Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
مجھ سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے بیان کیا کہ خدیجہ رضی اللہ عنہا کی وفات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ کو ہجرت سے تین سال پہلے ہو گئی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کی وفات کے تقریباً دو سال بعد عائشہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا اس وقت ان کی عمر چھ سال تھی جب رخصتی ہوئی تو وہ نو سال کی تھیں۔
حدثني عبيد بن اسماعيل، حدثنا ابو اسامة، عن هشام، عن ابيه، قال توفيت خديجة قبل مخرج النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة بثلاث سنين، فلبث سنتين او قريبا من ذلك، ونكح عايشة وهى بنت ست سنين، ثم بنى بها وهى بنت تسع سنين
ہم سے (عبداللہ بن زبیر) حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابووائل شقیق بن سلمہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ہم خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے گئے تو انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم نے صرف اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر دے گا۔ پھر ہمارے بہت سے ساتھی اس دنیا سے اٹھ گئے اور انہوں نے ( دنیا میں ) اپنے اعمال کا پھل نہیں دیکھا۔ انہیں میں مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ احد کی لڑائی میں شہید کئے گئے تھے اور صرف ایک دھاری دار چادر چھوڑی تھی۔ ( کفن دیتے وقت ) جب ہم ان کی چادر سے ان کا سر ڈھانکتے تو پاؤں کھل جاتے اور پاؤں ڈھانکتے تو سر کھل جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ان کا سر ڈھانک دیں اور پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔ ( تاکہ چھپ جائیں ) اور ہم میں ایسے بھی ہیں کہ ( اس دنیا میں بھی ) ان کے اعمال کا میوہ پک گیا، پس وہ اس کو چن رہے ہیں۔
حدثنا الحميدي، حدثنا سفيان، حدثنا الاعمش، قال سمعت ابا وايل، يقول عدنا خبابا فقال هاجرنا مع النبي صلى الله عليه وسلم نريد وجه الله، فوقع اجرنا على الله، فمنا من مضى، لم ياخذ من اجره شييا، منهم مصعب بن عمير قتل يوم احد، وترك نمرة، فكنا اذا غطينا بها راسه بدت رجلاه، واذا غطينا رجليه بدا راسه، فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نغطي راسه، ونجعل على رجليه شييا من اذخر. ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے محمد بن ابراہیم نے، ان سے علقمہ بن ابی وقاص نے، بیان کیا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ اعمال نیت پر موقوف ہیں۔ پس جس کا مقصد، ہجرت سے دنیا کمانا ہو وہ اپنے اسی مقصد کو حاصل کر سکے گا یا مقصد، ہجرت سے کسی عورت سے شادی کرنا ہو تو وہ بھی اپنے مقصد تک پہنچ سکے گا۔ لیکن جن کا ہجرت سے مقصد، اللہ اور اس کے رسول کی رضا مندی ہو گی تو اسی کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے سمجھی جائے گی۔
حدثنا مسدد، حدثنا حماد هو ابن زيد عن يحيى، عن محمد بن ابراهيم، عن علقمة بن وقاص، قال سمعت عمر رضى الله عنه قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " الاعمال بالنية، فمن كانت هجرته الى دنيا يصيبها او امراة يتزوجها، فهجرته الى ما هاجر اليه، ومن كانت هجرته الى الله ورسوله، فهجرته الى الله ورسوله صلى الله عليه وسلم
مجھ سے اسحاق بن یزید دمشقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابوعمرو اوزاعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدہ بن ابی لبابہ نے بیان کیا، ان سے مجاہد بن جبر مکی نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ فتح مکہ کے بعد ( مکہ سے مدینہ کی طرف ) ہجرت باقی نہیں رہی۔
حدثني اسحاق بن يزيد الدمشقي، حدثنا يحيى بن حمزة، قال حدثني ابو عمرو الاوزاعي، عن عبدة بن ابي لبابة، عن مجاهد بن جبر المكي، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما كان يقول لا هجرة بعد الفتح
مجھ سے اوزاعی نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ عبید بن عمیر لیثی کے ساتھ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ہم نے ان سے فتح مکہ کے بعد ہجرت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک وقت تھا جب مسلمان اپنے دین کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف عہد کر کے آتا تھا۔ اس خطرہ کی وجہ سے کہ کہیں وہ فتنہ میں نہ پڑ جائے لیکن اب اللہ تعالیٰ نے اسلام کو غالب کر دیا ہے اور آج ( سر زمین عرب میں ) انسان جہاں بھی چاہے اپنے رب کی عبادت کر سکتا ہے، البتہ جہاد اور نیت ثواب باقی ہے۔
وحدثني الاوزاعي، عن عطاء بن ابي رباح، قال زرت عايشة مع عبيد بن عمير الليثي فسالناها عن الهجرة، فقالت لا هجرة اليوم، كان المومنون يفر احدهم بدينه الى الله تعالى والى رسوله صلى الله عليه وسلم مخافة ان يفتن عليه، فاما اليوم فقد اظهر الله الاسلام، واليوم يعبد ربه حيث شاء، ولكن جهاد ونية
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہشام نے بیان کیا کہ انہیں ان کے والد نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اے اللہ! تو جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے اور کوئی چیز پسندیدہ نہیں کہ تیرے راستے میں، میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی اور انہیں ( ان کے وطن مکہ سے ) نکالا۔ اے اللہ! لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان لڑائی کا سلسلہ ختم کر دیا ہے۔ اور ابان بن یزید نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ ( یہ الفاظ سعد رضی اللہ عنہ فرماتے تھے ) «من قوم كذبوا نبيك وأخرجوه من قريش.» یعنی جنہوں نے تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلایا، باہر نکال دیا۔ اس سے قریش کے کافر مراد ہیں۔
حدثني زكرياء بن يحيى، حدثنا ابن نمير، قال هشام فاخبرني ابي، عن عايشة رضى الله عنها ان سعدا، قال اللهم انك تعلم انه ليس احد احب الى ان اجاهدهم فيك من قوم كذبوا رسولك صلى الله عليه وسلم واخرجوه، اللهم فاني اظن انك قد وضعت الحرب بيننا وبينهم. وقال ابان بن يزيد حدثنا هشام عن ابيه اخبرتني عايشة من قوم كذبوا نبيك واخرجوه من قريش
ہم سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چالیس سال کی عمر میں رسول بنایا گیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر مکہ مکرمہ میں تیرہ سال تک وحی آتی رہی اس کے بعد آپ کو ہجرت کا حکم ہوا اور آپ نے ہجرت کی حالت میں دس سال گزارے۔ ( مدینہ میں ) جب آپ کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔
حدثنا مطر بن الفضل، حدثنا روح، حدثنا هشام، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم لاربعين سنة، فمكث بمكة ثلاث عشرة سنة يوحى اليه، ثم امر بالهجرة فهاجر عشر سنين، ومات وهو ابن ثلاث وستين
مجھ سے مطر بن فضل نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زکریا بن اسحاق نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کے بعد مکہ میں تیرہ سال قیام کیا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو آپ کی عمر تریسٹھ سال کی تھی۔
