Loading...

Loading...
کتب
۱۷۳ احادیث
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے حمید طویل نے، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا آپ نے فرمایا کہ انصار غزوہ خندق کے موقعہ پر ( خندق کھودتے ہوئے ) یہ شعر پڑھتے تھے «نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا أبدا» ”ہم وہ ہیں جنہوں نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جہاد پر بیعت کی ہے، جب تک ہماری جان میں جان ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( جب یہ سنا تو ) اس کے جواب میں یوں فرمایا «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں ہے، پس انصار اور مہاجرین پر اپنا فضل و کرم فرما۔“
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، عن حميد الطويل، سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال كانت الانصار يوم الخندق تقول نحن الذين بايعوا محمدا على الجهاد ما حيينا ابدا فاجابهم اللهم لا عيش الا عيش الاخره فاكرم الانصار والمهاجره
مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن حازم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے اور ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے تو ہم خندق کھود رہے تھے اور اپنے کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے۔ اس وقت آپ نے یہ دعا فرمائی «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للمهاجرين والأنصار .» ”اے اللہ! آخرت کی زندگی کے سوا اور کوئی زندگی حقیقی زندگی نہیں، پس انصار اور مہاجرین کی تو مغفرت فرما۔“
حدثني محمد بن عبيد الله، حدثنا ابن ابي حازم، عن ابيه، عن سهل، قال جاءنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نحفر الخندق وننقل التراب على اكتادنا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اللهم لا عيش الا عيش الاخره فاغفر للمهاجرين والانصار
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن داود نے بیان کیا، ان سے فضیل بن غزوان نے، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ ایک صاحب ( خود ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی مراد ہیں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھوکے حاضر ہوئے، آپ نے انہیں ازواج مطہرات کے یہاں بھیجا۔ ( تاکہ ان کو کھانا کھلا دیں ) ازواج مطہرات نے کہلا بھیجا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کی کون مہمانی کرے گا؟ ایک انصاری صحابی بولے میں کروں گا۔ چنانچہ وہ ان کو اپنے گھر لے گئے اور اپنی بیوی سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مہمان کی خاطر تواضع کر، بیوی نے کہا کہ گھر میں بچوں کے کھانے کے سوا اور کوئی چیز بھی نہیں ہے، انہوں نے کہا جو کچھ بھی ہے اسے نکال دو اور چراغ جلا لو اور بچے اگر کھانا مانگتے ہیں تو انہیں سلا دو۔ بیوی نے کھانا نکال دیا اور چراغ جلا دیا اور اپنے بچوں کو ( بھوکا ) سلا دیا، پھر وہ دکھا تو یہ رہی تھیں جیسے چراغ درست کر رہی ہوں لیکن انہوں نے اسے بجھا دیا، اس کے بعد دونوں میاں بیوی مہمان پر ظاہر کرنے لگے کہ گویا وہ بھی ان کے ساتھ کھا رہے ہیں، لیکن ان دونوں نے ( اپنے بچوں سمیت رات ) فاقہ سے گزار دی، صبح کے وقت جب وہ صحابی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم دونوں میاں بیوی کے نیک عمل پر رات کو اللہ تعالیٰ ہنس پڑا یا ( یہ فرمایا کہ اسے ) پسند کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ويؤثرون على أنفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فأولئك هم المفلحون» ”اور وہ ( انصار ) ترجیح دیتے ہیں اپنے نفسوں کے اوپر ( دوسرے غریب صحابہ کو ) اگرچہ وہ خود بھی فاقہ ہی میں ہوں اور جو اپنی طبیعت کے بخل سے محفوظ رکھا گیا سو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“
حدثنا مسدد، حدثنا عبد الله بن داود، عن فضيل بن غزوان، عن ابي حازم، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم فبعث الى نسايه فقلن ما معنا الا الماء. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يضم، او يضيف هذا ". فقال رجل من الانصار انا. فانطلق به الى امراته، فقال اكرمي ضيف رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت ما عندنا الا قوت صبياني. فقال هييي طعامك، واصبحي سراجك، ونومي صبيانك اذا ارادوا عشاء. فهيات طعامها واصبحت سراجها، ونومت صبيانها، ثم قامت كانها تصلح سراجها فاطفاته، فجعلا يريانه انهما ياكلان، فباتا طاويين، فلما اصبح، غدا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " ضحك الله الليلة او عجب من فعالكما " فانزل الله {ويوثرون على انفسهم ولو كان بهم خصاصة ومن يوق شح نفسه فاوليك هم المفلحون}
