Loading...

Loading...
کتب
۳۱ احادیث
حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا الاوزاعي، عن عطاء، عن جابر رضى الله عنه قال كانوا يزرعونها بالثلث والربع والنصف فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او ليمنحها، فان لم يفعل فليمسك ارضه ". وقال الربيع بن نافع ابو توبة حدثنا معاوية، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او ليمنحها اخاه، فان ابى فليمسك ارضه
حدثنا عبيد الله بن موسى، اخبرنا الاوزاعي، عن عطاء، عن جابر رضى الله عنه قال كانوا يزرعونها بالثلث والربع والنصف فقال النبي صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او ليمنحها، فان لم يفعل فليمسك ارضه ". وقال الربيع بن نافع ابو توبة حدثنا معاوية، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من كانت له ارض فليزرعها او ليمنحها اخاه، فان ابى فليمسك ارضه
ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے اس کا (یعنی رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کا) ذکر طاؤس سے کیا تو انہوں نے کہا کہ ( بٹائی وغیرہ پر ) کاشت کرا سکتا ہے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں کیا تھا۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ اپنے کسی بھائی کو زمین بخشش کے طور پر دے دینا اس سے بہتر ہے کہ اس پر کوئی محصول لے۔ ( یہ اس صورت میں کہ زمیندار کے پاس فالتو زمین بیکار پڑی ہو ) ۔
حدثنا قبيصة، حدثنا سفيان، عن عمرو، قال ذكرته لطاوس فقال يزرع، قال ابن عباس رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم لم ينه عنه ولكن قال " ان يمنح احدكم اخاه خير له من ان ياخذ شييا معلوما
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يكري مزارعه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان وصدرا من امارة معاوية. ثم حدث عن رافع بن خديج، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع، فذهب ابن عمر الى رافع فذهبت معه، فساله فقال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كراء المزارع. فقال ابن عمر قد علمت انا كنا نكري مزارعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بما على الاربعاء وبشىء من التبن
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد، عن ايوب، عن نافع، ان ابن عمر رضى الله عنهما كان يكري مزارعه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم وابي بكر وعمر وعثمان وصدرا من امارة معاوية. ثم حدث عن رافع بن خديج، ان النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن كراء المزارع، فذهب ابن عمر الى رافع فذهبت معه، فساله فقال نهى النبي صلى الله عليه وسلم عن كراء المزارع. فقال ابن عمر قد علمت انا كنا نكري مزارعنا على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم بما على الاربعاء وبشىء من التبن
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، انہیں سالم نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مجھے معلوم تھا کہ زمین کو بٹائی پر دیا جاتا تھا۔ پھر انہیں ڈر ہوا کہ ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں کوئی نئی ہدایت فرمائی ہو جس کا علم انہیں نہ ہوا ہو۔ چنانچہ انہوں نے ( احتیاطاً ) زمین کو بٹائی پر دینا چھوڑ دیا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن عقيل، عن ابن شهاب، اخبرني سالم، ان عبد الله بن عمر رضى الله عنهما قال كنت اعلم في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ان الارض تكرى. ثم خشي عبد الله ان يكون النبي صلى الله عليه وسلم قد احدث في ذلك شييا لم يكن يعلمه، فترك كراء الارض
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا الليث، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن حنظلة بن قيس، عن رافع بن خديج، قال حدثني عماى، انهم كانوا يكرون الارض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الاربعاء او شىء يستثنيه صاحب الارض فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقلت لرافع فكيف هي بالدينار والدرهم فقال رافع ليس بها باس بالدينار والدرهم. وقال الليث وكان الذي نهي عن ذلك ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه، لما فيه من المخاطرة
حدثنا عمرو بن خالد، حدثنا الليث، عن ربيعة بن ابي عبد الرحمن، عن حنظلة بن قيس، عن رافع بن خديج، قال حدثني عماى، انهم كانوا يكرون الارض على عهد النبي صلى الله عليه وسلم بما ينبت على الاربعاء او شىء يستثنيه صاحب الارض فنهى النبي صلى الله عليه وسلم عن ذلك فقلت لرافع فكيف هي بالدينار والدرهم فقال رافع ليس بها باس بالدينار والدرهم. وقال الليث وكان الذي نهي عن ذلك ما لو نظر فيه ذوو الفهم بالحلال والحرام لم يجيزوه، لما فيه من المخاطرة
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، (دوسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیان فرما رہے تھے ایک دیہاتی بھی مجلس میں حاضر تھا کہ اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا اپنی موجودہ حالت پر تو راضی نہیں ہے؟ وہ کہے گا کیوں نہیں! لیکن میرا جی کھیتی کرنے کو چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس نے بیج ڈالا۔ پلک جھپکنے میں وہ اگ بھی آیا۔ پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! اسے رکھ لے، تجھے کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم اللہ کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہو گا۔ کیونکہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔
