Loading...

Loading...
کتب
۵۳ احادیث
ہم سے زیاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن وردان نے بیان کیا، کہا ہم سے ایوب نے بیان کیا، عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔ میرے والد ( نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ کر ) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا ”میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔“
حدثنا زياد بن يحيى، حدثنا حاتم بن وردان، حدثنا ايوب، عن عبد الله بن ابي مليكة، عن المسور بن مخرمة رضى الله عنهما قال قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم اقبية فقال لي ابي مخرمة انطلق بنا اليه عسى ان يعطينا منها شييا. فقام ابي على الباب فتكلم، فعرف النبي صلى الله عليه وسلم صوته فخرج النبي صلى الله عليه وسلم ومعه قباء وهو يريه محاسنه وهو يقول " خبات هذا لك، خبات هذا لك
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، انہوں نے کہا کہ مجھے زید نے خبر دی، انہیں عیاض بن عبداللہ نے اور انہیں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کے آدھے کے برابر نہیں ہے؟“ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہی تو ان کی عقل کا نقصان ہے۔“
حدثنا ابن ابي مريم، اخبرنا محمد بن جعفر، قال اخبرني زيد، عن عياض بن عبد الله، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " اليس شهادة المراة مثل نصف شهادة الرجل ". قلنا بلى. قال " فذلك من نقصان عقلها
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے، وہ ابن بی ملیکہ سے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے بیان کیا کہ میں نے ابن ابی ملیکہ سے سنا، کہا کہ مجھ سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، یا (یہ کہا کہ) میں نے یہ حدیث ان سے سنی کہ انہوں نے ام یحیی بنت ابی اہاب سے شادی کی تھی۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ایک سیاہ رنگ والی باندی آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا ہے۔ میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے منہ پھیر لیا پس میں جدا ہو گیا۔ میں نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اب ( نکاح ) کیسے ( باقی رہ سکتا ہے ) جبکہ تمہیں اس عورت نے بتا دیا ہے کہ اس نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ام یحییٰ کو اپنے ساتھ رکھنے سے منع فرما دیا۔
حدثنا ابو عاصم، عن ابن جريج، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث،. وحدثنا علي بن عبد الله، حدثنا يحيى بن سعيد، عن ابن جريج، قال سمعت ابن ابي مليكة، قال حدثني عقبة بن الحارث، او سمعته منه، انه تزوج ام يحيى بنت ابي اهاب قال فجاءت امة سوداء فقالت قد ارضعتكما. فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فاعرض عني، قال فتنحيت فذكرت ذلك له قال " وكيف وقد زعمت ان قد ارضعتكما ". فنهاه عنها
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا عمر بن سعید سے، وہ ابن ابی ملیکہ سے، ان سے عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے ایک عورت سے شادی کی تھی۔ پھر ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ میں نے تم دونوں کو دودھ پلایا تھا۔ اس لیے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب تمہیں بتا دیا گیا ( کہ ایک ہی عورت تم دونوں کی دودھ کی ماں ہے ) تو پھر اب اور کیا صورت ہو سکتی ہے اپنی بیوی کو اپنے سے جدا کر دے۔“ یا اسی طرح کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے۔
حدثنا ابو عاصم، عن عمر بن سعيد، عن ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث، قال تزوجت امراة فجاءت امراة فقالت اني قد ارضعتكما. فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فقال " وكيف وقد قيل دعها عنك " او نحوه
ہم سے ابوربیع، سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ اس حدیث کے بعض مطالب مجھ کو امام احمد بن یونس نے سمجھائے، کہا ہم سے فلیح بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب زہری نے بیان کیا، ان سے عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، علقمہ بن وقاص لیثی اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے وہ قصہ بیان کیا جب تہمت لگانے والوں نے ان پر پر تہمت لگائی لیکن اللہ تعالیٰ نے خود انہیں اس سے بری قرار دیا۔ زہری نے بیان کیا ( کہ زہری سے بیان کرنے والے، جن کا سند میں زہری کے بعد ذکر ہے ) تمام راویوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی اس حدیث کا ایک ایک حصہ بیان کیا تھا، بعض راویوں کو بعض دوسرے راویوں سے حدیث زیادہ یاد تھی اور وہ بیان بھی زیادہ بہتر طریقہ پر کر سکتے تھے۔ بہرحال ان سب راویوں سے میں نے یہ حدیث پوری طرح محفوظ کر لی تھی جسے وہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے تھے۔ ان راویوں میں ہر ایک کی روایت سے دوسرے راوی کی تصدیق ہوتی تھی۔ ان کا بیان تھا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر میں جانے کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔ جس کے نام کا قرعہ نکلتا، سفر میں وہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جاتی۔ چنانچہ ایک غزوہ کے موقع پر، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی شرکت کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرعہ ڈلوایا اور میرا نام نکلا۔ اب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی۔ یہ واقعہ پردے کی آیت کے نازل ہونے کے بعد کا ہے۔ خیر میں ایک ہودج میں سوار رہتی تھی، اسی میں بیٹھے بیٹھے مجھ کو اتارا جاتا تھا۔ اس طرح ہم چلتے رہے۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد سے فارغ ہو کر واپس ہوئے اور ہم مدینہ کے قریب پہنچ گئے تو ایک رات آپ نے کوچ کا حکم دیا۔ میں یہ حکم سنتے ہی اٹھی اور لشکر سے آگے بڑھ گئی۔ جب حاجت سے فارغ ہوئی تو کجاوے کے پاس آ گئی۔ وہاں پہنچ کر جو میں نے اپنا سینہ ٹٹولا تو میرا ظفار کے کالے نگینوں کا ہار موجود نہیں تھا۔ اس لیے میں وہاں دوبارہ پہنچی ( جہاں قضائے حاجت کے لیے گئی تھی ) اور میں نے ہار کو تلاش کیا۔ اس تلاش میں دیر ہو گئی۔ اس عرصے میں وہ اصحاب جو مجھے سوار کراتے تھے، آئے اور میرا ہودج اٹھا کر میرے اونٹ پر رکھ دیا۔ وہ یہی سمجھے کہ میں اس میں بیٹھی ہوں۔ ان دنوں عورتیں ہلکی پھلکی ہوتی تھیں، بھاری بھر کم نہیں۔ گوشت ان میں زیادہ نہیں رہتا تھا کیونکہ بہت معمولی غذا کھاتی تھیں۔ اس لیے ان لوگوں نے جب ہودج کو اٹھایا تو انہیں اس کے بوجھ میں کوئی فرق معلوم نہیں ہوا۔ میں یوں بھی نوعمر لڑکی تھی۔ چنانچہ اصحاب نے اونٹ کو ہانک دیا اور خود بھی اس کے ساتھ چلنے لگے۔ جب لشکر روانہ ہو چکا تو مجھے اپنا ہار ملا اور میں پڑاؤ کی جگہ آئی۔ لیکن وہاں کوئی آدمی موجود نہ تھا۔ اس لیے میں اس جگہ گئی جہاں پہلے میرا قیام تھا۔ میرا خیال تھا کہ جب وہ لوگ مجھے نہیں پائیں گے تو یہیں لوٹ کے آئیں گے۔ ( اپنی جگہ پہنچ کر ) میں یوں ہی بیٹھی ہوئی تھی کہ میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گئی۔ صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ جو پہلے سلمی تھے پھر ذکوانی ہو گئے لشکر کے پیچھے تھے ( جو لشکریوں کی گری پڑی چیزوں کو اٹھا کر انہیں اس کے مالک تک پہنچانے کی خدمت کے لیے مقرر تھے ) وہ میری طرف سے گزرے تو ایک سوئے ہوئے انسان کا سایہ نظر پڑا اس لیے اور قریب پہنچے۔ پردہ کے حکم سے پہلے وہ مجھے دیکھ چکے تھے۔ ان کے «إنا لله» پڑھنے سے میں بیدار ہو گئی۔ آخر انہوں نے اپنا اونٹ بٹھایا اور اس کے اگلے پاؤں کو موڑ دیا ( تاکہ بلا کسی مدد کے میں خود سوار ہو سکوں ) چنانچہ میں سوار ہو گئی، اب وہ اونٹ پر مجھے بٹھائے ہوئے خود اس کے آگے آگے چلنے لگے۔ اسی طرح ہم جب لشکر کے قریب پہنچے تو لوگ بھری دوپہر میں آرام کے لیے پڑاؤ ڈال چکے تھے۔ ( اتنی ہی بات تھی جس کی بنیاد پر ) جسے ہلاک ہونا تھا وہ ہلاک ہوا اور تہمت کے معاملے میں پیش پیش عبداللہ بن ابی ابن سلول ( منافق ) تھا۔ پھر ہم مدینہ میں آ گئے اور میں ایک مہینے تک بیمار رہی۔ تہمت لگانے والوں کی باتوں کا خوب چرچا ہو رہا تھا۔ اپنی اس بیماری کے دوران مجھے اس سے بھی بڑا شبہ ہوتا تھا کہ ان دنوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا وہ لطف و کرم بھی میں نہیں دیکھتی تھی جن کا مشاہدہ اپنی پچھلی بیماریوں میں کر چکی تھی۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں جب آتے تو سلام کرتے اور صرف اتنا دریافت فرما لیتے، مزاج کیسا ہے؟ جو باتیں تہمت لگانے والے پھیلا رہے تھے ان میں سے کوئی بات مجھے معلوم نہیں تھی۔ جب میری صحت کچھ ٹھیک ہوئی تو ( ایک رات ) میں ام مسطح کے ساتھ مناصع کی طرف گئی۔ یہ ہماری قضائے حاجت کی جگہ تھی، ہم یہاں صرف رات ہی میں آتے تھے۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب ابھی ہمارے گھروں کے قریب بیت الخلاء نہیں بنے تھے۔ میدان میں جانے کے سلسلے میں ( قضائے حاجت کے لیے ) ہمارا طرز عمل قدیم عرب کی طرح تھا، میں اور ام مسطح بنت ابی رہم چل رہی تھی کہ وہ اپنی چادر میں الجھ کر گر پڑیں اور ان کی زبان سے نکل گیا، مسطح برباد ہو۔ میں نے کہا، بری بات آپ نے اپنی زبان سے نکالی، ایسے شخص کو برا کہہ رہی ہیں آپ، جو بدر کی لڑائی میں شریک تھا، وہ کہنے لگیں، اے بھولی بھالی! جو کچھ ان سب نے کہا ہے وہ آپ نے نہیں سنا، پھر انہوں نے تہمت لگانے والوں کی ساری باتیں سنائیں اور ان باتوں کو سن کر میری بیماری اور بڑھ گئی۔ میں جب اپنے گھر واپس ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور دریافت فرمایا، مزاج کیسا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ آپ مجھے والدین کے یہاں جانے کی اجازت دیجئیے۔ اس وقت میرا ارادہ یہ تھا کہ ان سے اس خبر کی تحقیق کروں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے جانے کی اجازت دے دی اور میں جب گھر آئی تو میں نے اپنی والدہ ( ام رومان ) سے ان باتوں کے متعلق پوچھا، جو لوگوں میں پھیلی ہوئی تھیں۔ انہوں نے فرمایا، بیٹی! اس طرح کی باتوں کی پرواہ نہ کر، اللہ کی قسم! شاید ہی ایسا ہو کہ تجھ جیسی حسین و خوبصورت عورت کسی مرد کے گھر میں ہو اور اس کی سوکنیں بھی ہوں، پھر بھی اس طرح کی باتیں نہ پھیلائی جایا کریں۔ میں نے کہا سبحان اللہ! ( سوکنوں کا کیا ذکر ) وہ تو دوسرے لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ وہ رات میں نے وہیں گزاری، صبح تک میرے آنسو نہیں تھمتے تھے اور نہ نیند آئی۔ صبح ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوی کو جدا کرنے کے سلسلے میں مشورہ کرنے کے لیے علی ابن ابی طالب اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم کو بلوایا۔ کیونکہ وحی ( اس سلسلے میں ) اب تک نہیں آئی تھی۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کو آپ کی بیویوں سے آپ کی محبت کا علم تھا۔ اس لیے اسی کے مطابق مشورہ دیا اور کہا، آپ کی بیوی، یا رسول اللہ! واللہ، ہم ان کے متعلق خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی تنگی نہیں کی ہے، عورتیں ان کے سوا بھی بہت ہیں، باندی سے بھی آپ دریافت فرما لیجئے، وہ سچی بات بیان کریں گی۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو بلایا ( جو عائشہ رضی اللہ عنہا کی خاص خادمہ تھی ) اور دریافت فرمایا، بریرہ! کیا تم نے عائشہ میں کوئی ایسی چیز دیکھی ہے جس سے تمہیں شبہ ہوا ہو۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا، نہیں، اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے ان میں کوئی ایسی چیز نہیں دیکھی جس کا عیب میں ان پر لگا سکوں۔ اتنی بات ضرور ہے کہ وہ نوعمر لڑکی ہیں۔ آٹا گوندھ کر سو جاتی ہیں پھر بکری آتی ہے اور کھا لیتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دن ( منبر پر ) کھڑے ہو کر عبداللہ بن ابی ابن سلول کے بارے میں مدد چاہی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، ایک ایسے شخص کے بارے میں میری کون مدد کرے گا جس کی اذیت اور تکلیف دہی کا سلسلہ اب میری بیوی کے معاملے تک پہنچ چکا ہے۔ اللہ کی قسم، اپنی بیوی کے بارے میں خیر کے سوا اور کوئی چیز مجھے معلوم نہیں۔ پھر نام بھی اس معاملے میں انہوں نے ایک ایسے آدمی کا لیا ہے جس کے متعلق بھی میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں جانتا۔ خود میرے گھر میں جب بھی وہ آئے ہیں تو میرے ساتھ ہی آئے۔ ( یہ سن کر ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا، یا رسول اللہ! واللہ میں آپ کی مدد کروں گا۔ اگر وہ شخص ( جس کے متعلق تہمت لگانے کا آپ نے ارشاد فرمایا ہے ) اوس قبیلہ سے ہو گا تو ہم اس کی گردن مار دیں گے ( کیونکہ سعد رضی اللہ عنہ خود قبیلہ اوس کے سردار تھے ) اور اگر وہ خزرج کا آدمی ہوا، تو آپ ہمیں حکم دیں، جو بھی آپ کا حکم ہو گا ہم تعمیل کریں گے۔ اس کے بعد سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے جو قبیلہ خزرج کے سردار تھے۔ حالانکہ اس سے پہلے اب تک بہت صالح تھے۔ لیکن اس وقت ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کی بات پر ) حمیت سے غصہ ہو گئے تھے اور ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ سے ) کہنے لگے رب کے دوام و بقا کی قسم! تم جھوٹ بولتے ہو، نہ تم اسے قتل کر سکتے ہو اور نہ تمہارے اندر اس کی طاقت ہے۔ پھر اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ( سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے چچازاد بھائی ) اور کہا، اللہ کی قسم! ہم اسے قتل کر دیں گے ( اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہوا ) کوئی شبہ نہیں رہ جاتا کہ تم بھی منافق ہو۔ کیونکہ منافقوں کی طرفداری کر رہے ہو۔ اس پر اوس و خزرج دونوں قبیلوں کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور آگے بڑھنے ہی والے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ابھی تک منبر پر تشریف رکھتے تھے۔ منبر سے اترے اور لوگوں کو نرم کیا۔ اب سب لوگ خاموش ہو گئے اور آپ بھی خاموش ہو گئے۔ میں اس دن بھی روتی رہی۔ نہ میرے آنسو تھمتے تھے اور نہ نیند آتی تھی پھر میرے پاس میرے ماں باپ آئے۔ میں ایک رات اور ایک دن سے برابر روتی رہی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ روتے روتے میرے دل کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ماں باپ میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری عورت نے اجازت چاہی اور میں نے انہیں اندر آنے کی اجازت دے دی اور وہ میرے ساتھ بیٹھ کر رونے لگیں۔ ہم سب اسی طرح تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اندر تشریف لائے اور بیٹھ گئے۔ جس دن سے میرے متعلق وہ باتیں کہی جا رہی تھیں جو کبھی نہیں کہی گئیں تھیں۔ اس دن سے میرے پاس آپ نہیں بیٹھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مہینے تک انتظار کرتے رہے تھے۔ لیکن میرے معاملے میں کوئی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل نہیں ہوئی تھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تشہد پڑھی اور فرمایا، عائشہ! تمہارے متعلق مجھے یہ یہ باتیں معلوم ہوئیں۔ اگر تم اس معاملے میں بری ہو تو اللہ تعالیٰ بھی تمہاری برات ظاہر کر دے گا اور اگر تم نے گناہ کیا ہے تو اللہ تعالیٰ سے مغفرت چاہو اور اس کے حضور توبہ کرو کہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کر کے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ جونہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو ختم کی، میرے آنسو اس طرح خشک ہو گئے کہ اب ایک قطرہ بھی محسوس نہیں ہوتا تھا۔ میں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے میرے متعلق کہئے۔ لیکن انہوں نے کہا، قسم اللہ کی! مجھے نہیں معلوم کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھے کیا کہنا چاہئے۔ میں نے اپنی ماں سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا، اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ ہی کچھ کہئے، انہوں نے بھی یہی فرما دیا کہ قسم اللہ کی! مجھے معلوم نہیں کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا کہنا چاہئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نوعمر لڑکی تھی۔ قرآن مجھے زیادہ یاد نہیں تھا۔ میں نے کہا اللہ گواہ ہے، مجھے معلوم ہوا کہ آپ لوگوں نے بھی لوگوں کی افواہ سنی ہیں اور آپ لوگوں کے دلوں میں وہ بات بیٹھ گئی ہے اور اس کی تصدیق بھی آپ لوگ کر چکے ہیں، اس لیے اب اگر میں کہوں کہ میں ( اس بہتان سے ) بری ہوں، اور اللہ خوب جانتا ہے کہ میں واقعی اس سے بری ہوں تو آپ لوگ میری اس معاملے میں تصدیق نہیں کریں گے۔ لیکن اگر میں ( گناہ کو ) اپنے ذمہ لے لوں، حالانکہ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس سے بری ہوں، تو آپ لوگ میری بات کی تصدیق کر دیں گے۔ قسم اللہ کی! میں اس وقت اپنی اور آپ لوگوں کی کوئی مثال یوسف علیہ السلام کے والد ( یعقوب علیہ السلام ) کے سوا نہیں پاتی کہ انہوں نے بھی فرمایا تھا «فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون» ”صبر ہی بہتر ہے اور جو کچھ تم کہتے ہو اس معاملے میں میرا مددگار اللہ تعالیٰ ہے“۔ اس کے بعد بستر پر میں نے اپنا رخ دوسری طرف کر لیا اور مجھے امید تھی کہ خود اللہ تعالیٰ میری برات کرے گا۔ لیکن میرا یہ خیال کبھی نہ تھا کہ میرے متعلق وحی نازل ہو گی۔ میری اپنی نظر میں حیثیت اس سے بہت معمولی تھی کہ قرآن مجید میں میرے متعلق کوئی آیت نازل ہو۔ ہاں مجھے اتنی امید ضرور تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی خواب دیکھیں گے جس میں اللہ تعالیٰ مجھے بری فرما دے گا۔ اللہ گواہ ہے کہ ابھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ سے اٹھے بھی نہ تھے اور نہ اس وقت گھر میں موجود کوئی باہر نکلا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی اور ( شدت وحی سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح پسینے پسینے ہو جایا کرتے تھے وہی کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اب بھی تھی۔ پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک سے گرنے لگے۔ حالانکہ سردی کا موسم تھا۔ جب وحی کا سلسلہ ختم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس رہے تھے اور سب سے پہلا کلمہ جو آپ کی زبان مبارک سے نکلا، وہ یہ تھا اے عائشہ! اللہ کی حمد بیان کر کہ اس نے تمہیں بری قرار دے دیا ہے۔ میری والدہ نے کہا بیٹی جا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جا کر کھڑی ہو جا۔ میں نے کہا، نہیں قسم اللہ کی میں آپ کے پاس جا کر کھڑی نہ ہوں گی اور میں تو صرف اللہ کی حمد و ثنا کروں گی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی «إن الذين جاءوا بالإفك عصبة منكم» ”جن لوگوں نے تہمت تراشی کی ہے۔ وہ تم ہی میں سے کچھ لوگ ہیں“۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری برات میں یہ آیت نازل فرمائی تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مسطح بن اثاثہ رضی اللہ عنہ کے اخراجات قرابت کی وجہ سے خود ہی اٹھاتے تھے کہا کہ قسم اللہ کی اب میں مسطح پر کبھی کوئی چیز خرچ نہیں کروں گا کہ وہ بھی عائشہ پر تہمت لگانے میں شریک تھا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی «ولا يأتل أولو الفضل منكم والسعة إلى قوله غفور رحيم» ”تم میں سے صاحب فضل و صاحب مال لوگ قسم نہ کھائیں۔ اللہ تعالیٰ کے ارشاد غفور رحیم تک“۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا اللہ کی قسم! بس میری یہی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ میری مغفرت کر دے۔ چنانچہ مسطح رضی اللہ عنہ کو جو آپ پہلے دیا کرتے تھے وہ پھر دینے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زینب بنت جحش ( رضی اللہ عنہا ام المؤمنین ) سے بھی میرے متعلق پوچھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ زینب! تم ( عائشہ رضی اللہ عنہا کے متعلق ) کیا جانتی ہو؟ اور کیا دیکھا ہے؟ انہوں نے جواب دیا میں اپنے کان اور اپنی آنکھ کی حفاظت کرتی ہوں ( کہ جو چیز میں نے دیکھی ہو یا نہ سنی ہو وہ آپ سے بیان کرنے لگوں ) اللہ گواہ ہے کہ میں نے ان میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ یہی میری برابر کی تھیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں تقویٰ کی وجہ سے بچا لیا۔ ابوالربیع نے بیان کیا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے عروہ نے، ان سے عائشہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم نے اسی حدیث کی طرح۔ ابوالربیع نے ( دوسری سند میں ) بیان کیا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن اور یحییٰ بن سعید نے اور ان سے قاسم بن محمد بن ابی بکر نے اسی حدیث کی طرح۔
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ کئی مرتبہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا ) پھر فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بےعیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں وہ ایسا ایسا ہے اگر اس کا حال جانتا ہو۔
حدثنا محمد بن سلام اخبرنا عبد الوهاب حدثنا خالد الحذاء عن عبد الرحمن بن ابي بكرة عن ابيه قال اثنى رجل على رجل عند النبي صلى الله عليه وسلم فقال ويلك قطعت عنق صاحبك قطعت عنق صاحبك مرارا ثم قال من كان منكم مادحا اخاه لا محالة فليقل احسب فلانا والله حسيبه ولا ازكي على الله احدا احسبه كذا وكذا ان كان يعلم ذلك منه
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن زکریا نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے برید بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص دوسرے کی تعریف کر رہا تھا اور مبالغہ سے کام لے رہا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگوں نے اس شخص کو ہلاک کر دیا۔ اس کی پشت توڑ دی۔
حدثنا محمد بن صباح، حدثنا اسماعيل بن زكرياء، حدثنا بريد بن عبد الله، عن ابي بردة، عن ابي موسى رضى الله عنه قال سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يثني على رجل، ويطريه في مدحه فقال " اهلكتم او قطعتم ظهر الرجل
