Loading...

Loading...
کتب
۷۶ احادیث
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ سے سلیمان نے عمرو بن ابی عمرو کے واسطے سے بیان کیا۔ وہ سعید بن ابی سعید المقبری کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے سب سے زیادہ سعادت کسے ملے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مجھے یقین تھا کہ تم سے پہلے کوئی اس کے بارے میں مجھ سے دریافت نہیں کرے گا۔ کیونکہ میں نے حدیث کے متعلق تمہاری حرص دیکھ لی تھی۔ سنو! قیامت میں سب سے زیادہ فیض یاب میری شفاعت سے وہ شخص ہو گا، جو سچے دل سے یا سچے جی سے «لا إله إلا الله» کہے گا۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني سليمان، عن عمرو بن ابي عمرو، عن سعيد بن ابي سعيد المقبري، عن ابي هريرة، انه قال قيل يا رسول الله، من اسعد الناس بشفاعتك يوم القيامة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " لقد ظننت يا ابا هريرة ان لا يسالني عن هذا الحديث احد اول منك، لما رايت من حرصك على الحديث، اسعد الناس بشفاعتي يوم القيامة من قال لا اله الا الله، خالصا من قلبه او نفسه
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، ان سے مالک نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے نقل کیا، انہوں نے عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے نقل کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ ( پختہ کار ) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنا لیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ فربری نے کہا ہم سے عباس نے بیان کیا، کہا ہم سے قتیبہ نے، کہا ہم سے جریر نے، انہوں نے ہشام سے مانند اس حدیث کے۔
حدثنا اسماعيل بن ابي اويس، قال حدثني مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول " ان الله لا يقبض العلم انتزاعا، ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء، حتى اذا لم يبق عالما، اتخذ الناس رءوسا جهالا فسيلوا، فافتوا بغير علم، فضلوا واضلوا ". قال الفربري حدثنا عباس قال حدثنا قتيبة حدثنا جرير عن هشام نحوه
ہم سے آدم نے بیان کیا، ان سے شعبہ نے، ان سے ابن الاصبہانی نے، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے سنا، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عورتوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فائدہ اٹھانے میں ) مرد ہم سے آگے بڑھ گئے ہیں، اس لیے آپ اپنی طرف سے ہمارے ( وعظ کے ) لیے ( بھی ) کوئی دن خاص فرما دیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک دن کا وعدہ فرما لیا۔ اس دن عورتوں سے آپ نے ملاقات کی اور انہیں وعظ فرمایا اور ( مناسب ) احکام سنائے جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس میں یہ بات بھی تھی کہ جو کوئی عورت تم میں سے ( اپنے ) تین ( لڑکے ) آگے بھیج دے گی تو وہ اس کے لیے دوزخ سے پناہ بن جائیں گے۔ اس پر ایک عورت نے کہا، اگر دو ( بچے بھیج دے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں! اور دو ( کا بھی یہ حکم ہے ) ۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثني ابن الاصبهاني، قال سمعت ابا صالح، ذكوان يحدث عن ابي سعيد الخدري،. قالت النساء للنبي صلى الله عليه وسلم غلبنا عليك الرجال، فاجعل لنا يوما من نفسك. فوعدهن يوما لقيهن فيه، فوعظهن وامرهن، فكان فيما قال لهن " ما منكن امراة تقدم ثلاثة من ولدها الا كان لها حجابا من النار ". فقالت امراة واثنين فقال " واثنين
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ان سے غندر نے، ان سے شعبہ نے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی کے واسطے سے بیان کیا، وہ ذکوان سے، وہ ابوسعید سے اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں۔ اور (دوسری سند میں) عبدالرحمٰن الاصبہانی کہتے ہیں کہ میں نے ابوحازم سے سنا، وہ ابوہریرہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ایسے تین ( بچے ) جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچے ہوں۔