مجھ سے ابوعلی محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدان کے بھائی شاذان نے بیان کیا، کہا مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا، ہمیں شعبہ بن حجاج نے خبر دی، ان سے ہشام بن زید نے بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ ابوبکر اور عباس رضی اللہ عنہما انصار کی ایک مجلس سے گزرے، دیکھا کہ تمام اہل مجلس رو رہے ہیں، پوچھا آپ لوگ کیوں رو رہے ہیں؟ مجلس والوں نے کہا کہ ابھی ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کو یاد کر رہے تھے جس میں ہم بیٹھا کرتے تھے ( یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض الوفات کا واقعہ ہے ) اس کے بعد یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ کی اطلاع دی، بیان کیا کہ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، سر مبارک پر کپڑے کی پٹی بندھی ہوئی تھی، راوی نے بیان کیا کہ پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور اس کے بعد پھر کبھی منبر پر آپ تشریف نہ لا سکے، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا میں تمہیں انصار کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ میرے جسم و جان ہیں، انہوں نے اپنی تمام ذمہ داریاں پوری کی ہیں لیکن اس کا بدلہ جو انہیں ملنا چاہیے تھا، وہ ملنا ابھی باقی ہے، اس لیے تم لوگ بھی ان کے نیک لوگوں کی نیکیوں کی قدر کرنا اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرتے رہنا۔
حدثني محمد بن يحيى ابو علي، حدثنا شاذان، اخو عبدان حدثنا ابي، اخبرنا شعبة بن الحجاج، عن هشام بن زيد، قال سمعت انس بن مالك، يقول مر ابو بكر والعباس رضى الله عنهما بمجلس من مجالس الانصار وهم يبكون، فقال ما يبكيكم قالوا ذكرنا مجلس النبي صلى الله عليه وسلم منا. فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم فاخبره بذلك قال فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وقد عصب على راسه حاشية برد قال فصعد المنبر ولم يصعده بعد ذلك اليوم، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال " اوصيكم بالانصار، فانهم كرشي وعيبتي، وقد قضوا الذي عليهم، وبقي الذي لهم، فاقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسييهم
ہم سے احمد بن یعقوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے ابن غسیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے عکرمہ سے سنا، کہا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں شانوں پر چادر اوڑھے ہوئے تھے، اور ( سر مبارک پر ) ایک سیاہ پٹی ( بندھی ہوئی تھی ) آپ منبر پر بیٹھ گئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا: امابعد اے لوگو! دوسروں کی تو بہت کثرت ہو جائے گی لیکن انصار کم ہو جائیں گے اور وہ ایسے ہو جائیں گے جیسے کھانے میں نمک ہوتا ہے، پس تم میں سے جو شخص بھی کسی ایسے محکمہ میں حاکم ہو جس کے ذریعہ کسی کو نقصان و نفع پہنچا سکتا ہو تو اسے انصار کے نیکو کاروں کی پذیرائی کرنی چاہیے۔ اور ان کے خطا کاروں سے درگزر کرنا چاہیے۔
حدثنا احمد بن يعقوب، حدثنا ابن الغسيل، سمعت عكرمة، يقول سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يقول خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم وعليه ملحفة، متعطفا بها على منكبيه، وعليه عصابة دسماء حتى جلس على المنبر، فحمد الله واثنى عليه، ثم قال " اما بعد، ايها الناس، فان الناس يكثرون وتقل الانصار، حتى يكونوا كالملح في الطعام، فمن ولي منكم امرا يضر فيه احدا او ينفعه، فليقبل من محسنهم، ويتجاوز عن مسييهم
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا اور انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار میرے جسم و جان ہیں، ایک دور آئے گا کہ دوسرے لوگ تو بہت ہو جائیں گے، لیکن انصار کم رہ جائیں گے، اس لیے ان کے نیکو کاروں کی پذیرائی کیا کرنا، اور خطا کاروں سے درگزر کیا کرنا۔“