حدثني مطر بن الفضل، حدثنا روح بن عبادة، حدثنا زكرياء بن اسحاق، حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن عباس، قال مكث رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة ثلاث عشرة، وتوفي وهو ابن ثلاث وستين
ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے مالک نے بیان کیا، ان سے عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابوالنضر نے، ان سے عبید یعنی ابن حنین نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے، فرمایا ”اپنے ایک نیک بندے کو اللہ تعالیٰ نے اختیار دیا کہ دنیا کی نعمتوں میں سے جو وہ چاہے اسے اپنے لیے پسند کر لے یا جو اللہ تعالیٰ کے یہاں ہے ( آخرت میں ) اسے پسند کر لے۔ اس بندے نے اللہ تعالیٰ کے ہاں ملنے والی چیز کو پسند کر لیا۔“ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ رونے لگے اور عرض کیا ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ ( ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) ہمیں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اس رونے پر حیرت ہوئی، بعض لوگوں نے کہا اس بزرگ کو دیکھئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک بندے کے متعلق خبر دے رہے ہیں جسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں اور جو اللہ کے پاس ہے اس میں سے کسی کے پسند کرنے کا اختیار دیا تھا اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو ان دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار دیا گیا اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ہم میں سب سے زیادہ اس بات سے واقف تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی صحبت اور مال کے ذریعہ مجھ پر احسان کرنے والے ابوبکر ہیں۔ اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو اپنا خلیل بنا سکتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا البتہ اسلامی رشتہ ان کے ساتھ کافی ہے۔ مسجد میں کوئی دروازہ اب کھلا ہوا باقی نہ رکھا جائے سوائے ابوبکر کے گھر کی طرف کھلنے والے دروازے کے۔
حدثنا اسماعيل بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن عبيد يعني ابن حنين عن ابي سعيد الخدري، رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم جلس على المنبر فقال " ان عبدا خيره الله بين ان يوتيه من زهرة الدنيا ما شاء، وبين ما عنده، فاختار ما عنده ". فبكى ابو بكر وقال فديناك باباينا وامهاتنا. فعجبنا له، وقال الناس انظروا الى هذا الشيخ، يخبر رسول الله صلى الله عليه وسلم عن عبد خيره الله بين ان يوتيه من زهرة الدنيا وبين ما عنده وهو يقول فديناك باباينا وامهاتنا. فكان رسول الله صلى الله عليه وسلم هو المخير، وكان ابو بكر هو اعلمنا به. وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان من امن الناس على في صحبته وماله ابا بكر، ولو كنت متخذا خليلا من امتي لاتخذت ابا بكر، الا خلة الاسلام، لا يبقين في المسجد خوخة الا خوخة ابي بكر
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے عقیل نے کہ ابن شہاب نے بیان کیا، انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ جب سے میں نے ہوش سنبھالا میں نے اپنے ماں باپ کو دین اسلام ہی پر پایا اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا تھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر صبح و شام دونوں وقت تشریف نہ لاتے ہوں۔ پھر جب ( مکہ میں ) مسلمانوں کو ستایا جانے لگا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ حبشہ کی ہجرت کا ارادہ کر کے نکلے۔ جب آپ مقام برک غماد پر پہنچے تو آپ کی ملاقات ابن الدغنہ سے ہوئی جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا۔ اس نے پوچھا ابوبکر! کہاں کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ میری قوم نے مجھے نکال دیا ہے اب میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ ملک ملک کی سیاحت کروں ( اور آزادی کے ساتھ ) اپنے رب کی عبادت کروں۔ ابن الدغنہ نے کہا لیکن ابوبکر! تم جیسے انسان کو اپنے وطن سے نہ خود نکلنا چاہئے اور نہ اسے نکالا جانا چاہیے۔ تم محتاجوں کی مدد کرتے ہو، صلہ رحمی کرتے ہو، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتے ہو، مہمان نوازی کرتے ہو اور حق پر قائم رہنے کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتے ہو، میں تمہیں پناہ دیتا ہوں واپس چلو اور اپنے شہر ہی میں اپنے رب کی عبادت کرو۔ چنانچہ وہ واپس آ گئے اور ابن الدغنہ بھی آپ کے ساتھ واپس آیا۔ اس کے بعد ابن الدغنہ قریش کے تمام سرداروں کے یہاں شام کے وقت گیا اور سب سے اس نے کہا کہ ابوبکر جیسے شخص کو نہ خود نکلنا چاہیے اور نہ نکالا جانا چاہیے۔ کیا تم ایسے شخص کو نکال دو گے جو محتاجوں کی امداد کرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے، بے کسوں کا بوجھ اٹھاتا ہے، مہمان نوازی کرتا ہے اور حق کی وجہ سے کسی پر آنے والی مصیبتوں میں اس کی مدد کرتا ہے؟ قریش نے ابن الدغنہ کی پناہ سے انکار نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہہ دو کہ اپنے رب کی عبادت اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں، وہیں نماز پڑھیں اور جو جی چاہے وہیں پڑھیں، اپنی عبادات سے ہمیں تکلیف نہ پہنچائیں، اس کا اظہار نہ کریں کیونکہ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنہ میں نہ مبتلا ہو جائیں۔ یہ باتیں ابن الدغنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بھی آ کر کہہ دیں کچھ دنوں تک تو آپ اس پر قائم رہے اور اپنے گھر کے اندر ہی اپنے رب کی عبادت کرتے رہے، نہ نماز برسر عام پڑھتے اور نہ گھر کے سوا کسی اور جگہ تلاوت قرآن کرتے تھے لیکن پھر انہوں نے کچھ سوچا اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بنائی جہاں آپ نے نماز پڑھنی شروع کی اور تلاوت قرآن بھی وہیں کرنے لگے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہاں مشرکین کی عورتوں اور بچوں کا مجمع ہونے لگا۔ وہ سب حیرت اور پسندیدگی کے ساتھ دیکھتے رہا کرتے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے نرم دل انسان تھے۔ جب قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو آنسوؤں کو روک نہ سکتے تھے۔ اس صورت حال سے مشرکین قریش کے سردار گھبرا گئے اور انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا بھیجا جب ابن الدغنہ ان کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ہم نے ابوبکر کے لیے تمہاری پناہ اس شرط کے ساتھ تسلیم کی تھی کہ اپنے رب کی عبادت وہ اپنے گھر کے اندر کیا کریں لیکن انہوں نے شرط کی خلاف ورزی کی ہے اور اپنے گھر کے سامنے نماز پڑھنے کے لیے ایک جگہ بنا کر برسر عام نماز پڑھنے اور تلاوت قرآن کرنے لگے ہیں۔ ہمیں اس کا ڈر ہے کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے اس فتنے میں نہ مبتلا ہو جائیں اس لیے تم انہیں روک دو، اگر انہیں یہ شرط منظور ہو کہ اپنے رب کی عبادت صرف اپنے گھر کے اندر ہی کیا کریں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن اگر وہ اظہار ہی کریں تو ان سے کہو کہ تمہاری پناہ واپس دے دیں، کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ تمہاری دی ہوئی پناہ میں ہم دخل اندازی کریں لیکن ابوبکر کے اس اظہار کو بھی ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ابن الدغنہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے یہاں آیا اور اس نے کہا کہ جس شرط کے ساتھ میں نے آپ کے ساتھ عہد کیا تھا وہ آپ کو معلوم ہے، اب یا آپ اس شرط پر قائم رہیے یا پھر میرے عہد کو واپس کیجئے کیونکہ یہ مجھے گوارا نہیں کہ عرب کے کانوں تک یہ بات پہنچے کہ میں نے ایک شخص کو پناہ دی تھی۔ لیکن اس میں ( قریش کی طرف سے ) دخل اندازی کی گئی۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا میں تمہاری پناہ واپس کرتا ہوں اور اپنے رب عزوجل کی پناہ پر راضی اور خوش ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان دنوں مکہ میں تشریف رکھتے تھے۔ آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ تمہاری ہجرت کی جگہ مجھے خواب میں دکھائی گئی ہے وہاں کھجور کے باغات ہیں اور دو پتھریلے میدانوں کے درمیان واقع ہے، چنانچہ جنہیں ہجرت کرنی تھی انہوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور جو لوگ سر زمین حبشہ ہجرت کر کے چلے گئے تھے وہ بھی مدینہ چلے آئے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی مدینہ ہجرت کی تیاری شروع کر دی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کچھ دنوں کے لیے توقف کرو۔ مجھے توقع ہے کہ ہجرت کی اجازت مجھے بھی مل جائے گی۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: کیا واقعی آپ کو بھی اس کی توقع ہے، میرے باپ آپ پر فدا ہوں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت سفر کے خیال سے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور دو اونٹنیوں کو جو ان کے پاس تھیں کیکر کے پتے کھلا کر تیار کرنے لگے چار مہینے تک۔ ابن شہاب نے بیان کیا، ان سے عروہ نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، ایک دن ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر بیٹھے ہوئے تھے بھری دوپہر تھی کہ کسی نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سر پر رومال ڈالے تشریف لا رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول ہمارے یہاں اس وقت آنے کا نہیں تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بولے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ ایسے وقت میں آپ کسی خاص وجہ سے ہی تشریف لا رہے ہوں گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور اندر آنے کی اجازت چاہی ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آپ کو اجازت دی تو آپ اندر داخل ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا اس وقت یہاں سے تھوڑی دیر کے لیے سب کو اٹھا دو۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یہاں اس وقت تو سب گھر کے ہی آدمی ہیں، میرے باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد فرمایا کہ مجھے ہجرت کی اجازت دے دی گئی ہے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، یا رسول اللہ! کیا مجھے رفاقت سفر کا شرف حاصل ہو سکے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ان دونوں میں سے ایک اونٹنی آپ لے لیجئے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن قیمت سے، عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر ہم نے جلدی جلدی ان کے لیے تیاریاں شروع کر دیں اور کچھ توشہ ایک تھیلے میں رکھ دیا۔ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے اپنے پٹکے کے ٹکڑے کر کے تھیلے کا منہ اس سے باندھ دیا اور اسی وجہ سے انکا نام ذات النطاقین ( دو پٹکے والی ) پڑ گیا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جبل ثور کے غار میں پڑاؤ کیا اور تین راتیں گزاریں۔ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہما رات وہیں جا کر گزارا کرتے تھے، یہ نوجوان بہت سمجھدار تھے اور ذہین بےحد تھے۔ سحر کے وقت وہاں سے نکل آتے اور صبح سویرے ہی مکہ پہنچ جاتے جیسے وہیں رات گزری ہو۔ پھر جو کچھ یہاں سنتے اور جس کے ذریعہ ان حضرات کے خلاف کاروائی کے لیے کوئی تدبیر کی جاتی تو اسے محفوظ رکھتے اور جب اندھیرا چھا جاتا تو تمام اطلاعات یہاں آ کر پہنچاتے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ آپ ہر دو کے لیے قریب ہی دودھ دینے والی بکری چرایا کرتے تھے اور جب کچھ رات گزر جاتی تو اسے غار میں لاتے تھے۔ آپ اسی پر رات گزارتے اس دودھ کو گرم لوہے کے ذریعہ گرم کر لیا جاتا تھا۔ صبح منہ اندھیرے ہی عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ غار سے نکل آتے تھے ان تین راتوں میں روزانہ ان کا یہی دستور تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بنی الدیل جو بنی عبد بن عدی کی شاخ تھی، کے ایک شخص کو راستہ بتانے کے لیے اجرت پر اپنے ساتھ رکھا تھا۔ یہ شخص راستوں کا بڑا ماہر تھا۔ آل عاص بن وائل سہمی کا یہ حلیف بھی تھا اور کفار قریش کے دین پر قائم تھا۔ ان بزرگوں نے اس پر اعتماد کیا اور اپنے دونوں اونٹ اس کے حوالے کر دیئے۔ قرار یہ پایا تھا کہ تین راتیں گزار کر یہ شخص غار ثور میں ان سے ملاقات کرے۔ چنانچہ تیسری رات کی صبح کو وہ دونوں اونٹ لے کر ( آ گیا ) اب عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ اور یہ راستہ بتانے والا ان حضرات کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے ساحل کے راستے سے ہوتے ہوئے۔
ابن شہاب نے بیان کیا اور مجھے عبدالرحمٰن بن مالک مدلجی نے خبر دی، وہ سراقہ بن مالک بن جعشم کے بھتیجے ہیں کہ ان کے والد نے انہیں خبر دی اور انہوں نے سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور یہ پیش کش کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اگر کوئی شخص قتل کر دے یا قید کر لائے تو اسے ہر ایک کے بدلے میں ایک سو اونٹ دیئے جائیں گے۔ میں اپنی قوم بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان کا ایک آدمی سامنے آیا اور ہمارے قریب کھڑا ہو گیا۔ ہم ابھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس نے کہا سراقہ! ساحل پر میں ابھی چند سائے دیکھ کر آ رہا ہوں میرا خیال ہے کہ وہ محمد اور ان کے ساتھی ہی ہیں ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ۔ سراقہ رضی اللہ عنہ نے کہا میں سمجھ گیا اس کا خیال صحیح ہے لیکن میں نے اس سے کہا کہ وہ لوگ نہیں ہیں میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے ہمارے سامنے سے اسی طرف گئے ہیں۔ اس کے بعد میں مجلس میں تھوڑی دیر اور بیٹھا رہا اور پھر اٹھتے ہی گھر گیا اور لونڈی سے کہا کہ میرے گھوڑے کو لے کر ٹیلے کے پیچھے چلی جائے اور وہیں میرا انتظار کرے، اس کے بعد میں نے اپنا نیزہ اٹھایا اور گھر کی پشت کی طرف سے باہر نکل آیا میں نیزے کی نوک سے زمین پر لکیر کھینچتا ہوا چلا گیا اور اوپر کے حصے کو چھپائے ہوئے تھا۔ ( سراقہ یہ سب کچھ اس لیے کر رہا تھا کہ کسی کو خبر نہ ہو ورنہ وہ بھی میرے انعام میں شریک ہو جائے گا ) میں گھوڑے کے پاس آ کر اس پر سوار ہوا اور صبا رفتاری کے ساتھ اسے لے چلا، جتنی جلدی کے ساتھ بھی میرے لیے ممکن تھا، آخر میں نے ان کو پا ہی لیا۔ اسی وقت گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور مجھے زمین پر گرا دیا۔ لیکن میں کھڑا ہو گیا اور اپنا ہاتھ ترکش کی طرف بڑھایا اس میں سے تیر نکال کر میں نے فال نکالی کہ آیا میں انہیں نقصان پہنچا سکتا ہوں یا نہیں۔ فال ( اب بھی ) وہ نکلی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ لیکن میں دوبارہ اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور تیروں کے فال کی پرواہ نہیں کی۔ پھر میرا گھوڑا مجھے تیزی کے ساتھ دوڑائے لیے جا رہا تھا۔ آخر جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت سنی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف کوئی توجہ نہیں کر رہے تھے لیکن ابوبکر رضی اللہ عنہ باربار مڑ کر دیکھتے تھے، تو میرے گھوڑے کے آگے کے دونوں پاؤں زمین میں دھنس گئے جب وہ ٹخنوں تک دھنس گیا تو میں اس کے اوپر گر پڑا اور اسے اٹھنے کے لیے ڈانٹا میں نے اسے اٹھانے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے پاؤں زمین سے نہیں نکال سکا۔ بڑی مشکل سے جب اس نے پوری طرح کھڑے ہونے کی کوشش کی تو اس کے آگے کے پاؤں سے منتشر سا غبار اٹھ کر دھوئیں کی طرح آسمان کی طرف چڑھنے لگا۔ میں نے تیروں سے فال نکالی لیکن اس مرتبہ بھی وہی فال آئی جسے میں پسند نہیں کرتا تھا۔ اس وقت میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو امان کے لیے پکارا۔ میری آواز پر وہ لوگ کھڑے ہو گئے اور میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پاس آیا۔ ان تک برے ارادے کے ساتھ پہنچنے سے جس طرح مجھے روک دیا گیا تھا۔ اسی سے مجھے یقین ہو گیا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت غالب آ کر رہے گی۔ اس لیے میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ آپ کی قوم نے آپ کے مارنے کے لیے سو اونٹوں کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ پھر میں نے آپ کو قریش کے ارادوں کی اطلاع دی۔ میں نے ان حضرات کی خدمت میں کچھ توشہ اور سامان پیش کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قبول نہیں فرمایا مجھ سے کسی اور چیز کا بھی مطالبہ نہیں کیا صرف اتنا کہا کہ ہمارے متعلق راز داری سے کام لینا لیکن میں نے عرض کیا کہ آپ میرے لیے ایک امن کی تحریر لکھ دیجئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا اور انہوں نے چمڑے کے ایک رقعہ پر تحریر امن لکھ دی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ ابن شہاب نے بیان کیا اور انہیں عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات زبیر رضی اللہ عنہ سے ہوئی جو مسلمانوں کے ایک تجارتی قافلہ کے ساتھ شام سے واپس آ رہے تھے۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں سفید پوشاک پیش کی۔ ادھر مدینہ میں بھی مسلمانوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکہ سے ہجرت کی اطلاع ہو چکی تھی اور یہ لوگ روزانہ صبح کو مقام حرہ تک آتے اور انتظار کرتے رہتے لیکن دوپہر کی گرمی کی وجہ سے ( دوپہر کو ) انہیں واپس جانا پڑتا تھا۔ ایک دن جب بہت طویل انتظار کے بعد سب لوگ آ گئے اور اپنے گھر پہنچ گئے تو ایک یہودی اپنے ایک محل پر کچھ دیکھنے چڑھا۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو دیکھا سفید سفید چلے آ رہے ہیں۔ ( یا تیزی سے جلدی جلدی آ رہے ہیں ) جتنا آپ نزدیک ہو رہے تھے اتنی ہی دور سے پانی کی طرح ریتی کا چمکنا کم ہوتا جاتا۔ یہودی بے اختیار چلا اٹھا کہ اے عرب کے لوگو! تمہارے یہ بزرگ سردار آ گئے جن کا تمہیں انتظار تھا۔ مسلمان ہتھیار لے کر دوڑ پڑے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام حرہ پر استقبال کیا۔ آپ نے ان کے ساتھ داہنی طرف کا راستہ اختیار کیا اور بنی عمرو بن عوف کے محلہ میں قیام کیا۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ اور پیر کا دن تھا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ لوگوں سے ملنے کے لیے کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش بیٹھے رہے۔ انصار کے جن لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے نہیں دیکھا تھا، وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہی کو سلام کر رہے تھے۔ لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دھوپ پڑنے لگی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی چادر سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا۔ اس وقت سب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہچان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عمرو بن عوف میں تقریباً دس راتوں تک قیام کیا اور وہ مسجد ( قباء ) جس کی بنیاد تقویٰ پر قائم ہے وہ اسی دوران میں تعمیر ہوئی اور آپ نے اس میں نماز پڑھی پھر ( جمعہ کے دن ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے اور صحابہ بھی آپ کے ساتھ پیدل روانہ ہوئے۔ آخر آپ کی سواری مدینہ منورہ میں اس مقام پر آ کر بیٹھ گئی جہاں اب مسجد نبوی ہے۔ اس مقام پر چند مسلمان ان دنوں نماز ادا کیا کرتے تھے۔ یہ جگہ سہیل اور سہل ( رضی اللہ عنہما ) دو یتیم بچوں کی تھی اور کھجور کا یہاں کھلیان لگتا تھا۔ یہ دونوں بچے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی پرورش میں تھے جب آپ کی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان شاءاللہ یہی ہمارے قیام کی جگہ ہو گی۔ اس کے بعد آپ نے دونوں یتیم بچوں کو بلایا اور ان سے اس جگہ کا معاملہ کرنا چاہا تاکہ وہاں مسجد تعمیر کی جا سکے۔ دونوں بچوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! ہم یہ جگہ آپ کو مفت دے دیں گے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مفت طور پر قبول کرنے سے انکار کیا۔ زمین کی قیمت ادا کر کے لے لی اور وہیں مسجد تعمیر کی۔ اس کی تعمیر کے وقت خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صحابہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ اینٹوں کے ڈھونے میں شریک تھے۔ اینٹ ڈھوتے وقت آپ فرماتے جاتے تھے کہ ”یہ بوجھ خیبر کے بوجھ نہیں ہیں بلکہ اس کا اجر و ثواب اللہ کے یہاں باقی رہنے والا ہے اس میں بہت طہارت اور پاکی ہے“ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا فرماتے تھے کہ ”اے اللہ! اجر تو بس آخرت ہی کا ہے پس، تو انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔“ اس طرح آپ نے ایک مسلمان شاعر کا شعر پڑھا جن کا نام مجھے معلوم نہیں، ابن شہاب نے بیان کیا کہ احادیث سے ہمیں یہ اب تک معلوم نہیں ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شعر کے سوا کسی بھی شاعر کے پورے شعر کو کسی موقعہ پر پڑھا ہو۔
