Loading...

Loading...
کتب
۲۵ احادیث
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ساجھے کے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اس کے لیے ضروری ہے کہ اگر غلام کی انصاف کے موافق قیمت کے برابر اس کے پاس مال ہو تو وہ سارا غلام آزاد کرا دے۔ اس طرح دوسرے ساجھیوں کو ان کے حصے کی قیمت ادا کر دی جائے اور اس آزاد کیے ہوئے غلام کا پیچھا چھوڑ دیا جائے۔
حدثنا مسدد، حدثنا جويرية بن اسماء، عن نافع، عن ابن عمر رضى الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شركا له في مملوك وجب عليه ان يعتق كله، ان كان له مال قدر ثمنه يقام قيمة عدل ويعطى شركاوه حصتهم ويخلى سبيل المعتق
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے، ان سے نضر بن انس نے، ان سے بشیر بن نہیک نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے کسی ( ساجھے کے ) غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا تو اگر اس کے پاس مال ہے تو پورا غلام آزاد ہو جائے گا۔ ورنہ باقی حصوں کو آزاد کرانے کے لیے اس سے محنت مزدوری کرائی جائے۔ لیکن اس سلسلے میں اس پر کوئی دباو نہ ڈالا جائے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا جرير بن حازم، عن قتادة، عن النضر بن انس، عن بشير بن نهيك، عن ابي هريرة رضى الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " من اعتق شقصا له في عبد، اعتق كله ان كان له مال، والا يستسع غير مشقوق عليه
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، اخبرنا عبد الملك بن جريج، عن عطاء، عن جابر.وعن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهم قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم صبح رابعة من ذي الحجة مهلين بالحج، لا يخلطهم شىء، فلما قدمنا امرنا فجعلناها عمرة، وان نحل الى نساينا، ففشت في ذلك القالة. قال عطاء فقال جابر فيروح احدنا الى منى وذكره يقطر منيا. فقال جابر بكفه، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقام خطيبا فقال " بلغني ان اقواما يقولون كذا وكذا، والله لانا ابر واتقى لله منهم، ولو اني استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت، ولولا ان معي الهدى لاحللت ". فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال يا رسول الله هي لنا او للابد فقال " لا بل للابد ". قال وجاء علي بن ابي طالب فقال احدهما يقول لبيك بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال وقال الاخر لبيك بحجة رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يقيم على احرامه، واشركه في الهدى
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد بن زيد، اخبرنا عبد الملك بن جريج، عن عطاء، عن جابر.وعن طاوس، عن ابن عباس رضى الله عنهم قال قدم النبي صلى الله عليه وسلم صبح رابعة من ذي الحجة مهلين بالحج، لا يخلطهم شىء، فلما قدمنا امرنا فجعلناها عمرة، وان نحل الى نساينا، ففشت في ذلك القالة. قال عطاء فقال جابر فيروح احدنا الى منى وذكره يقطر منيا. فقال جابر بكفه، فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقام خطيبا فقال " بلغني ان اقواما يقولون كذا وكذا، والله لانا ابر واتقى لله منهم، ولو اني استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت، ولولا ان معي الهدى لاحللت ". فقام سراقة بن مالك بن جعشم فقال يا رسول الله هي لنا او للابد فقال " لا بل للابد ". قال وجاء علي بن ابي طالب فقال احدهما يقول لبيك بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم. وقال وقال الاخر لبيك بحجة رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر النبي صلى الله عليه وسلم ان يقيم على احرامه، واشركه في الهدى
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو وکیع نے خبر دی، انہیں سفیان ثوری نے، انہیں ان کے والد سعید بن مسروق نے، انہیں عبایہ بن رفاعہ نے اور ان سے ان کے دادا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں تھے ( غنیمت میں ) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے تھے۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور ( جانور ذبح کر کے ) گوشت کو ہانڈیوں میں چڑھا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے گوشت کی ہانڈیوں کو الٹ دیا گیا۔ پھر ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تقسیم میں ) دس بکریوں کا ایک اونٹ کے برابر حصہ رکھا۔ ایک اونٹ بھاگ کھڑا ہوا۔ قوم کے پاس گھوڑوں کی کمی تھی۔ ایک شخص نے اونٹ کو تیر مار کر روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان جانوروں میں بھی جنگی جانوروں کی طرح وحشت ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک ان کو نہ پکڑ سکو تو تم ان کے ساتھ ہی ایسا سلوک کیا کرو۔ عبایہ نے بیان کیا کہ میرے دادا نے عرض کیا، یا رسول اللہ! ہمیں امید ہے یا خطرہ ہے کہ کہیں کل دشمن سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے اور چھری ہمارے ساتھ نہیں ہے۔ کیا دھار دار لکڑی سے ہم ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، لیکن ذبح کرنے میں جلدی کرو۔ جو چیز خون بہا دے ( اسی سے کاٹ ڈالو ) اگر اس پر اللہ کا نام لیا جائے تو اس کو کھاؤ اور ناخن اور دانت سے ذبح نہ کرو۔ اس کی وجہ میں بتلاتا ہوں دانت تو ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔
حدثنا محمد، اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن ابيه، عن عباية بن رفاعة، عن جده، رافع بن خديج رضى الله عنه قال كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم بذي الحليفة من تهامة، فاصبنا غنما وابلا، فعجل القوم، فاغلوا بها القدور، فجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم فامر بها فاكفيت، ثم عدل عشرا من الغنم بجزور، ثم ان بعيرا ند وليس في القوم الا خيل يسيرة فرماه رجل فحبسه بسهم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " ان لهذه البهايم اوابد كاوابد الوحش، فما غلبكم منها فاصنعوا به هكذا ". قال قال جدي يا رسول الله انا نرجو او نخاف ان نلقى العدو غدا وليس معنا مدى، فنذبح بالقصب فقال " اعجل او ارني، ما انهر الدم وذكر اسم الله عليه فكلوا، ليس السن والظفر، وساحدثكم عن ذلك، اما السن فعظم، واما الظفر فمدى الحبشة