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، قال سمعت قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " الانصار كرشي وعيبتي، والناس سيكثرون ويقلون، فاقبلوا من محسنهم، وتجاوزوا عن مسييهم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا کہا مجھ سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابواسحٰق نے کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہدیہ میں ایک ریشمی حلہ آیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی نرمی اور نزاکت پر تعجب کرنے لگے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس کی نرمی پر تعجب ہے، سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے رومال ( جنت میں ) اس سے کہیں بہتر ہیں یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ) اس سے کہیں زیادہ نرم و نازک ہیں، اس حدیث کی روایت قتادہ اور زہری نے بھی کی ہے، انہوں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن ابي اسحاق، قال سمعت البراء رضى الله عنه يقول اهديت للنبي صلى الله عليه وسلم حلة حرير، فجعل اصحابه يمسونها ويعجبون من لينها فقال " اتعجبون من لين هذه لمناديل سعد بن معاذ خير منها ". او الين. رواه قتادة والزهري سمعا انسا عن النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ کے داماد فضل بن مساور نے بیان کیا، کہا ہم سے اعمش نے، ان سے ابوسفیان نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش ہل گیا اور اعمش سے روایت ہے، ان سے ابوصالح نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت کیا، ایک صاحب نے جابر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ براء رضی اللہ عنہ تو اس طرح بیان کرتے ہیں کہ چارپائی جس پر معاذ رضی اللہ عنہ کی نعش رکھی ہوئی تھی، ہل گئی تھی، جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ان دونوں قبیلوں ( اوس اور خزرج ) کے درمیان ( زمانہ جاہلیت میں ) دشمنی تھی، میں نے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی موت پر عرش رحمن ہل گیا تھا۔
حدثني محمد بن المثنى، حدثنا فضل بن مساور، ختن ابي عوانة حدثنا ابو عوانة، عن الاعمش، عن ابي سفيان، عن جابر رضى الله عنه سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اهتز العرش لموت سعد بن معاذ ". وعن الاعمش حدثنا ابو صالح عن جابر عن النبي صلى الله عليه وسلم مثله. فقال رجل لجابر فان البراء يقول اهتز السرير. فقال انه كان بين هذين الحيين ضغاين، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " اهتز عرش الرحمن لموت سعد بن معاذ
ہم سے محمد بن عرعرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے، ان سے ابوامامہ بن سہل بن حنیف نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ایک قوم ( یہود بنی قریظہ ) نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا گیا اور وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب پہنچے جسے ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام جنگ میں ) نماز پڑھنے کے لیے منتخب کیا ہوا تھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ اپنے سب سے بہتر شخص کے لیے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ) اپنے سردار کو لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے سعد! انہوں نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا پھر میرا فیصلہ یہ ہے کہ ان کے جو لوگ جنگ کرنے والے ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کی عورتوں، بچوں کو جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم نے اللہ کے فیصلے کے مطابق فیصلہ کیا یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا کہ ) فرشتے کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔
حدثنا محمد بن عرعرة، حدثنا شعبة، عن سعد بن ابراهيم، عن ابي امامة بن سهل بن حنيف، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه ان اناسا نزلوا على حكم سعد بن معاذ، فارسل اليه فجاء على حمار، فلما بلغ قريبا من المسجد قال النبي صلى الله عليه وسلم " قوموا الى خيركم او سيدكم ". فقال " يا سعد، ان هولاء نزلوا على حكمك ". قال فاني احكم فيهم ان تقتل مقاتلتهم وتسبى ذراريهم. قال " حكمت بحكم الله، او بحكم الملك