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد اور فاطمہ بنت منذر نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ مدینہ ہجرت کر کے جانے لگے تو میں نے آپ دونوں کے لیے ناشتہ تیار کیا۔ میں نے اپنے والد ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) سے کہا کہ میرے پٹکے کے سوا اور کوئی چیز اس وقت میرے پاس ایسی نہیں جس سے میں اس ناشتہ کو باندھ دوں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ پھر اس کے دو ٹکڑے کر لو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور اس وقت سے میرا نام ذات النطاقین ( دو پٹکوں والی ) ہو گیا اور ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اسماء کو «ذات النطاقين.» کہا۔
حدثنا عبد الله بن ابي شيبة، حدثنا ابو اسامة، حدثنا هشام، عن ابيه، وفاطمة، عن اسماء، رضى الله عنها صنعت سفرة للنبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر حين ارادا المدينة، فقلت لابي ما اجد شييا اربطه الا نطاقي. قال فشقيه. ففعلت، فسميت ذات النطاقين
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحاق نے، کہا میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سراقہ بن مالک بن جعشم نے آپ کا پیچھا کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے بددعا کی تو اس کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا۔ اس نے عرض کیا کہ میرے لیے اللہ سے دعا کیجئے ( کہ اس مصیبت سے نجات دے ) میں آپ کا کوئی نقصان نہیں کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا کی۔ ( اس کا گھوڑا زمین سے نکل آیا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک مرتبہ راستے میں پیاس معلوم ہوئی اتنے میں ایک چرواہا گزرا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے ایک پیالہ لیا اور اس میں ( ریوڑ کی ایک بکری کا ) تھوڑا سا دودھ دوہا، وہ دودھ میں نے آپ کی خدمت میں لا کر پیش کیا جسے آپ نے نوش فرمایا کہ مجھے خوشی حاصل ہوئی۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه قال لما اقبل النبي صلى الله عليه وسلم الى المدينة تبعه سراقة بن مالك بن جعشم، فدعا عليه النبي صلى الله عليه وسلم فساخت به فرسه. قال ادع الله لي ولا اضرك. فدعا له. قال فعطش رسول الله صلى الله عليه وسلم فمر براع، قال ابو بكر فاخذت قدحا فحلبت فيه كثبة من لبن، فاتيته فشرب حتى رضيت
مجھ سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ان کے پیٹ میں تھے، انہیں دنوں جب حمل کی مدت بھی پوری ہو چکی تھی، میں مدینہ کے لیے روانہ ہوئی یہاں پہنچ کر میں نے قباء میں پڑاؤ کیا اور یہیں عبداللہ رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے۔ پھر میں انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ کی گود میں اسے رکھ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور طلب فرمائی اور اسے چبا کر آپ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کے منہ میں اسے رکھ دیا۔ چنانچہ سب سے پہلی چیز جو عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پیٹ میں داخل ہوئی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک لعاب تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور اللہ سے ان کے لیے برکت طلب کی۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ سب سے پہلے بچے ہیں جن کی پیدائش ہجرت کے بعد ہوئی۔ زکریا کے ساتھ اس روایت کی متابعت خالد بن مخلد نے کی ہے۔ ان سے علی بن مسہر نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے ان کے والد نے اور ان سے اسماء رضی اللہ عنہا نے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کو نکلیں تھیں تو وہ حاملہ تھیں۔
حدثني زكرياء بن يحيى، عن ابي اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن اسماء رضى الله عنها انها حملت بعبد الله بن الزبير، قالت فخرجت وانا متم، فاتيت المدينة، فنزلت بقباء، فولدته بقباء، ثم اتيت به النبي صلى الله عليه وسلم فوضعته في حجره، ثم دعا بتمرة، فمضغها، ثم تفل في فيه، فكان اول شىء دخل جوفه ريق رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم حنكه بتمرة ثم دعا له وبرك عليه، وكان اول مولود ولد في الاسلام. تابعه خالد بن مخلد عن علي بن مسهر عن هشام عن ابيه عن اسماء رضى الله عنها انها هاجرت الى النبي صلى الله عليه وسلم وهى حبلى
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسامہ نے، ان سے ہشام بن عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ سب سے پہلا بچہ جو اسلام میں ( ہجرت کے بعد ) پیدا ہوا، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما ہیں۔ انہیں لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کھجور لے کر اسے چبایا پھر اس کو ان کے منہ میں ڈال دیا۔ اس لیے سب سے پہلی چیز جو ان کے پیٹ میں گئی وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا لعاب مبارک تھا۔
حدثنا قتيبة، عن ابي اسامة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها قالت اول مولود ولد في الاسلام عبد الله بن الزبير، اتوا به النبي صلى الله عليه وسلم فاخذ النبي صلى الله عليه وسلم تمرة فلاكها ثم ادخلها في فيه، فاول ما دخل بطنه ريق النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ بوڑھے ہو گئے تھے اور ان کو لوگ پہچانتے بھی تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابھی جوان معلوم ہوتے تھے اور آپ کو لوگ عام طور سے پہچانتے بھی نہ تھے۔ بیان کیا کہ اگر راستہ میں کوئی ملتا اور پوچھتا کہ اے ابوبکر! یہ تمہارے ساتھ کون صاحب ہیں؟ تو آپ جواب دیتے کہ یہ میرے ہادی ہیں، مجھے راستہ بتاتے ہیں پوچھنے والا یہ سمجھتا کہ مدینہ کا راستہ بتلانے والا ہے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مطلب اس کلام سے یہ تھا کہ آپ دین و ایمان کا راستہ بتلاتے ہیں۔ ایک مرتبہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پیچھے مڑے تو ایک سوار نظر آیا جو ان کے قریب آ چکا تھا۔ انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! یہ سوار آ گیا اور اب ہمارے قریب ہی پہنچنے والا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے مڑ کر دیکھا اور دعا فرمائی کہ اے اللہ! اسے گرا دے چنانچہ گھوڑی نے اسے گرا دیا۔ پھر جب وہ ہنہناتی ہوئی اٹھی تو سوار ( سراقہ ) نے کہا: اے اللہ کے نبی! آپ جو چاہیں مجھے حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جگہ کھڑا رہ اور دیکھ کسی کو ہماری طرف نہ آنے دینا۔ راوی نے بیان کیا کہ وہی شخص جو صبح آپ کے خلاف تھا شام جب ہوئی تو آپ کا وہ ہتھیار تھا دشمن کو آپ سے روکنے لگا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ پہنچ کر ) حرہ کے قریب اترے اور انصار کو بلا بھیجا۔ اکابر انصار آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں کو سلام کیا اور عرض کیا آپ سوار ہو جائیں آپ کی حفاظت اور فرمانبرداری کی جائے گی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ سوار ہو گئے اور ہتھیار بند انصار نے آپ دونوں کو حلقہ میں لے لیا۔ اتنے میں مدینہ میں بھی سب کو معلوم ہو گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا چکے ہیں سب لوگ آپ کو دیکھنے کے لیے بلندی پر چڑھ گئے اور کہنے لگے کہ اللہ کے نبی آ گئے۔ اللہ کے نبی آ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کی طرف چلتے رہے اور ( مدینہ پہنچ کر ) ابوایوب رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سواری سے اتر گئے۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ ( ایک یہودی عالم نے ) اپنے گھر والوں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر سنا، وہ اس وقت اپنے ایک کھجور کے باغ میں تھے اور کھجور جمع کر رہے تھے انہوں نے ( سنتے ہی ) بڑی جلدی کے ساتھ جو کچھ کھجور جمع کر چکے تھے اسے رکھ دینا چاہا جب آپ کی خدمت میں وہ حاضر ہوئے تو جمع شدہ کھجوریں ان کے ساتھ ہی تھیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سنیں اور اپنے گھر واپس چلے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے ( نانہالی ) اقارب میں کس کا گھر یہاں سے زیادہ قریب ہے؟ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرا اے اللہ کے نبی! یہ میرا گھر ہے اور یہ اس کا دروازہ ہے فرمایا ( اچھا تو جاؤ ) دوپہر کو آرام کرنے کی جگہ ہمارے لیے درست کرو ہم دوپہر کو وہیں آرام کریں گے۔ ابوایوب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر آپ دونوں تشریف لے چلیں، اللہ مبارک کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی ان کے گھر میں داخل ہوئے تھے کہ عبداللہ بن سلام بھی آ گئے اور کہا کہ ”میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں، اور یہودی میرے متعلق اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان کا سردار ہوں اور ان کے سردار کا بیٹا ہوں اور ان میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں اور ان کے سب سے بڑے عالم کا بیٹا ہوں، اس لیے آپ اس سے پہلے کہ میرے اسلام لانے کا خیال انہیں معلوم ہو، بلایئے اور ان سے میرے بارے میں دریافت فرمایئے، کیونکہ انہیں اگر معلوم ہو گیا کہ میں اسلام لا چکا ہوں تو میرے متعلق غلط باتیں کہنی شروع کر دیں گے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلا بھیجا اور جب وہ آپ کی خدمت حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اے یہودیو! افسوس تم پر، اللہ سے ڈرو، اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول برحق ہوں اور یہ بھی کہ میں تمہارے پاس حق لے کر آیا ہوں، پھر اب اسلام میں داخل ہو جاؤ، انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح تین مرتبہ کہا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اچھا عبداللہ بن سلام تم میں کون صاحب ہیں؟ انہوں نے کہا ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے، ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے اور ہمارے سب سے بڑے عالم کے بیٹے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر وہ اسلام لے آئیں۔ پھر تمہارا کیا خیال ہو گا۔ کہنے لگے اللہ ان کی حفاظت کرے، وہ اسلام کیوں لانے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابن سلام! اب ان کے سامنے آ جاؤ۔ عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ باہر آ گئے اور کہا: اے یہود! اللہ سے ڈرو، اس اللہ کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تمہیں خوب معلوم ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور یہ کہ آپ حق کے ساتھ مبعوث ہوئے ہیں۔ یہودیوں نے کہا تم جھوٹے ہو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے باہر چلے جانے کے لیے فرمایا۔
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشام نے خبر دی، ان سے ابن جریج نے بیان کیا، کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عمر نے خبر دی، انہیں نافع نے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور وہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے، فرمایا آپ نے تمام مہاجرین اولین کا وظیفہ ( اپنے عہد خلافت میں ) چار چار ہزار چار چار قسطوں میں مقرر کر دیا تھا، لیکن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا وظیفہ چار قسطوں میں ساڑھے تین ہزار تھا اس پر ان سے پوچھا گیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی مہاجرین میں سے ہیں۔ پھر آپ انہیں چار ہزار سے کم کیوں دیتے ہیں؟ تو عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ انہیں ان کے والدین ہجرت کر کے یہاں لائے تھے۔ اس لیے وہ ان مہاجرین کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے خود ہجرت کی تھی۔
حدثنا ابراهيم بن موسى، اخبرنا هشام، عن ابن جريج، قال اخبرني عبيد الله بن عمر، عن نافع يعني، عن ابن عمر، عن عمر بن الخطاب، رضى الله عنه قال كان فرض للمهاجرين الاولين اربعة الاف في اربعة، وفرض لابن عمر ثلاثة الاف وخمسماية فقيل له هو من المهاجرين، فلم نقصته من اربعة الاف فقال انما هاجر به ابواه. يقول ليس هو كمن هاجر بنفسه
ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا، کہا ہم کو سفیان نے خبر دی انہیں اعمش نے، انہیں ابووائل شقیق بن سلمہ نے اور ان سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تھی۔
حدثنا محمد بن كثير، اخبرنا سفيان، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن خباب، قال هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے شقیق بن سلمہ سے سنا، کہا کہ ہم سے خباب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو ہمارا مقصد صرف اللہ کی رضا تھی اور اللہ تعالیٰ ہمیں اس کا اجر بھی ضرور دے گا۔ پس ہم میں سے بعض تو پہلے ہی اس دنیا سے اٹھ گئے۔ اور یہاں اپنا کوئی بدلہ انہوں نے نہیں پایا۔ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ بھی انہیں میں سے ہیں۔ احد کی لڑائی میں انہوں نے شہادت پائی۔ اور ان کے کفن کے لیے ہمارے پاس ایک کمبل کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اور وہ بھی ایسا کہ اگر اس سے ہم ان کا سر چھپاتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔ اور اگر پاؤں چھپاتے تو سر کھلا رہ جاتا۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کا سر چھپا دیا جائے اور پاؤں کو اذخر گھاس سے چھپا دیا جائے۔ اور ہم میں بعض وہ ہیں جنہوں نے اپنے عمل کا پھل اس دنیا میں پختہ کر لیا۔ اور اب وہ اس کو خوب چن رہے ہیں۔
وحدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن الاعمش، قال سمعت شقيق بن سلمة، قال حدثنا خباب، قال هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم نبتغي وجه الله، ووجب اجرنا على الله، فمنا من مضى لم ياكل من اجره شييا، منهم مصعب بن عمير، قتل يوم احد فلم نجد شييا نكفنه فيه، الا نمرة كنا اذا غطينا بها راسه خرجت رجلاه، فاذا غطينا رجليه خرج راسه، فامرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ان نغطي راسه بها، ونجعل على رجليه من اذخر، ومنا من اينعت له ثمرته فهو يهدبها