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عبیداللہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے نافع نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ احد کی لڑائی کے موقع پر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ( جنگ پر جانے کے لیے ) پیش ہوئے تو انہیں اجازت نہیں ملی، اس وقت ان کی عمر چودہ سال تھی۔ پھر غزوہ خندق کے موقع پر پیش ہوئے تو اجازت مل گئی۔ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی۔ نافع نے بیان کیا کہ جب میں عمر بن عبدالعزیز کے یہاں ان کی خلافت کے زمانے میں گیا تو میں نے ان سے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے فرمایا کہ چھوٹے اور بڑے کے درمیان ( پندرہ سال ہی کی ) حد ہے۔ پھر انہوں نے اپنے حاکموں کو لکھا کہ جس بچے کی عمر پندرہ سال کی ہو جائے ( اس کا فوجی وظیفہ ) بیت المال سے مقرر کر دیں۔
حدثنا عبيد الله بن سعيد، حدثنا ابو اسامة، قال حدثني عبيد الله، قال حدثني نافع، قال حدثني ابن عمر رضى الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم عرضه يوم احد وهو ابن اربع عشرة سنة، فلم يجزني، ثم عرضني يوم الخندق وانا ابن خمس عشرة فاجازني. قال نافع فقدمت على عمر بن عبد العزيز وهو خليفة، فحدثته هذا الحديث، فقال ان هذا لحد بين الصغير والكبير. وكتب الى عماله ان يفرضوا لمن بلغ خمس عشرة
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کا، انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے صفوان بن سلیم نے بیان کیا، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہر بالغ پر جمعہ کے دن غسل واجب ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، حدثنا صفوان بن سليم، عن عطاء بن يسار، عن ابي سعيد الخدري رضى الله عنه يبلغ به النبي صلى الله عليه وسلم قال " غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم
ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی اور انہیں اعمش نے انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ( کیونکہ میں مدعی تھا ) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ”پھر تم قسم کھاؤ۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک۔“
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر، ليقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". قال فقال الاشعث بن قيس في والله كان ذلك، كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني، فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قال قلت لا. قال فقال لليهودي " احلف ". قال قلت يا رسول الله اذا يحلف ويذهب بمالي. قال فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
ہم سے محمد نے بیان کیا کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی اور انہیں اعمش نے انہیں شقیق نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس شخص نے کوئی ایسی قسم کھائی جس میں وہ جھوٹا تھا، کسی مسلمان کا مال چھیننے کے لیے، تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس طرح ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس پر غضبناک ہو گا۔“ انہوں نے بیان کیا کہ اس پر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ گواہ ہے، یہ حدیث میرے ہی متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی۔ میرا ایک یہودی سے ایک زمین کا جھگڑا تھا۔ یہودی میرے حق کا انکار کر رہا تھا۔ اس لیے میں اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ( کیونکہ میں مدعی تھا ) کہ گواہی پیش کرنا تمہارے ہی ذمہ ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا گواہ تو میرے پاس کوئی بھی نہیں۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے فرمایا ”پھر تم قسم کھاؤ۔“ اشعث رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں بول پڑا، یا رسول اللہ! پھر تو یہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہضم کر جائے گا۔ انہوں نے بیان کیا کہ اسی واقعہ پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور قسموں سے معمولی پونجی خریدتے ہیں آخر آیت تک۔“
حدثنا محمد، اخبرنا ابو معاوية، عن الاعمش، عن شقيق، عن عبد الله رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين وهو فيها فاجر، ليقتطع بها مال امري مسلم، لقي الله وهو عليه غضبان ". قال فقال الاشعث بن قيس في والله كان ذلك، كان بيني وبين رجل من اليهود ارض فجحدني، فقدمته الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم " الك بينة ". قال قلت لا. قال فقال لليهودي " احلف ". قال قلت يا رسول الله اذا يحلف ويذهب بمالي. قال فانزل الله تعالى {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الى اخر الاية
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے نافع بن عمر نے بیان کیا، ان سے ابن ابی ملیکہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لکھا تھا ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدعیٰ علیہ کے لیے قسم کھانے کا فیصلہ کیا تھا۔“
حدثنا ابو نعيم، حدثنا نافع بن عمر، عن ابن ابي مليكة، قال كتب ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم قضى باليمين على المدعى عليه