حدثنا محمد بن بشار، قال حدثنا غندر، قال حدثنا شعبة، عن عبد الرحمن بن الاصبهاني، عن ذكوان، عن ابي سعيد الخدري، عن النبي صلى الله عليه وسلم بهذا. وعن عبد الرحمن بن الاصبهاني، قال سمعت ابا حازم، عن ابي هريرة، قال " ثلاثة لم يبلغوا الحنث
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، انہیں نافع بن عمر نے خبر دی، انہیں ابن ابی ملیکہ نے بتلایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہا جب کوئی ایسی باتیں سنتیں جس کو سمجھ نہ پاتیں تو دوبارہ اس کو معلوم کرتیں تاکہ سمجھ لیں۔ چنانچہ ( ایک مرتبہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس سے حساب لیا گیا اسے عذاب کیا جائے گا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ( یہ سن کر ) میں نے کہا کہ کیا اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ عنقریب اس سے آسان حساب لیا جائے گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ صرف ( اللہ کے دربار میں ) پیشی کا ذکر ہے۔ لیکن جس کے حساب میں جانچ پڑتال کی گئی ( سمجھو ) وہ غارت ہو گیا۔
حدثنا سعيد بن ابي مريم، قال اخبرنا نافع بن عمر، قال حدثني ابن ابي مليكة، ان عايشة، زوج النبي صلى الله عليه وسلم كانت لا تسمع شييا لا تعرفه الا راجعت فيه حتى تعرفه، وان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من حوسب عذب ". قالت عايشة فقلت او ليس يقول الله تعالى {فسوف يحاسب حسابا يسيرا} قالت فقال " انما ذلك العرض، ولكن من نوقش الحساب يهلك
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، ان سے لیث نے، ان سے سعید بن ابی سعید نے، وہ ابوشریح سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عمرو بن سعید ( والی مدینہ ) سے جب وہ مکہ میں ( ابن زبیر سے لڑنے کے لیے ) فوجیں بھیج رہے تھے کہا کہ اے امیر! مجھے آپ اجازت دیں تو میں وہ حدیث آپ سے بیان کر دوں، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمائی تھی، اس ( حدیث ) کو میرے دونوں کانوں نے سنا اور میرے دل نے اسے یاد رکھا ہے اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث فرما رہے تھے تو میری آنکھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پہلے ) اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا کہ مکہ کو اللہ نے حرام کیا ہے، آدمیوں نے حرام نہیں کیا۔ تو ( سن لو ) کہ کسی شخص کے لیے جو اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو جائز نہیں ہے کہ مکہ میں خون ریزی کرے، یا اس کا کوئی پیڑ کاٹے، پھر اگر کوئی اللہ کے رسول ( کے لڑنے ) کی وجہ سے اس کا جواز نکالے تو اس سے کہہ دو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اجازت دی تھی، تمہارے لیے نہیں دی اور مجھے بھی دن کے کچھ لمحوں کے لیے اجازت ملی تھی۔ آج اس کی حرمت لوٹ آئی، جیسی کل تھی۔ اور حاضر غائب کو ( یہ بات ) پہنچا دے۔ ( یہ حدیث سننے کے بعد راوی حدیث ) ابوشریح سے پوچھا گیا کہ ( آپ کی یہ بات سن کر ) عمرو نے کیا جواب دیا؟ کہا یوں کہ اے ( ابوشریح! ) حدیث کو میں تم سے زیادہ جانتا ہوں۔ مگر حرم ( مکہ ) کسی خطاکار کو یا خون کر کے اور فتنہ پھیلا کر بھاگ آنے والے کو پناہ نہیں دیتا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال حدثني الليث، قال حدثني سعيد، عن ابي شريح، انه قال لعمرو بن سعيد وهو يبعث البعوث الى مكة ايذن لي ايها الامير احدثك قولا قام به النبي صلى الله عليه وسلم الغد من يوم الفتح، سمعته اذناى ووعاه قلبي، وابصرته عيناى، حين تكلم به، حمد الله واثنى عليه ثم قال " ان مكة حرمها الله، ولم يحرمها الناس، فلا يحل لامري يومن بالله واليوم الاخر ان يسفك بها دما، ولا يعضد بها شجرة، فان احد ترخص لقتال رسول الله صلى الله عليه وسلم فيها فقولوا ان الله قد اذن لرسوله، ولم ياذن لكم. وانما اذن لي فيها ساعة من نهار، ثم عادت حرمتها اليوم كحرمتها بالامس، وليبلغ الشاهد الغايب ". فقيل لابي شريح ما قال عمرو قال انا اعلم منك يا ابا شريح، لا يعيذ عاصيا، ولا فارا بدم، ولا فارا بخربة