ہم سے یحییٰ بن بشر نے بیان کیا، کہا ہم سے روح نے بیان کیا، ان سے عوف نے بیان کیا، ان سے معاویہ بن قرہ نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے پوچھا، کیا تم کو معلوم ہے کہ میرے والد عمر رضی اللہ عنہ نے تمہارے والد ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو کیا جواب دیا تھا؟ انہوں نے کہا نہیں، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تم اس پر راضی ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمارا اسلام، آپ کے ساتھ ہماری ہجرت، آپ کے ساتھ ہمارا جہاد ہمارے تمام عمل جو ہم نے آپ کی زندگی میں کئے ہیں ان کے بدلہ میں ہم اپنے ان اعمال سے نجات پا جائیں جو ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں گو وہ نیک بھی ہوں بس برابری پر معاملہ ختم ہو جائے۔ اس پر آپ کے والد نے میرے والد سے کہا اللہ کی قسم! میں اس پر راضی نہیں ہوں ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی جہاد کیا، نمازیں پڑھیں، روزے رکھے اور بہت سے اعمال خیر کئے اور ہمارے ہاتھ پر ایک مخلوق نے اسلام قبول کیا، ہم تو اس کے ثواب کی بھی امید رکھتے ہیں اس پر میرے والد نے کہا ( خیر ابھی تم سمجھو ) لیکن جہاں تک میرا سوال ہے تو اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری خواہش ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں کئے ہوئے ہمارے اعمال محفوظ رہے ہوں اور جتنے اعمال ہم نے آپ کے بعد کئے ہیں ان سب سے اس کے بدلہ میں ہم نجات پا جائیں اور برابر پر معاملہ ختم ہو جائے۔ ابوبردہ کہتے ہیں اس پر میں نے کہا: اللہ کی قسم! آپ کے والد ( عمر رضی اللہ عنہ ) میرے والد ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) سے بہتر تھے۔
حدثنا يحيى بن بشر، حدثنا روح، حدثنا عوف، عن معاوية بن قرة، قال حدثني ابو بردة بن ابي موسى الاشعري، قال قال لي عبد الله بن عمر هل تدري ما قال ابي لابيك قال قلت لا. قال فان ابي قال لابيك يا ابا موسى، هل يسرك اسلامنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وهجرتنا معه، وجهادنا معه، وعملنا كله معه، برد لنا، وان كل عمل عملناه بعده نجونا منه كفافا راسا براس فقال ابي لا والله، قد جاهدنا بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم وصلينا، وصمنا، وعملنا خيرا كثيرا، واسلم على ايدينا بشر كثير، وانا لنرجو ذلك. فقال ابي لكني انا والذي نفس عمر بيده لوددت ان ذلك برد لنا، وان كل شىء عملناه بعد نجونا منه كفافا راسا براس. فقلت ان اباك والله خير من ابي
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، قال ابن شهاب فاخبرني عروة بن الزبير، ان عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم قالت لم اعقل ابوى قط الا وهما يدينان الدين، ولم يمر علينا يوم الا ياتينا فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم طرفى النهار بكرة وعشية، فلما ابتلي المسلمون خرج ابو بكر مهاجرا نحو ارض الحبشة، حتى بلغ برك الغماد لقيه ابن الدغنة وهو سيد القارة. فقال اين تريد يا ابا بكر فقال ابو بكر اخرجني قومي، فاريد ان اسيح في الارض واعبد ربي. قال ابن الدغنة فان مثلك يا ابا بكر لا يخرج ولا يخرج، انك تكسب المعدوم، وتصل الرحم وتحمل الكل، وتقري الضيف، وتعين على نوايب الحق، فانا لك جار، ارجع واعبد ربك ببلدك. فرجع وارتحل معه ابن الدغنة، فطاف ابن الدغنة عشية في اشراف قريش، فقال لهم ان ابا بكر لا يخرج مثله ولا يخرج، اتخرجون رجلا يكسب المعدوم، ويصل الرحم، ويحمل الكل، ويقري الضيف، ويعين على نوايب الحق فلم تكذب قريش بجوار ابن الدغنة، وقالوا لابن الدغنة مر ابا بكر فليعبد ربه في داره، فليصل فيها وليقرا ما شاء، ولا يوذينا بذلك، ولا يستعلن به، فانا نخشى ان يفتن نساءنا وابناءنا. فقال ذلك ابن الدغنة لابي بكر، فلبث ابو بكر بذلك يعبد ربه في داره، ولا يستعلن بصلاته، ولا يقرا في غير داره، ثم بدا لابي بكر فابتنى مسجدا بفناء داره وكان يصلي فيه ويقرا القران، فينقذف عليه نساء المشركين وابناوهم، وهم يعجبون منه، وينظرون اليه، وكان ابو بكر رجلا بكاء، لا يملك عينيه اذا قرا القران، وافزع ذلك اشراف قريش من المشركين، فارسلوا الى ابن الدغنة، فقدم عليهم. فقالوا انا كنا اجرنا ابا بكر بجوارك، على ان يعبد ربه في داره، فقد جاوز ذلك، فابتنى مسجدا بفناء داره، فاعلن بالصلاة والقراءة فيه، وانا قد خشينا ان يفتن نساءنا وابناءنا فانهه، فان احب ان يقتصر على ان يعبد ربه في داره فعل، وان ابى الا ان يعلن بذلك فسله ان يرد اليك ذمتك، فانا قد كرهنا ان نخفرك، ولسنا مقرين لابي بكر الاستعلان. قالت عايشة فاتى ابن الدغنة الى ابي بكر فقال قد علمت الذي عاقدت لك عليه، فاما ان تقتصر على ذلك، واما ان ترجع الى ذمتي، فاني لا احب ان تسمع العرب اني اخفرت في رجل عقدت له. فقال ابو بكر فاني ارد اليك جوارك وارضى بجوار الله عز وجل. والنبي صلى الله عليه وسلم يوميذ بمكة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم للمسلمين " اني اريت دار هجرتكم ذات نخل بين لابتين ". وهما الحرتان، فهاجر من هاجر قبل المدينة، ورجع عامة من كان هاجر بارض الحبشة الى المدينة، وتجهز ابو بكر قبل المدينة، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم " على رسلك، فاني ارجو ان يوذن لي ". فقال ابو بكر وهل ترجو ذلك بابي انت قال " نعم ". فحبس ابو بكر نفسه على رسول الله صلى الله عليه وسلم ليصحبه، وعلف راحلتين كانتا عنده ورق السمر وهو الخبط اربعة اشهر. قال ابن شهاب قال عروة قالت عايشة فبينما نحن يوما جلوس في بيت ابي بكر في نحر الظهيرة قال قايل لابي بكر هذا رسول الله صلى الله عليه وسلم متقنعا في ساعة لم يكن ياتينا فيها فقال ابو بكر فداء له ابي وامي، والله ما جاء به في هذه الساعة الا امر. قالت فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فاستاذن، فاذن له فدخل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لابي بكر " اخرج من عندك ". فقال ابو بكر انما هم اهلك بابي انت يا رسول الله. قال " فاني قد اذن لي في الخروج ". فقال ابو بكر الصحابة بابي انت يا رسول الله. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " نعم ". قال ابو بكر فخذ بابي انت يا رسول الله احدى راحلتى هاتين. قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " بالثمن ". قالت عايشة فجهزناهما احث الجهاز، وصنعنا لهما سفرة في جراب، فقطعت اسماء بنت ابي بكر قطعة من نطاقها فربطت به على فم الجراب، فبذلك سميت ذات النطاق قالت ثم لحق رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر بغار في جبل ثور فكمنا فيه ثلاث ليال، يبيت عندهما عبد الله بن ابي بكر وهو غلام شاب ثقف لقن، فيدلج من عندهما بسحر، فيصبح مع قريش بمكة كبايت، فلا يسمع امرا يكتادان به الا وعاه، حتى ياتيهما بخبر ذلك حين يختلط الظلام، ويرعى عليهما عامر بن فهيرة مولى ابي بكر منحة من غنم، فيريحها عليهما حين يذهب ساعة من العشاء، فيبيتان في رسل وهو لبن منحتهما ورضيفهما، حتى ينعق بها عامر بن فهيرة بغلس، يفعل ذلك في كل ليلة من تلك الليالي الثلاث، واستاجر رسول الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر رجلا من بني الديل، وهو من بني عبد بن عدي هاديا خريتا والخريت الماهر بالهداية قد غمس حلفا في ال العاص بن وايل السهمي، وهو على دين كفار قريش فامناه، فدفعا اليه راحلتيهما، وواعداه غار ثور بعد ثلاث ليال براحلتيهما صبح ثلاث، وانطلق معهما عامر بن فهيرة والدليل فاخذ بهم طريق السواحل