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا منصور سے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص ( جھوٹی ) قسم کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے کھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ( اس حدیث کی ) تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونجی خریدتے ہیں۔ «عذاب أليم» “ تک۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تم سے کون سی حدیث بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان کی یہی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صحیح بیان کی، یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک شخص سے جھگڑا تھا۔ ہم اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ ( گواہ میرے پاس نہیں ہیں لیکن اگر فیصلہ اس کی قسم پر ہوا ) پھر تو یہ ضرور ہی قسم کھا لے گا اور کوئی پروانہ کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ”جو شخص بھی کسی کا مال لینے کے لیے ( جھوٹی ) قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی تھی، پھر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال عبد الله من حلف على يمين يستحق بها مالا لقي الله وهو عليه غضبان، ثم انزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم} الى {عذاب اليم}. ثم ان الاشعث بن قيس خرج الينا فقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن فحدثناه بما، قال، فقال صدق لفي انزلت، كان بيني وبين رجل خصومة في شىء، فاختصمنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " شاهداك او يمينه ". فقلت له انه اذا يحلف ولا يبالي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين يستحق بها مالا وهو فيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك، ثم اقترا هذه الاية
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا منصور سے، ان سے ابووائل نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جو شخص ( جھوٹی ) قسم کسی کا مال حاصل کرنے کے لیے کھائے گا تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر غضبناک ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ( اس حدیث کی ) تصدیق کے لیے یہ آیت نازل فرمائی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں سے تھوڑی پونجی خریدتے ہیں۔ «عذاب أليم» “ تک۔ پھر اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ ہماری طرف تشریف لائے اور پوچھنے لگے کہ ابوعبدالرحمٰن ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ) تم سے کون سی حدیث بیان کر رہے تھے۔ ہم نے ان کی یہی حدیث بیان کی تو انہوں نے کہا کہ انہوں نے صحیح بیان کی، یہ آیت میرے ہی بارے میں نازل ہوئی تھی۔ میرا ایک شخص سے جھگڑا تھا۔ ہم اپنا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یا تم دو گواہ لاؤ، ورنہ اس کی قسم پر فیصلہ ہو گا۔ میں نے کہا کہ ( گواہ میرے پاس نہیں ہیں لیکن اگر فیصلہ اس کی قسم پر ہوا ) پھر تو یہ ضرور ہی قسم کھا لے گا اور کوئی پروانہ کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا ”جو شخص بھی کسی کا مال لینے کے لیے ( جھوٹی ) قسم کھائے تو اللہ تعالیٰ سے وہ اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضبناک ہو گا۔“ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ نے مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی تھی، پھر انہوں نے یہی آیت تلاوت کی۔
حدثنا عثمان بن ابي شيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن ابي وايل، قال قال عبد الله من حلف على يمين يستحق بها مالا لقي الله وهو عليه غضبان، ثم انزل الله تصديق ذلك {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم} الى {عذاب اليم}. ثم ان الاشعث بن قيس خرج الينا فقال ما يحدثكم ابو عبد الرحمن فحدثناه بما، قال، فقال صدق لفي انزلت، كان بيني وبين رجل خصومة في شىء، فاختصمنا الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " شاهداك او يمينه ". فقلت له انه اذا يحلف ولا يبالي. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من حلف على يمين يستحق بها مالا وهو فيها فاجر لقي الله وهو عليه غضبان ". فانزل الله تصديق ذلك، ثم اقترا هذه الاية
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ہشام نے، ان سے عکرمہ نے بیان کیا اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی بیوی پر شریک بن سمحاء کے ساتھ تہمت لگائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس پر گواہ لا ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔“ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! کیا ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنی عورت پر کسی دوسرے کو دیکھے گا تو گواہ ڈھونڈنے دوڑے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم برابر یہی فرماتے رہے ”گواہ لا ورنہ تمہاری پیٹھ پر حد لگائی جائے گی۔“ پھر لعان کی حدیث کا ذکر کیا۔
حدثنا محمد بن بشار، حدثنا ابن ابي عدي، عن هشام، حدثنا عكرمة، عن ابن عباس رضى الله عنهما ان هلال بن امية، قذف امراته عند النبي صلى الله عليه وسلم بشريك بن سحماء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم " البينة او حد في ظهرك ". فقال يا رسول الله اذا راى احدنا على امراته رجلا ينطلق يلتمس البينة فجعل يقول " البينة والا حد في ظهرك ". فذكر حديث اللعان
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا اعمش سے، ان سے ابوصالح نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین طرح کے لوگ ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے بات بھی نہ کرے گا نہ ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا بلکہ انہیں سخت درد ناک عذاب ہو گا۔ ایک وہ شخص جو سفر میں ضرورت سے زیادہ پانی لے جا رہا ہے اور کسی مسافر کو ( جسے پانی کی ضرورت ہو ) نہ دے۔ دوسرا وہ شخص جو کسی ( خلیفۃ المسلمین ) سے بیعت کرے اور صرف دنیا کے لیے بیعت کرے کہ جس سے اس نے بیعت کی اگر وہ اس کا مقصد پورا کر دے تو یہ بھی وفاداری سے کام لے، ورنہ اس کے ساتھ بیعت و عہد کے خلاف کرے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی سے عصر کے بعد کسی سامان کا بھاؤ کرے اور اللہ کی قسم کھا لے کہ اسے اس کا اتنا اتنا روپیہ مل رہا تھا اور خریدار اس سامان کو ( اس کی قسم کی وجہ سے ) لے لے۔ حالانکہ وہ جھوٹا ہے۔“
