن ابي موسى رضى الله عنه قال دخل النبي صلى الله عليه وسلم المدينة واذا اناس من اليهود يعظمون عاشوراء ويصومونه فقال النبي صلى الله عليه وسلم " نحن احق بصومه ". فامر بصومه
ہم سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ہشیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابوبشر جعفر نے بیان کیا، ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن روزہ رکھتے ہیں۔ اس کے متعلق ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو فرعون پر فتح عنایت فرمائی تھی چنانچہ ہم اس دن کی تعظیم میں روزہ رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہم موسیٰ علیہ السلام سے تمہاری بہ نسبت زیادہ قریب ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن روزہ رکھنے کا حکم دیا۔
حدثنا زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، حدثنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال لما قدم النبي صلى الله عليه وسلم المدينة وجد اليهود يصومون عاشوراء، فسيلوا عن ذلك، فقالوا هذا اليوم الذي اظفر الله فيه موسى وبني اسراييل على فرعون، ونحن نصومه تعظيما له، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نحن اولى بموسى منكم ". ثم امر بصومه
ہم سے عبدان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے یونس نے، ان سے زہری نے بیان کیا، کہا مجھ کو عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی، ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سر کے بال کو پیشانی پر لٹکا دیتے تھے اور مشرکین مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بھی اپنے سروں کے بال پیشانی پر لٹکائے رہنے دیتے تھے۔ جن امور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( وحی کے ذریعہ ) کوئی حکم نہیں ہوتا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں اہل کتاب کی موافقت پسند کرتے تھے۔ پھر بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی مانگ نکالنے لگے تھے۔
حدثنا عبدان، حدثنا عبد الله، عن يونس، عن الزهري، قال اخبرني عبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عبد الله بن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يسدل شعره، وكان المشركون يفرقون رءوسهم، وكان اهل الكتاب يسدلون رءوسهم، وكان النبي صلى الله عليه وسلم يحب موافقة اهل الكتاب فيما لم يومر فيه بشىء، ثم فرق النبي صلى الله عليه وسلم راسه
مجھ سے زیاد بن ایوب نے بیان کیا کہا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا کہا، ہم کو ابوبشر (جابر بن ابی وحشیہ) نے خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ وہ اہل کتاب ہی تو ہیں جنہوں نے آسمانی کتاب کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، بعض باتوں پر ایمان لائے اور بعض باتوں کا انکار کیا۔
حدثني زياد بن ايوب، حدثنا هشيم، اخبرنا ابو بشر، عن سعيد بن جبير، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال هم اهل الكتاب، جزءوه اجزاء، فامنوا ببعضه وكفروا ببعضه. {يعني قول الله تعالى {الذين جعلوا القران عضين}
مجھ سے حسن بن شقیق نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا کہ میرے والد سلیمان بن طرخان نے بیان کیا (دوسری سند) اور ہم سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا کہا میں نے سنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے کہ ان کو کچھ اوپر دس آدمیوں نے ایک مالک سے ان کو دس سے زائد آدمیوں نے لیا، ایک مالک نے دوسرے مالک سے خریدا۔
حدثني الحسن بن عمر بن شقيق، حدثنا معتمر، قال ابي وحدثنا ابو عثمان، عن سلمان الفارسي، انه تداوله بضعة عشر من رب الى رب
ہم سے محمد بن یوسف بیکندی نے بیان کیا کہا، ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عوف اعرابی نے، ان سے ابوعثمان نہدی نے بیان کیا، کہا میں نے سلمان فارسی سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ میں رام ہرمز ( فارس میں ایک مقام ہے ) کا رہنے والا ہوں۔
حدثنا محمد بن يوسف، حدثنا سفيان، عن عوف، عن ابي عثمان، قال سمعت سلمان رضى الله عنه يقول انا من، رام هرمز
مجھ سے حسن بن مدرک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حماد نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوعوانہ نے خبر دی، انہیں عاصم احول نے، انہیں ابوعثمان نہدی نے اور ان سے سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میں «فترة» کا زمانہ ( یعنی جس میں کوئی پیغمبر نہیں آیا ) چھ سو برس کا وقفہ گزرا ہے۔
حدثني الحسن بن مدرك، حدثنا يحيى بن حماد، اخبرنا ابو عوانة، عن عاصم الاحول، عن ابي عثمان، عن سلمان، قال فترة بين عيسى ومحمد صلى الله عليه وسلم ستماية سنة