قال ابن شهاب واخبرني عبد الرحمن بن مالك المدلجي وهو ابن اخي سراقة بن مالك بن جعشم ان اباه، اخبره انه، سمع سراقة بن جعشم، يقول جاءنا رسل كفار قريش يجعلون في رسول الله صلى الله عليه وسلم وابي بكر دية كل واحد منهما، من قتله او اسره، فبينما انا جالس في مجلس من مجالس قومي بني مدلج اقبل رجل منهم حتى قام علينا ونحن جلوس، فقال يا سراقة، اني قد رايت انفا اسودة بالساحل اراها محمدا واصحابه. قال سراقة فعرفت انهم هم، فقلت له انهم ليسوا بهم، ولكنك رايت فلانا وفلانا انطلقوا باعيننا. ثم لبثت في المجلس ساعة، ثم قمت فدخلت فامرت جاريتي ان تخرج بفرسي وهى من وراء اكمة فتحبسها على، واخذت رمحي، فخرجت به من ظهر البيت، فحططت بزجه الارض، وخفضت عاليه حتى اتيت فرسي فركبتها، فرفعتها تقرب بي حتى دنوت منهم، فعثرت بي فرسي، فخررت عنها فقمت، فاهويت يدي الى كنانتي فاستخرجت منها الازلام، فاستقسمت بها اضرهم ام لا فخرج الذي اكره، فركبت فرسي، وعصيت الازلام، تقرب بي حتى اذا سمعت قراءة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو لا يلتفت، وابو بكر يكثر الالتفات ساخت يدا فرسي في الارض حتى بلغتا الركبتين، فخررت عنها ثم زجرتها فنهضت، فلم تكد تخرج يديها، فلما استوت قايمة، اذا لاثر يديها عثان ساطع في السماء مثل الدخان، فاستقسمت بالازلام، فخرج الذي اكره، فناديتهم بالامان فوقفوا، فركبت فرسي حتى جيتهم، ووقع في نفسي حين لقيت ما لقيت من الحبس عنهم ان سيظهر امر رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت له ان قومك قد جعلوا فيك الدية. واخبرتهم اخبار ما يريد الناس بهم، وعرضت عليهم الزاد والمتاع، فلم يرزاني ولم يسالاني الا ان قال اخف عنا. فسالته ان يكتب لي كتاب امن، فامر عامر بن فهيرة، فكتب في رقعة من اديم، ثم مضى رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال ابن شهاب فاخبرني عروة بن الزبير ان رسول الله صلى الله عليه وسلم لقي الزبير في ركب من المسلمين كانوا تجارا قافلين من الشام، فكسا الزبير رسول الله صلى الله عليه وسلم وابا بكر ثياب بياض، وسمع المسلمون بالمدينة مخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم من مكة، فكانوا يغدون كل غداة الى الحرة فينتظرونه، حتى يردهم حر الظهيرة، فانقلبوا يوما بعد ما اطالوا انتظارهم، فلما اووا الى بيوتهم، اوفى رجل من يهود على اطم من اطامهم لامر ينظر اليه، فبصر برسول الله صلى الله عليه وسلم واصحابه مبيضين يزول بهم السراب، فلم يملك اليهودي ان قال باعلى صوته يا معاشر العرب هذا جدكم الذي تنتظرون. فثار المسلمون الى السلاح، فتلقوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بظهر الحرة، فعدل بهم ذات اليمين حتى نزل بهم في بني عمرو بن عوف، وذلك يوم الاثنين من شهر ربيع الاول، فقام ابو بكر للناس، وجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم صامتا، فطفق من جاء من الانصار ممن لم ير رسول الله صلى الله عليه وسلم يحيي ابا بكر، حتى اصابت الشمس رسول الله صلى الله عليه وسلم فاقبل ابو بكر حتى ظلل عليه بردايه، فعرف الناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك، فلبث رسول الله صلى الله عليه وسلم في بني عمرو بن عوف بضع عشرة ليلة واسس المسجد الذي اسس على التقوى، وصلى فيه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم ركب راحلته فسار يمشي معه الناس حتى بركت عند مسجد الرسول صلى الله عليه وسلم بالمدينة، وهو يصلي فيه يوميذ رجال من المسلمين، وكان مربدا للتمر لسهيل وسهل غلامين يتيمين في حجر اسعد بن زرارة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين بركت به راحلته " هذا ان شاء الله المنزل ". ثم دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم الغلامين، فساومهما بالمربد ليتخذه مسجدا، فقالا لا بل نهبه لك يا رسول الله، ثم بناه مسجدا، وطفق رسول الله صلى الله عليه وسلم ينقل معهم اللبن في بنيانه، ويقول وهو ينقل اللبن " هذا الحمال لا حمال خيبر هذا ابر ربنا واطهر ". ويقول " اللهم ان الاجر اجر الاخره فارحم الانصار والمهاجره ". فتمثل بشعر رجل من المسلمين لم يسم لي. قال ابن شهاب ولم يبلغنا في الاحاديث ان رسول الله صلى الله عليه وسلم تمثل ببيت شعر تام غير هذه الايات
حدثني محمد، حدثنا عبد الصمد، حدثنا ابي، حدثنا عبد العزيز بن صهيب، حدثنا انس بن مالك رضى الله عنه قال اقبل نبي الله صلى الله عليه وسلم الى المدينة وهو مردف ابا بكر، وابو بكر شيخ يعرف، ونبي الله صلى الله عليه وسلم شاب لا يعرف، قال فيلقى الرجل ابا بكر فيقول يا ابا بكر، من هذا الرجل الذي بين يديك فيقول هذا الرجل يهديني السبيل. قال فيحسب الحاسب انه انما يعني الطريق، وانما يعني سبيل الخير، فالتفت ابو بكر، فاذا هو بفارس قد لحقهم، فقال يا رسول الله، هذا فارس قد لحق بنا. فالتفت نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال " اللهم اصرعه ". فصرعه الفرس، ثم قامت تحمحم فقال يا نبي الله مرني بما شيت. قال " فقف مكانك، لا تتركن احدا يلحق بنا ". قال فكان اول النهار جاهدا على نبي الله صلى الله عليه وسلم، وكان اخر النهار مسلحة له، فنزل رسول الله صلى الله عليه وسلم جانب الحرة، ثم بعث الى الانصار، فجاءوا الى نبي الله صلى الله عليه وسلم فسلموا عليهما، وقالوا اركبا امنين مطاعين. فركب نبي الله صلى الله عليه وسلم وابو بكر، وحفوا دونهما بالسلاح، فقيل في المدينة جاء نبي الله، جاء نبي الله صلى الله عليه وسلم. فاشرفوا ينظرون ويقولون جاء نبي الله، جاء نبي الله. فاقبل يسير حتى نزل جانب دار ابي ايوب، فانه ليحدث اهله، اذ سمع به عبد الله بن سلام وهو في نخل لاهله يخترف لهم، فعجل ان يضع الذي يخترف لهم فيها، فجاء وهى معه، فسمع من نبي الله صلى الله عليه وسلم ثم رجع الى اهله، فقال نبي الله صلى الله عليه وسلم " اى بيوت اهلنا اقرب ". فقال ابو ايوب انا يا نبي الله، هذه داري، وهذا بابي. قال " فانطلق فهيي لنا مقيلا ". قال قوما على بركة الله. فلما جاء نبي الله صلى الله عليه وسلم جاء عبد الله بن سلام فقال اشهد انك رسول الله، وانك جيت بحق، وقد علمت يهود اني سيدهم وابن سيدهم، واعلمهم وابن اعلمهم، فادعهم فاسالهم عني قبل ان يعلموا اني قد اسلمت، فانهم ان يعلموا اني قد اسلمت قالوا في ما ليس في. فارسل نبي الله صلى الله عليه وسلم فاقبلوا فدخلوا عليه. فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم " يا معشر اليهود، ويلكم اتقوا الله، فوالله الذي لا اله الا هو انكم لتعلمون اني رسول الله حقا، واني جيتكم بحق فاسلموا ". قالوا ما نعلمه. قالوا للنبي صلى الله عليه وسلم قالها ثلاث مرار. قال " فاى رجل فيكم عبد الله بن سلام ". قالوا ذاك سيدنا وابن سيدنا، واعلمنا وابن اعلمنا. قال " افرايتم ان اسلم ". قالوا حاشا لله، ما كان ليسلم. قال " افرايتم ان اسلم ". قالوا حاشا لله، ما كان ليسلم. قال " يا ابن سلام، اخرج عليهم ". فخرج فقال يا معشر اليهود، اتقوا الله، فوالله الذي لا اله الا هو انكم لتعلمون انه رسول الله، وانه جاء بحق. فقالوا كذبت. فاخرجهم رسول الله صلى الله عليه وسلم