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا جرير بن عبد الحميد، عن الاعمش، عن ابي صالح، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ثلاثة لا يكلمهم الله، ولا ينظر اليهم ولا يزكيهم، ولهم عذاب اليم رجل على فضل ماء بطريق يمنع منه ابن السبيل، ورجل بايع رجلا لا يبايعه الا للدنيا، فان اعطاه ما يريد وفى له، والا لم يف له، ورجل ساوم رجلا بسلعة بعد العصر، فحلف بالله لقد اعطي به كذا وكذا، فاخذها
ہم سے موسیٰ بن اسمٰعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالاحد نے بیان کیا اعمش سے، ان سے ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو شخص قسم اس لیے کھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ کسی کا مال ( ناجائز طور پر ) ہضم کر جائے تو وہ اللہ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ پاک اس پر سخت غضبناک ہو گا۔“
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا عبد الواحد، عن الاعمش، عن ابي وايل، عن ابن مسعود رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين ليقتطع بها مالا لقي الله وهو عليه غضبان
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہیں معمر نے خبر دی، انہیں ہمام نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں سے قسم کھانے کے لیے کہا ( ایک ایسے مقدمے میں جس کے یہ لوگ مدعیٰ علیہ تھے ) قسم کے لیے سب ایک ساتھ آگے بڑھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ”قسم کھانے کے لیے ان میں باہم قرعہ ڈالا جائے کہ پہلے کون قسم کھائے۔“
حدثنا اسحاق بن نصر، حدثنا عبد الرزاق، اخبرنا معمر، عن همام، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم عرض على قوم اليمين فاسرعوا، فامر ان يسهم بينهم في اليمين ايهم يحلف
مجھ سے اسحاق نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو یزید بن ہارون نے خبر دی، انہیں عوام نے خبر دی، کہا کہ مجھ سے ابراہیم ابواسماعیل سکسکی نے بیان کیا اور انہوں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ ایک شخص نے اپنا سامان دکھا کر اللہ کی قسم کھائی کہ اسے اس سامان کا اتنا روپیہ مل رہا تھا، حالانکہ اتنا نہیں مل رہا تھا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ”جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے ذریعہ تھوڑی قیمت حاصل کرتے ہیں۔“ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ گاہکوں کو پھانسنے کے لیے قیمت بڑھانے والا سود خور کی طرح خائن ہے۔
حدثني اسحاق، اخبرنا يزيد بن هارون، اخبرنا العوام، قال حدثني ابراهيم ابو اسماعيل السكسكي، سمع عبد الله بن ابي اوفى رضى الله عنهما يقول اقام رجل سلعته فحلف بالله لقد اعطي بها ما لم يعطها فنزلت {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} وقال ابن ابي اوفى الناجش اكل ربا خاين
حدثنا بشر بن خالد، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن سليمان، عن ابي وايل، عن عبد الله رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حلف على يمين كاذبا ليقتطع مال رجل او قال اخيه لقي الله وهو عليه غضبان ". وانزل الله تصديق ذلك في القران {ان الذين يشترون بعهد الله وايمانهم ثمنا قليلا} الاية. فلقيني الاشعث فقال ما حدثكم عبد الله اليوم، قلت كذا وكذا. قال في انزلت
حدثنا ابو الربيع، سليمان بن داود وافهمني بعضه احمد حدثنا فليح بن سليمان، عن ابن شهاب الزهري، عن عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وعلقمة بن وقاص الليثي، وعبيد الله بن عبد الله بن عتبة، عن عايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم حين قال لها اهل الافك ما قالوا، فبراها الله منه، قال الزهري، وكلهم حدثني طايفة من حديثها وبعضهم اوعى من بعض، واثبت له اقتصاصا، وقد وعيت عن كل واحد منهم الحديث الذي حدثني عن عايشة، وبعض حديثهم يصدق بعضا. زعموا ان عايشة قالت كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا اراد ان يخرج سفرا اقرع بين ازواجه، فايتهن خرج سهمها خرج بها معه، فاقرع بيننا في غزاة غزاها فخرج سهمي، فخرجت معه بعد ما انزل الحجاب، فانا احمل في هودج وانزل فيه، فسرنا حتى اذا فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم من غزوته تلك، وقفل ودنونا من المدينة، اذن ليلة بالرحيل، فقمت حين اذنوا بالرحيل، فمشيت حتى جاوزت الجيش، فلما قضيت شاني اقبلت الى الرحل، فلمست صدري، فاذا عقد لي من جزع اظفار قد انقطع، فرجعت فالتمست عقدي، فحبسني ابتغاوه، فاقبل الذين يرحلون لي، فاحتملوا هودجي فرحلوه على بعيري الذي كنت اركب، وهم يحسبون اني فيه، وكان النساء اذ ذاك خفافا لم يثقلن ولم يغشهن اللحم، وانما ياكلن العلقة من الطعام، فلم يستنكر القوم حين رفعوه ثقل الهودج فاحتملوه وكنت جارية حديثة السن، فبعثوا الجمل وساروا، فوجدت عقدي بعد ما استمر الجيش، فجيت منزلهم وليس فيه احد، فاممت منزلي الذي كنت به فظننت انهم سيفقدوني فيرجعون الى، فبينا انا جالسة غلبتني عيناى فنمت، وكان صفوان بن المعطل السلمي ثم الذكواني من وراء الجيش، فاصبح عند منزلي فراى سواد انسان نايم فاتاني، وكان يراني قبل الحجاب فاستيقظت باسترجاعه حين اناخ راحلته، فوطي يدها فركبتها فانطلق يقود بي الراحلة، حتى اتينا الجيش بعد ما نزلوا معرسين في نحر الظهيرة، فهلك من هلك، وكان الذي تولى الافك عبد الله بن ابى ابن سلول، فقدمنا المدينة فاشتكيت بها شهرا، يفيضون من قول اصحاب الافك، ويريبني في وجعي اني لا ارى من النبي صلى الله عليه وسلم اللطف الذي كنت ارى منه حين امرض، انما يدخل فيسلم ثم يقول " كيف تيكم ". لا اشعر بشىء من ذلك حتى نقهت، فخرجت انا وام مسطح قبل المناصع متبرزنا، لا نخرج الا ليلا الى ليل، وذلك قبل ان نتخذ الكنف قريبا من بيوتنا، وامرنا امر العرب الاول في البرية او في التنزه، فاقبلت انا وام مسطح بنت ابي رهم نمشي، فعثرت في مرطها فقالت تعس مسطح، فقلت لها بيس ما قلت، اتسبين رجلا شهد بدرا فقالت يا هنتاه الم تسمعي ما قالوا فاخبرتني بقول اهل الافك، فازددت مرضا الى مرضي، فلما رجعت الى بيتي دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم فقال " كيف تيكم ". فقلت ايذن لي الى ابوى. قالت وانا حينيذ اريد ان استيقن الخبر من قبلهما، فاذن لي رسول الله صلى الله عليه وسلم فاتيت ابوى فقلت لامي ما يتحدث به الناس فقالت يا بنية هوني على نفسك الشان، فوالله لقلما كانت امراة قط وضيية عند رجل يحبها ولها ضراير الا اكثرن عليها. فقلت سبحان الله ولقد يتحدث الناس بهذا قالت فبت تلك الليلة حتى اصبحت لا يرقا لي دمع ولا اكتحل بنوم، ثم اصبحت فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم علي بن ابي طالب واسامة بن زيد حين استلبث الوحى، يستشيرهما في فراق اهله، فاما اسامة فاشار عليه بالذي يعلم في نفسه من الود لهم، فقال اسامة اهلك يا رسول الله ولا نعلم والله الا خيرا، واما علي بن ابي طالب فقال يا رسول الله لم يضيق الله عليك والنساء سواها كثير، وسل الجارية تصدقك. فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم بريرة فقال " يا بريرة هل رايت فيها شييا يريبك ". فقالت بريرة لا والذي بعثك بالحق، ان رايت منها امرا اغمصه عليها اكثر من انها جارية حديثة السن تنام عن العجين فتاتي الداجن فتاكله. فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم من يومه، فاستعذر من عبد الله بن ابى ابن سلول فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من يعذرني من رجل بلغني اذاه في اهلي، فوالله ما علمت على اهلي الا خيرا، وقد ذكروا رجلا ما علمت عليه الا خيرا، وما كان يدخل على اهلي الا معي ". فقام سعد بن معاذ فقال يا رسول الله انا والله اعذرك منه، ان كان من الاوس ضربنا عنقه، وان كان من اخواننا من الخزرج امرتنا ففعلنا فيه امرك. فقام سعد بن عبادة وهو سيد الخزرج، وكان قبل ذلك رجلا صالحا ولكن احتملته الحمية فقال كذبت لعمر الله، لا تقتله ولا تقدر على ذلك، فقام اسيد بن الحضير فقال كذبت لعمر الله، والله لنقتلنه، فانك منافق تجادل عن المنافقين. فثار الحيان الاوس والخزرج حتى هموا، ورسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر فنزل فخفضهم حتى سكتوا وسكت، وبكيت يومي لا يرقا لي دمع ولا اكتحل بنوم، فاصبح عندي ابواى، قد بكيت ليلتين ويوما حتى اظن ان البكاء فالق كبدي قالت فبينا هما جالسان عندي وانا ابكي اذ استاذنت امراة من الانصار فاذنت لها، فجلست تبكي معي، فبينا نحن كذلك اذ دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم فجلس، ولم يجلس عندي من يوم قيل في ما قيل قبلها، وقد مكث شهرا لا يوحى اليه في شاني شىء قالت فتشهد ثم قال " يا عايشة فانه بلغني عنك كذا وكذا، فان كنت بريية فسيبريك الله، وان كنت الممت فاستغفري الله وتوبي اليه، فان العبد اذا اعترف بذنبه ثم تاب تاب الله عليه ". فلما قضى رسول الله صلى الله عليه وسلم مقالته قلص دمعي حتى ما احس منه قطرة وقلت لابي اجب عني رسول الله صلى الله عليه وسلم. قال والله ما ادري ما اقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت لامي اجيبي عني رسول الله صلى الله عليه وسلم فيما قال. قالت والله ما ادري ما اقول لرسول الله صلى الله عليه وسلم. قالت وانا جارية حديثة السن لا اقرا كثيرا من القران فقلت اني والله لقد علمت انكم سمعتم ما يتحدث به الناس، ووقر في انفسكم وصدقتم به، ولين قلت لكم اني بريية. والله يعلم اني لبريية لا تصدقوني بذلك، ولين اعترفت لكم بامر، والله يعلم اني بريية لتصدقني والله ما اجد لي ولكم مثلا الا ابا يوسف اذ قال {فصبر جميل والله المستعان على ما تصفون} ثم تحولت على فراشي، وانا ارجو ان يبريني الله، ولكن والله ما ظننت ان ينزل في شاني وحيا، ولانا احقر في نفسي من ان يتكلم بالقران في امري، ولكني كنت ارجو ان يرى رسول الله صلى الله عليه وسلم في النوم رويا يبريني الله، فوالله ما رام مجلسه ولا خرج احد من اهل البيت حتى انزل عليه، فاخذه ما كان ياخذه من البرحاء، حتى انه ليتحدر منه مثل الجمان من العرق في يوم شات، فلما سري عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يضحك، فكان اول كلمة تكلم بها ان قال لي " يا عايشة، احمدي الله فقد براك الله ". فقالت لي امي قومي الى رسول الله صلى الله عليه وسلم. فقلت لا والله، لا اقوم اليه، ولا احمد الا الله فانزل الله تعالى {ان الذين جاءوا بالافك عصبة منكم} الايات، فلما انزل الله هذا في براءتي قال ابو بكر الصديق رضى الله عنه وكان ينفق على مسطح بن اثاثة لقرابته منه والله لا انفق على مسطح شييا ابدا بعد ما قال لعايشة. فانزل الله تعالى {ولا ياتل اولو الفضل منكم والسعة} الى قوله {غفور رحيم} فقال ابو بكر بلى، والله اني لاحب ان يغفر الله لي، فرجع الى مسطح الذي كان يجري عليه. وكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يسال زينب بنت جحش عن امري، فقال " يا زينب، ما علمت ما رايت ". فقالت يا رسول الله، احمي سمعي وبصري، والله ما علمت عليها الا خيرا، قالت وهى التي كانت تساميني، فعصمها الله بالورع. قال وحدثنا فليح، عن هشام بن عروة، عن عروة، عن عايشة، وعبد الله بن الزبير، مثله. قال وحدثنا فليح، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، ويحيى بن سعيد، عن القاسم بن محمد بن ابي بكر، مثله