ہم سے علی بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے حبان نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، انہیں قتادہ نے خبر دی اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس سے اٹھ کر دو صحابی ایک تاریک رات میں ( اپنے گھر کی طرف ) جانے لگے تو ایک غیبی نور ان کے آگے آگے چل رہا تھا، پھر جب وہ جدا ہوئے تو ان کے ساتھ ساتھ وہ نور بھی الگ الگ ہو گیا اور معمر نے ثابت سے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے انصاری صحابی ( کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی ) اور حماد نے بیان کیا، انہیں ثابت نے خبر دی اور انہیں انس رضی اللہ عنہ نے کہ اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہما کے ساتھ یہ کرامت پیش آئی تھی۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے نقل کیا ہے۔
حدثنا علي بن مسلم، حدثنا حبان، حدثنا همام، اخبرنا قتادة، عن انس رضى الله عنه ان رجلين، خرجا من عند النبي صلى الله عليه وسلم في ليلة مظلمة، واذا نور بين ايديهما حتى تفرقا، فتفرق النور معهما. وقال معمر عن ثابت عن انس ان اسيد بن حضير ورجلا من الانصار. قال حماد اخبرنا ثابت عن انس كان اسيد بن حضير وعباد بن بشر عند النبي صلى الله عليه وسلم
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”قرآن چار ( صحابہ ) عبداللہ بن مسعود، ابوحذیفہ کے غلام سالم اور ابی بن کعب اور معاذ بن جبل ( رضی اللہ عنہم ) سے سیکھو۔“
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، حدثنا شعبة، عن عمرو، عن ابراهيم، عن مسروق، عن عبد الله بن عمرو رضى الله عنهما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " استقريوا القران من اربعة من ابن مسعود وسالم مولى ابي حذيفة، وابى، ومعاذ بن جبل
ہم سے اسحٰق نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالصمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا کہ ہم سے قتادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ابواسید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”انصار کا بہترین گھرانہ بنو نجار کا گھرانہ ہے، پھر بنو عبدالاشھل کا، پھر بنو عبدالحارث کا، پھر بنو ساعدہ کا اور خیر انصار کے تمام گھرانوں میں ہے۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا اور وہ اسلام قبول کرنے میں بڑی قدامت رکھتے تھے کہ میرا خیال ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر دوسروں کو فضیلت دے دی ہے، ان سے کہا گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تم کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ( اعتراض کی کیا بات ہے ) ۔
حدثنا اسحاق، حدثنا عبد الصمد، حدثنا شعبة، حدثنا قتادة، قال سمعت انس بن مالك رضى الله عنه قال ابو اسيد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " خير دور الانصار بنو النجار، ثم بنو عبد الاشهل، ثم بنو الحارث بن الخزرج، ثم بنو ساعدة وفي كل دور الانصار خير ". فقال سعد بن عبادة وكان ذا قدم في الاسلام ارى رسول الله صلى الله عليه وسلم قد فضل علينا. فقيل له قد فضلكم على ناس كثير
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن مرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے مسروق نے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کی مجلس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا ذکر آیا تو انہوں نے کہا کہ اس وقت سے ان کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ قرآن چار آدمیوں سے سیکھو، عبداللہ بن مسعود سے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کے نام سے ابتداء کی، اور ابوحذیفہ کے غلام سالم سے، معاذ بن جبل سے اور ابی بن کعب سے۔
حدثنا ابو الوليد، حدثنا شعبة، عن عمرو بن مرة، عن ابراهيم، عن مسروق، قال ذكر عبد الله بن مسعود عند عبد الله بن عمرو فقال ذاك رجل لا ازال احبه، سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " خذوا القران من اربعة من عبد الله بن مسعود فبدا به وسالم مولى ابي حذيفة، ومعاذ بن جبل، وابى بن كعب