(ہم سے عبداللہ بن عبدالوہاب نے بیان کیا، ان سے حماد نے ایوب کے واسطے سے نقل کیا، وہ محمد سے اور وہ ابن ابی بکرہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ) ابوبکرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یوں ) فرمایا، تمہارے خون اور تمہارے مال، محمد کہتے ہیں کہ میرے خیال میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «وأعراضكم» کا لفظ بھی فرمایا۔ ( یعنی ) اور تمہاری آبروئیں تم پر حرام ہیں۔ جس طرح تمہارے آج کے دن کی حرمت تمہارے اس مہینے میں۔ سن لو! یہ خبر حاضر غائب کو پہنچا دے۔ اور محمد ( راوی حدیث ) کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا۔ ( پھر ) دوبارہ فرمایا کہ کیا میں نے ( اللہ کا یہ حکم ) تمہیں نہیں پہنچا دیا۔
حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب، قال حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن ابن ابي بكرة، عن ابي بكرة، ذكر النبي صلى الله عليه وسلم قال " فان دماءكم واموالكم قال محمد واحسبه قال واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في شهركم هذا، الا ليبلغ الشاهد منكم الغايب ". وكان محمد يقول صدق رسول الله صلى الله عليه وسلم كان ذلك " الا هل بلغت " مرتين
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، انہیں شعبہ نے خبر دی، انہیں منصور نے، انہوں نے ربعی بن حراش سے سنا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھ پر جھوٹ مت بولو۔ کیونکہ جو مجھ پر جھوٹ باندھے وہ دوزخ میں داخل ہو۔
حدثنا علي بن الجعد، قال اخبرنا شعبة، قال اخبرني منصور، قال سمعت ربعي بن حراش، يقول سمعت عليا، يقول قال النبي صلى الله عليه وسلم " لا تكذبوا على، فانه من كذب على فليلج النار
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے جامع بن شداد نے، وہ عامر بن عبداللہ بن زبیر سے اور وہ اپنے باپ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا میں نے اپنے باپ یعنی زبیر سے عرض کیا کہ میں نے کبھی آپ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث نہیں سنیں۔ جیسا کہ فلاں، فلاں بیان کرتے ہیں، کہا میں کبھی آپ سے الگ تھلگ نہیں رہا لیکن میں نے آپ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص مجھ پر جھوٹ باندھے گا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
حدثنا ابو الوليد، قال حدثنا شعبة، عن جامع بن شداد، عن عامر بن عبد الله بن الزبير، عن ابيه، قال قلت للزبير اني لا اسمعك تحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم كما يحدث فلان وفلان. قال اما اني لم افارقه ولكن سمعته يقول " من كذب على فليتبوا مقعده من النار
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، ان سے عبدالوارث نے عبدالعزیز کے واسطے سے نقل کیا کہ انس رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ مجھے بہت سی حدیثیں بیان کرنے سے یہ بات روکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ باندھے تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
حدثنا ابو معمر، قال حدثنا عبد الوارث، عن عبد العزيز، قال انس انه ليمنعني ان احدثكم حديثا كثيرا ان النبي صلى الله عليه وسلم قال " من تعمد على كذبا فليتبوا مقعده من النار
ہم سے مکی ابن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے یزید بن ابی عبید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص میرے نام سے وہ بات بیان کرے جو میں نے نہیں کہی تو وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔
حدثنا مكي بن ابراهيم، قال حدثنا يزيد بن ابي عبيد، عن سلمة، قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول " من يقل على ما لم اقل فليتبوا مقعده من النار