حدثنا محمد بن سنان، حدثنا فليح، حدثنا هلال، وحدثنا عبد الله بن محمد، حدثنا ابو عامر، حدثنا فليح، عن هلال بن علي، عن عطاء بن يسار، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم كان يوما يحدث وعنده رجل من اهل البادية " ان رجلا من اهل الجنة استاذن ربه في الزرع فقال له الست فيما شيت قال بلى ولكني احب ان ازرع. قال فبذر فبادر الطرف نباته واستواوه واستحصاده، فكان امثال الجبال فيقول الله دونك يا ابن ادم، فانه لا يشبعك شىء ". فقال الاعرابي والله لا تجده الا قرشيا او انصاريا، فانهم اصحاب زرع، واما نحن فلسنا باصحاب زرع. فضحك النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یعقوب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے، ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ جمعہ کے دن ہمیں بہت خوشی ( اس بات کی ) ہوتی تھی کہ ہماری ایک بوڑھی عورت تھیں جو اس چقندر کو اکھاڑ لاتیں جسے ہم اپنے باغ کی مینڈوں پر بو دیا کرتے تھے۔ وہ ان کو اپنی ہانڈی میں پکاتیں اور اس میں تھوڑے سے جَو بھی ڈال دیتیں۔ ابوحازم نے کہا میں نہیں جانتا کہ سہل نے یوں کہا نہ اس میں چربی ہوتی نہ چکنائی۔ پھر جب ہم جمعہ کی نماز پڑھ لیتے تو ان کی خدمت میں حاضر ہوتے۔ وہ اپنا پکوان ہمارے سامنے کر دیتیں۔ اور اس لیے ہمیں جمعہ کے دن کی خوشی ہوتی تھی۔ اور ہم دوپہر کا کھانا اور قیلولہ جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔
حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه انه قال انا كنا نفرح بيوم الجمعة، كانت لنا عجوز تاخذ من اصول سلق لنا كنا نغرسه في اربعاينا فتجعله في قدر لها فتجعل فيه حبات من شعير لا اعلم الا انه قال ليس فيه شحم ولا ودك، فاذا صلينا الجمعة زرناها فقربته، الينا فكنا نفرح بيوم الجمعة من اجل ذلك وما كنا نتغدى ولا نقيل الا بعد الجمعة
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے، آپ نے فرمایا کہ لوگ کہتے ہیں ابوہریرہ بہت حدیث بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ مجھے بھی اللہ سے ملنا ہے ( میں غلط بیانی کیسے کر سکتا ہوں ) یہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ مہاجرین اور انصار آخر اس کی طرح کیوں احادیث بیان نہیں کرتے؟ بات یہ ہے کہ میرے بھائی مہاجرین بازاروں میں خرید و فروخت میں مشغول رہا کرتے اور میرے بھائی انصار کو ان کی جائیداد ( کھیت اور باغات وغیرہ ) مشغول رکھا کرتی تھی۔ صرف میں ایک مسکین آدمی تھا۔ پیٹ بھر لینے کے بعد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت ہی میں برابر حاضر رہا کرتا۔ جب یہ سب حضرات غیر حاضر رہتے تو میں حاضر ہوتا۔ اس لیے جن احادیث کو یہ یاد نہیں کر سکتے تھے، میں انہیں یاد رکھتا تھا، اور ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ تم میں سے جو شخص بھی اپنے کپڑے کو میری اس تقریر کے ختم ہونے تک پھیلائے رکھے پھر ( تقریر ختم ہونے پر ) اسے اپنے سینے سے لگا لے تو وہ میری احادیث کو کبھی نہیں بھولے گا۔ میں نے اپنی کملی کو پھیلا دیا۔ جس کے سوا میرا بدن پر اور کوئی کپڑا نہیں تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تقریر ختم فرمائی تو میں نے وہ چادر اپنے سینے سے لگا لی۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا، پھر آج تک میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسی ارشاد کی وجہ سے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث نہیں بھولا ) اللہ گواہ ہے کہ اگر قرآن کی دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں تم سے کوئی حدیث کبھی بیان نہ کرتا آیت «إن الذين يكتمون ما أنزلنا من البينات» سے اللہ تعالیٰ کے ارشاد «الرحيم» تک۔ ( جس میں ) اس دین کے چھپانے والے پر، جسے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ دنیا میں بھیجا ہے، سخت لعنت کی گئی ہے۔
حدثنا موسى بن اسماعيل، حدثنا ابراهيم بن سعد، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال يقولون ان ابا هريرة يكثر الحديث. والله الموعد، ويقولون ما للمهاجرين والانصار لا يحدثون مثل احاديثه وان اخوتي من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالاسواق، وان اخوتي من الانصار كان يشغلهم عمل اموالهم، وكنت امرا مسكينا الزم رسول الله صلى الله عليه وسلم على ملء بطني، فاحضر حين يغيبون واعي حين ينسون، وقال النبي صلى الله عليه وسلم يوما " لن يبسط احد منكم ثوبه حتى اقضي مقالتي هذه، ثم يجمعه الى صدره، فينسى من مقالتي شييا ابدا ". فبسطت نمرة ليس على ثوب غيرها، حتى قضى النبي صلى الله عليه وسلم مقالته، ثم جمعتها الى صدري، فوالذي بعثه بالحق ما نسيت من مقالته تلك الى يومي هذا، والله لولا ايتان في كتاب الله ما حدثتكم شييا ابدا {ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينات} الى قوله {الرحيم}