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا کہ میں نے شعبہ سے سنا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابی بن کعب سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم کو سورۃ «لم يكن الذين كفروا» سناؤں۔ ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بولے کیا اللہ تعالیٰ نے میرا نام لیا ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اس پر ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرط مسرت سے رونے لگے۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا غندر، قال سمعت شعبة، سمعت قتادة، عن انس بن مالك رضى الله عنه قال النبي صلى الله عليه وسلم لابى " ان الله امرني ان اقرا عليك {لم يكن الذين كفروا} ". قال وسماني قال " نعم " فبكى
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چار آدمی جن سب کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا، قرآن مجید جمع کرنے والے تھے۔ ابی بن کعب، معاذ بن جبل، ابوزید اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہم میں نے پوچھا: ابوزید کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ میرے ایک چچا ہیں۔
حدثني محمد بن بشار، حدثنا يحيى، حدثنا شعبة، عن قتادة، عن انس رضى الله عنه قال جمع القران على عهد النبي صلى الله عليه وسلم اربعة، كلهم من الانصار ابى، ومعاذ بن جبل، وابو زيد، وزيد بن ثابت. قلت لانس من ابو زيد قال احد عمومتي
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقعہ پر جب صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے اِدھر اُدھر چلنے لگے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت اپنی ایک ڈھال سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ بڑے تیرانداز تھے اور خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے چنانچہ اس دن دو یا تین کمانیں انہوں نے توڑ دی تھیں۔ اس وقت اگر کوئی مسلمان ترکش لیے ہوئے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اس کے تیر ابوطلحہ کو دے دو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالات معلوم کرنے کے لیے اچک کر دیکھنے لگتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: یا نبی اللہ! آپ پر میرے ماں باپ قربان ہوں، اچک کر ملاحظہ نہ فرمائیں، کہیں کوئی تیر آپ کو نہ لگ جائے۔ میرا سینہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے کی ڈھال بنا رہا اور میں نے عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ام سلیم رضی اللہ عنہا ( ابوطلحہ کی بیوی ) کو دیکھا کہ اپنا ازار اٹھائے ہوئے ( غازیوں کی مدد میں ) بڑی تیزی کے ساتھ مشغول تھیں۔ ( اس خدمت میں ان کے انہماک و استغراق کی وجہ سے انہیں کپڑوں تک کا ہوش نہ تھا یہاں تک کہ ) میں ان کی پنڈلیوں کے زیور دیکھ سکتا تھا۔ انتہائی جلدی کے ساتھ مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے جاتی تھیں اور مسلمانوں کو پلا کر واپس آتی تھیں اور پھر انہیں بھر کر لے جاتیں اور ان کا پانی مسلمانوں کو پلاتیں اور ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے اس دن دو یا تین مرتبہ تلوار چھوٹ کر گر پڑی تھی۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا عبد العزيز، عن انس رضى الله عنه قال لما كان يوم احد انهزم الناس عن النبي صلى الله عليه وسلم وابو طلحة بين يدى النبي صلى الله عليه وسلم مجوب به عليه بحجفة له، وكان ابو طلحة رجلا راميا شديد القد، يكسر يوميذ قوسين او ثلاثا، وكان الرجل يمر معه الجعبة من النبل فيقول انشرها لابي طلحة. فاشرف النبي صلى الله عليه وسلم ينظر الى القوم، فيقول ابو طلحة يا نبي الله بابي انت وامي، لا تشرف يصيبك سهم من سهام القوم، نحري دون نحرك. ولقد رايت عايشة بنت ابي بكر وام سليم وانهما لمشمرتان، ارى خدم سوقهما، تنقزان القرب على متونهما، تفرغانه في افواه القوم، ثم ترجعان فتملانها، ثم تجيان فتفرغانه في افواه القوم، ولقد وقع السيف من يدى ابي طلحة اما مرتين، واما ثلاثا
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ عمر بن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں، بیان کیا کہ آیت «وشهد شاهد من بني إسرائيل» ( سورۃ الاحقاف: 10 ) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی ( راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے ) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال سمعت مالكا، يحدث عن ابي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن عامر بن سعد بن ابي وقاص، عن ابيه، قال ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لاحد يمشي على الارض انه من اهل الجنة. الا لعبد الله بن سلام قال وفيه نزلت هذه الاية {وشهد شاهد من بني اسراييل} الاية. قال لا ادري قال مالك الاية او في الحديث
