Loading...

Loading...
کتب
۱۶۳ احادیث
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم ( دنیا میں ) تمام امتوں کے آخر میں آئے لیکن ( قیامت کے دن ) تمام امتوں سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ انہیں پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں بعد میں ملی اور یہی وہ ( جمعہ کا ) دن ہے جس کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ یہودیوں نے تو اسے اس کے دوسرے دن ( ہفتہ کو ) کر لیا اور نصاریٰ نے تیسرے دن ( اتوار کو ) ۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، قال حدثني ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة، بيد كل امة اوتوا الكتاب من قبلنا واوتينا من بعدهم، فهذا اليوم الذي اختلفوا، فغدا لليهود وبعد غد للنصارى ". "على كل مسلم فى كل سبعة ايام يوم يغسل راسه وجسده
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا مجھ سے عبداللہ بن طاؤس نے بیان کیا ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہم ( دنیا میں ) تمام امتوں کے آخر میں آئے لیکن ( قیامت کے دن ) تمام امتوں سے آگے ہوں گے۔ صرف اتنا فرق ہے کہ انہیں پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں بعد میں ملی اور یہی وہ ( جمعہ کا ) دن ہے جس کے بارے میں لوگوں نے اختلاف کیا۔ یہودیوں نے تو اسے اس کے دوسرے دن ( ہفتہ کو ) کر لیا اور نصاریٰ نے تیسرے دن ( اتوار کو ) ۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا وهيب، قال حدثني ابن طاوس، عن ابيه، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " نحن الاخرون السابقون يوم القيامة، بيد كل امة اوتوا الكتاب من قبلنا واوتينا من بعدهم، فهذا اليوم الذي اختلفوا، فغدا لليهود وبعد غد للنصارى ". "على كل مسلم فى كل سبعة ايام يوم يغسل راسه وجسده
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ان سے عمرو بن مرہ نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا آپ نے بیان کیا کہ معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے مدینہ کے اپنے آخری سفر میں ہمیں خطاب فرمایا اور ( خطبہ کے دوران ) آپ نے بالوں کا ایک گچھا نکالا اور فرمایا، میں سمجھتا ہوں کہ یہودیوں کے سوا اور کوئی اس طرح نہ کرتا ہو گا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح بال سنوارنے کا نام «الزور» ( فریب و جھوٹ ) رکھا ہے۔ آپ کی مراد «وصال في الشعر.» سے تھی۔ یعنی بالوں میں جوڑ لگانے سے تھی ( جیسے اکثر عورتیں مصنوعی بالوں میں جوڑ کیا کرتی ہیں ) آدم کے ساتھ اس حدیث کو غندر نے بھی شعبہ سے روایت کیا ہے۔
حدثنا ادم، حدثنا شعبة، حدثنا عمرو بن مرة، سمعت سعيد بن المسيب، قال قدم معاوية بن ابي سفيان المدينة اخر قدمة قدمها، فخطبنا فاخرج كبة من شعر فقال ما كنت ارى ان احدا يفعل هذا غير اليهود، وان النبي صلى الله عليه وسلم سماه الزور يعني الوصال في الشعر. تابعه غندر عن شعبة