ہم سے موسیٰ نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے ابی حصین کے واسطہ سے نقل کیا، وہ ابوصالح سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ ( اپنی اولاد ) کا میرے نام کے اوپر نام رکھو۔ مگر میری کنیت اختیار نہ کرو اور جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا تو بلاشبہ اس نے مجھے دیکھا۔ کیونکہ شیطان میری صورت میں نہیں آ سکتا اور جو شخص مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے وہ دوزخ میں اپنا ٹھکانہ تلاش کرے۔
حدثنا موسى، قال حدثنا ابو عوانة، عن ابي حصين، عن ابي صالح، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال " تسموا باسمي ولا تكتنوا بكنيتي، ومن راني في المنام فقد راني، فان الشيطان لا يتمثل في صورتي، ومن كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، انہیں وکیع نے سفیان سے خبر دی، انہوں نے مطرف سے سنا، انہوں نے شعبی رحمہ اللہ سے، انہوں نے ابوحجیفہ سے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ( اور بھی ) کتاب ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں، مگر اللہ کی کتاب قرآن ہے یا پھر فہم ہے جو وہ ایک مسلمان کو عطا کرتا ہے۔ یا پھر جو کچھ اس صحیفے میں ہے۔ میں نے پوچھا، اس صحیفے میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا، دیت اور قیدیوں کی رہائی کا بیان ہے اور یہ حکم کہ مسلمان، کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔
حدثنا محمد بن سلام، قال اخبرنا وكيع، عن سفيان، عن مطرف، عن الشعبي، عن ابي جحيفة، قال قلت لعلي هل عندكم كتاب قال لا، الا كتاب الله، او فهم اعطيه رجل مسلم، او ما في هذه الصحيفة. قال قلت فما في هذه الصحيفة قال العقل، وفكاك الاسير، ولا يقتل مسلم بكافر
ہم سے ابونعیم الفضل بن دکین نے بیان کیا، ان سے شیبان نے یحییٰ کے واسطے سے نقل کیا، وہ ابوسلمہ سے، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ قبیلہ خزاعہ ( کے کسی شخص ) نے بنو لیث کے کسی آدمی کو اپنے کسی مقتول کے بدلے میں مار دیا تھا، یہ فتح مکہ والے سال کی بات ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر دی گئی، آپ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر خطبہ پڑھا اور فرمایا کہ اللہ نے مکہ سے قتل یا ہاتھی کو روک لیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس لفظ کو شک کے ساتھ سمجھو، ایسا ہی ابونعیم وغیرہ نے «القتل» اور «الفيل» کہا ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے لوگ «الفيل» کہتے ہیں۔ ( پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) کہ اللہ نے ان پر اپنے رسول اور مسلمان کو غالب کر دیا اور سمجھ لو کہ وہ ( مکہ ) کسی کے لیے حلال نہیں ہوا۔ نہ مجھ سے پہلے اور نہ ( آئندہ ) کبھی ہو گا اور میرے لیے بھی صرف دن کے تھوڑے سے حصہ کے لیے حلال کر دیا گیا تھا۔ سن لو کہ وہ اس وقت حرام ہے۔ نہ اس کا کوئی کانٹا توڑا جائے، نہ اس کے درخت کاٹے جائیں اور اس کی گری پڑی چیزیں بھی وہی اٹھائے جس کا منشاء یہ ہو کہ وہ اس چیز کا تعارف کرا دے گا۔ تو اگر کوئی شخص مارا جائے تو ( اس کے عزیزوں کو ) اختیار ہے دو باتوں کا، یا دیت لیں یا بدلہ۔ اتنے میں ایک یمنی آدمی ( ابوشاہ نامی ) آیا اور کہنے لگا ( یہ مسائل ) میرے لیے لکھوا دیجیئے۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوفلاں کے لیے ( یہ مسائل ) لکھ دو۔ تو ایک قریشی شخص نے کہا کہ یا رسول اللہ! مگر اذخر ( یعنی اذخر کاٹنے کی اجازت دے دیجیئے ) کیونکہ اسے ہم گھروں کی چھتوں پر ڈالتے ہیں۔ ( یا مٹی ملا کر ) اور اپنی قبروں میں بھی ڈالتے ہیں ( یہ سن کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ( ہاں ) مگر اذخر، مگر اذخر۔