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہر سمان نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا کہ میں مسجد نبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پر خشوع و خضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصر طریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے «العروة» مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ یہ خواب جب میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تو اسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کا ستون ہے اور «العروة» ( گھنا درخت ) «عروة الوثقى» ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے۔ یہ بزرگ عبداللہ بن سلام تھے اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمد نے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے «منصف.» ( خادم ) کے بجائے «وصيف» کا لفظ ذکر کیا۔
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا ازهر السمان، عن ابن عون، عن محمد، عن قيس بن عباد، قال كنت جالسا في مسجد المدينة، فدخل رجل على وجهه اثر الخشوع، فقالوا هذا رجل من اهل الجنة. فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج، وتبعته فقلت انك حين دخلت المسجد قالوا هذا رجل من اهل الجنة. قال والله ما ينبغي لاحد ان يقول ما لا يعلم وساحدثك لم ذاك رايت رويا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه، ورايت كاني في روضة ذكر من سعتها وخضرتها وسطها عمود من حديد، اسفله في الارض واعلاه في السماء، في اعلاه عروة فقيل له ارقه. قلت لا استطيع. فاتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي، فرقيت حتى كنت في اعلاها، فاخذت بالعروة، فقيل له استمسك. فاستيقظت وانها لفي يدي، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم قال " تلك الروضة الاسلام، وذلك العمود عمود الاسلام، وتلك العروة عروة الوثقى، فانت على الاسلام حتى تموت ". وذاك الرجل عبد الله بن سلام. وقال لي خليفة حدثنا معاذ، حدثنا ابن عون، عن محمد، حدثنا قيس بن عباد، عن ابن سلام، قال وصيف مكان منصف
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آؤ تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک ( باعظمت ) مکان میں داخل ہو گے ( کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جَو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابر بھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے۔ نضر، ابوداؤد اور وہب نے ( اپنی روایتوں میں ) «البيت.» ( گھر ) کا ذکر نہیں کیا۔
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سعيد بن ابي بردة، عن ابيه، اتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام رضى الله عنه فقال الا تجيء فاطعمك سويقا وتمرا، وتدخل في بيت ثم قال انك بارض الربا بها فاش، اذا كان لك على رجل حق فاهدى اليك حمل تبن، او حمل شعير او حمل قت، فلا تاخذه، فانه ربا. ولم يذكر النضر وابو داود ووهب عن شعبة البيت
مجھ سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم کو خبر دی عبدہ نے، انہیں ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فرمایا ( دوسری سند ) اور مجھ سے صدقہ نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی، انہیں ہشام نے ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن جعفر سے سنا انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ( اپنے زمانے میں ) مریم علیہاالسلام سب سے افضل عورت تھیں اور ( اس امت میں ) خدیجہ ( رضی اللہ عنہا ) سب سے افضل ہیں۔“
حدثني محمد، اخبرنا عبدة، عن هشام بن عروة، عن ابيه، قال سمعت عبد الله بن جعفر، قال سمعت عليا رضى الله عنه يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ح حدثني صدقة اخبرنا عبدة عن هشام عن ابيه قال سمعت عبد الله بن جعفر عن علي رضى الله عنهم عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " خير نسايها مريم، وخير نسايها خديجة