حدثنا ابو نعيم الفضل بن دكين، قال حدثنا شيبان، عن يحيى، عن ابي سلمة، عن ابي هريرة، ان خزاعة، قتلوا رجلا من بني ليث عام فتح مكة بقتيل منهم قتلوه، فاخبر بذلك النبي صلى الله عليه وسلم فركب راحلته، فخطب فقال " ان الله حبس عن مكة القتل او الفيل شك ابو عبد الله وسلط عليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم والمومنين، الا وانها لم تحل لاحد قبلي، ولا تحل لاحد بعدي الا وانها حلت لي ساعة من نهار، الا وانها ساعتي هذه حرام، لا يختلى شوكها، ولا يعضد شجرها، ولا تلتقط ساقطتها الا لمنشد، فمن قتل فهو بخير النظرين اما ان يعقل، واما ان يقاد اهل القتيل ". فجاء رجل من اهل اليمن فقال اكتب لي يا رسول الله. فقال " اكتبوا لابي فلان ". فقال رجل من قريش الا الاذخر يا رسول الله، فانا نجعله في بيوتنا وقبورنا. فقال النبي صلى الله عليه وسلم " الا الاذخر، الا الاذخر ". قال ابو عبد الله يقال يقاد بالقاف. فقيل لابي عبد الله اى شىء كتب له قال كتب له هذه الخطبة
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، ان سے سفیان نے، ان سے عمرو نے، وہ کہتے ہیں کہ مجھے وہب بن منبہ نے اپنے بھائی کے واسطے سے خبر دی، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کے علاوہ مجھ سے زیادہ کوئی حدیث بیان کرنے والا نہیں تھا۔ مگر وہ لکھ لیا کرتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا۔ دوسری سند سے معمر نے وہب بن منبہ کی متابعت کی، وہ ہمام سے روایت کرتے ہیں، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے۔
حدثنا علي بن عبد الله، قال حدثنا سفيان، قال حدثنا عمرو، قال اخبرني وهب بن منبه، عن اخيه، قال سمعت ابا هريرة، يقول ما من اصحاب النبي صلى الله عليه وسلم احد اكثر حديثا عنه مني، الا ما كان من عبد الله بن عمرو فانه كان يكتب ولا اكتب. تابعه معمر عن همام عن ابي هريرة
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے ابن وہب نے، انہیں یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ سے، وہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مرض میں شدت ہو گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس سامان کتابت لاؤ تاکہ تمہارے لیے ایک تحریر لکھ دوں، تاکہ بعد میں تم گمراہ نہ ہو سکو، اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ( لوگوں سے ) کہا کہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر تکلیف کا غلبہ ہے اور ہمارے پاس اللہ کی کتاب قرآن موجود ہے جو ہمیں ( ہدایت کے لیے ) کافی ہے۔ اس پر لوگوں کی رائے مختلف ہو گئی اور شور و غل زیادہ ہونے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے پاس سے اٹھ کھڑے ہو، میرے پاس جھگڑنا ٹھیک نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما یہ کہتے ہوئے نکل آئے کہ بیشک مصیبت بڑی سخت مصیبت ہے ( وہ چیز جو ) ہمارے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور آپ کی تحریر کے درمیان حائل ہو گئی۔
حدثنا يحيى بن سليمان، قال حدثني ابن وهب، قال اخبرني يونس، عن ابن شهاب، عن عبيد الله بن عبد الله، عن ابن عباس، قال لما اشتد بالنبي صلى الله عليه وسلم وجعه قال " ايتوني بكتاب اكتب لكم كتابا لا تضلوا بعده ". قال عمر ان النبي صلى الله عليه وسلم غلبه الوجع وعندنا كتاب الله حسبنا فاختلفوا وكثر اللغط. قال " قوموا عني، ولا ينبغي عندي التنازع ". فخرج ابن عباس يقول ان الرزية كل الرزية ما حال بين رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين كتابه
صدقہ نے ہم سے بیان کیا، انہیں ابن عیینہ نے معمر کے واسطے سے خبر دی، وہ زہری سے روایت کرتے ہیں، زہری ہند سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے، (دوسری سند میں) عمرو اور یحییٰ بن سعید زہری سے، وہ ایک عورت سے، وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتی ہیں کہ ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیدار ہوتے ہی فرمایا کہ سبحان اللہ! آج کی رات کس قدر فتنے اتارے گئے ہیں اور کتنے ہی خزانے بھی کھولے گئے ہیں۔ ان حجرہ والیوں کو جگاؤ۔ کیونکہ بہت سی عورتیں ( جو ) دنیا میں ( باریک ) کپڑا پہننے والی ہیں وہ آخرت میں ننگی ہوں گی۔
حدثنا صدقة، اخبرنا ابن عيينة، عن معمر، عن الزهري، عن هند، عن ام سلمة، وعمرو، ويحيى بن سعيد، عن الزهري، عن هند، عن ام سلمة، قالت استيقظ النبي صلى الله عليه وسلم ذات ليلة فقال " سبحان الله ماذا انزل الليلة من الفتن وماذا فتح من الخزاين ايقظوا صواحبات الحجر، فرب كاسية في الدنيا عارية في الاخرة
سعید بن عفیر نے ہم سے بیان کیا، ان سے لیث نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے سالم اور ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ آخر عمر میں ( ایک دفعہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو کھڑے ہو گئے اور فرمایا کہ تمہاری آج کی رات وہ ہے کہ اس رات سے سو برس کے آخر تک کوئی شخص جو زمین پر ہے وہ باقی نہیں رہے گا۔
حدثنا سعيد بن عفير، قال حدثني الليث، قال حدثني عبد الرحمن بن خالد، عن ابن شهاب، عن سالم، وابي، بكر بن سليمان بن ابي حثمة ان عبد الله بن عمر، قال صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم العشاء في اخر حياته، فلما سلم قام فقال " ارايتكم ليلتكم هذه، فان راس ماية سنة منها لا يبقى ممن هو على ظهر الارض احد
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان کو حکم نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گزاری اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ( اس دن ) ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی۔ پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت ( نماز نفل ) پڑھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، پھر اٹھے اور فرمایا کہ ( ابھی تک یہ ) لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔ پھر آپ ( نماز پڑھنے ) کھڑے ہو گئے اور میں ( بھی وضو کر کے ) آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دائیں جانب ( کھڑا ) کر لیا، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے ( باہر ) تشریف لے آئے۔
حدثنا ادم، قال حدثنا شعبة، قال حدثنا الحكم، قال سمعت سعيد بن جبير، عن ابن عباس، قال بت في بيت خالتي ميمونة بنت الحارث زوج النبي صلى الله عليه وسلم وكان النبي صلى الله عليه وسلم عندها في ليلتها، فصلى النبي صلى الله عليه وسلم العشاء، ثم جاء الى منزله، فصلى اربع ركعات، ثم نام، ثم قام، ثم قال " نام الغليم ". او كلمة تشبهها، ثم قام فقمت عن يساره، فجعلني عن يمينه، فصلى خمس ركعات ثم صلى ركعتين، ثم نام حتى سمعت غطيطه او خطيطه ثم خرج الى الصلاة
عبدالعزیز بن عبداللہ نے ہم سے بیان کیا، ان سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے اعرج سے، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، وہ کہتے ہیں کہ لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بہت حدیثیں بیان کرتے ہیں اور ( میں کہتا ہوں ) کہ قرآن میں دو آیتیں نہ ہوتیں تو میں کوئی حدیث بیان نہ کرتا۔ پھر یہ آیت پڑھی، ( جس کا ترجمہ یہ ہے ) کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی دلیلوں اور آیتوں کو چھپاتے ہیں ( آخر آیت ) «رحيم» تک۔ ( واقعہ یہ ہے کہ ) ہمارے مہاجرین بھائی تو بازار کی خرید و فروخت میں لگے رہتے تھے اور انصار بھائی اپنی جائیدادوں میں مشغول رہتے اور ابوہریرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جی بھر کر رہتا ( تاکہ آپ کی رفاقت میں شکم پری سے بھی بےفکری رہے ) اور ( ان مجلسوں میں ) حاضر رہتا جن ( مجلسوں ) میں دوسرے حاضر نہ ہوتے اور وہ ( باتیں ) محفوظ رکھتا جو دوسرے محفوظ نہیں رکھ سکتے تھے۔
حدثنا عبد العزيز بن عبد الله، قال حدثني مالك، عن ابن شهاب، عن الاعرج، عن ابي هريرة، قال ان الناس يقولون اكثر ابو هريرة، ولولا ايتان في كتاب الله ما حدثت حديثا، ثم يتلو {ان الذين يكتمون ما انزلنا من البينات} الى قوله {الرحيم} ان اخواننا من المهاجرين كان يشغلهم الصفق بالاسواق، وان اخواننا من الانصار كان يشغلهم العمل في اموالهم، وان ابا هريرة كان يلزم رسول الله صلى الله عليه وسلم بشبع بطنه ويحضر ما لا يحضرون، ويحفظ ما لا يحفظون