Loading...

Loading...
کتب
۳۳ احادیث
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ابوبکر بن عبدالرحمٰن کے غلام سمی نے خبر دی، انہیں ابوصالح سمان نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن سمى، مولى ابي بكر بن عبد الرحمن عن ابي صالح السمان، عن ابي هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال " العمرة الى العمرة كفارة لما بينهما، والحج المبرور ليس له جزاء الا الجنة
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں ابن جریج نے خبر دی کہ عکرمہ بن خالد نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حج سے پہلے عمرہ کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، عکرمہ نے کہا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بتلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کرنے سے پہلے عمرہ ہی کیا تھا اور ابراہیم بن سعد نے محمد بن اسحاق سے بیان کیا، ان سے عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا پھر یہی حدیث بیان کی۔ ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، ان سے ابوعاصم نے بیان کیا، انہیں ابن جریج نے خبر دی، ان سے عکرمہ بن خالد نے بیان کیا کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا پھر یہی حدیث بیان کی۔
حدثنا احمد بن محمد، اخبرنا عبد الله، اخبرنا ابن جريج، ان عكرمة بن خالد، سال ابن عمر رضى الله عنهما عن العمرة، قبل الحج فقال لا باس. قال عكرمة قال ابن عمر اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم قبل ان يحج. وقال ابراهيم بن سعد عن ابن اسحاق حدثني عكرمة بن خالد سالت ابن عمر مثله. حدثنا عمرو بن علي، حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، قال عكرمة بن خالد سالت ابن عمر رضى الله عنه مثله
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، قال دخلت انا وعروة بن الزبير المسجد،، فاذا عبد الله بن عمر رضى الله عنهما جالس الى حجرة عايشة، واذا ناس يصلون في المسجد صلاة الضحى. قال فسالناه عن صلاتهم. فقال بدعة. ثم قال له كم اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اربع احداهن في رجب، فكرهنا ان نرد عليه. قال وسمعنا استنان، عايشة ام المومنين في الحجرة، فقال عروة يا اماه، يا ام المومنين. الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن. قالت ما يقول قال يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمرات احداهن في رجب. قالت يرحم الله ابا عبد الرحمن، ما اعتمر عمرة الا وهو شاهده، وما اعتمر في رجب قط
حدثنا قتيبة، حدثنا جرير، عن منصور، عن مجاهد، قال دخلت انا وعروة بن الزبير المسجد،، فاذا عبد الله بن عمر رضى الله عنهما جالس الى حجرة عايشة، واذا ناس يصلون في المسجد صلاة الضحى. قال فسالناه عن صلاتهم. فقال بدعة. ثم قال له كم اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم قال اربع احداهن في رجب، فكرهنا ان نرد عليه. قال وسمعنا استنان، عايشة ام المومنين في الحجرة، فقال عروة يا اماه، يا ام المومنين. الا تسمعين ما يقول ابو عبد الرحمن. قالت ما يقول قال يقول ان رسول الله صلى الله عليه وسلم اعتمر اربع عمرات احداهن في رجب. قالت يرحم الله ابا عبد الرحمن، ما اعتمر عمرة الا وهو شاهده، وما اعتمر في رجب قط
ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی، کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی، ان سے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا تھا۔
حدثنا ابو عاصم، اخبرنا ابن جريج، قال اخبرني عطاء، عن عروة بن الزبير، قال سالت عايشة رضى الله عنها قالت ما اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في رجب
ہم سے حسان بن حسان نے بیان کیا کہ ہم سے ہمام بن یحییٰ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے عمرے کئے تھے؟ تو آپ نے فرمایا کہ چار، عمرہ حدیبیہ ذی قعدہ میں جہاں پر مشرکین نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روک دیا تھا، پھر آئندہ سال ذی قعدہ ہی میں ایک عمرہ قضاء جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرکین سے صلح کی تھی اور تیسرا عمرہ جعرانہ جس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غالباً حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی، چوتھا حج کے ساتھ میں نے پوچھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کتنے کئے؟ فرمایا کہ ایک۔
حدثنا حسان بن حسان، حدثنا همام، عن قتادة، سالت انسا رضى الله عنه كم اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم قال اربع عمرة الحديبية في ذي القعدة، حيث صده المشركون، وعمرة من العام المقبل في ذي القعدة، حيث صالحهم، وعمرة الجعرانة اذ قسم غنيمة اراه حنين. قلت كم حج قال واحدة
ہم سے ابوالولید ہشام بن عبدالملک نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرہ کے متعلق پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عمرہ وہاں کیا جہاں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرکین نے واپس کر دیا تھا اور دوسرے سال ( اسی ) عمرہ حدیبیہ ( کی قضاء ) کی تھی اور ایک عمرہ ذی قعدہ میں اور ایک اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔
حدثنا ابو الوليد، هشام بن عبد الملك حدثنا همام، عن قتادة، قال سالت انسا رضى الله عنه فقال اعتمر النبي صلى الله عليه وسلم حيث ردوه، ومن القابل عمرة الحديبية، وعمرة في ذي القعدة وعمرة مع حجته
ہم سے ہدبہ بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، اس روایت میں یوں ہے کہ جو عمرہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حج کے ساتھ کیا تھا اس کے سوا تمام عمرے ذی قعدہ ہی میں کئے تھے۔ حدیبیہ کا عمرہ اور دوسرے سال اس کی قضاء کا عمرہ تھا۔ ( کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قران کیا تھا اور حجۃ الوداع سے متعلق ہے ) اور جعرانہ کا عمرہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کی غنیمت تقسیم کی تھی۔ پھر ایک عمرہ اپنے حج کے ساتھ کیا تھا۔
حدثنا هدبة، حدثنا همام، وقال، اعتمر اربع عمر في ذي القعدة الا التي اعتمر مع حجته عمرته من الحديبية، ومن العام المقبل، ومن الجعرانة، حيث قسم غنايم حنين، وعمرة مع حجته
ہم سے احمد بن عثمان نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم بن یوسف نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے اور ان سے ابواسحٰق نے بیان کیا کہ میں نے مسروق، عطاء اور مجاہد رحمہم اللہ تعالیٰ سے پوچھا تو ان سب حضرات نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج سے پہلے ذی قعدہ ہی میں عمرے کئے تھے اور انہوں نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ ذی قعدہ میں حج سے پہلے دو عمرے کئے تھے۔
حدثنا احمد بن عثمان، حدثنا شريح بن مسلمة، حدثنا ابراهيم بن يوسف، عن ابيه، عن ابي اسحاق، قال سالت مسروقا وعطاء ومجاهدا. فقالوا اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة قبل ان يحج. وقال سمعت البراء بن عازب رضى الله عنهما يقول اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم في ذي القعدة، قبل ان يحج مرتين
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے ہمیں خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری خاتون ( ام سنان رضی اللہ عنہا ) سے ( ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کا نام بتایا تھا لیکن مجھے یاد نہ رہا ) پوچھا کہ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی؟ وہ کہنے لگی کہ ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، جس پر ابوفلاں ( یعنی اس کا خاوند ) اور اس کا بیٹا سوار ہو کر حج کے لیے چل دیئے اور ایک اونٹ انہوں نے چھوڑا ہے، جس سے پانی لایا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کے اچھا جب رمضان آئے تو عمرہ کر لینا کیونکہ رمضان کا عمرہ ایک حج کے برابر ہوتا ہے یا اسی جیسی کوئی بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی۔
حدثنا مسدد، حدثنا يحيى، عن ابن جريج، عن عطاء، قال سمعت ابن عباس رضى الله عنهما يخبرنا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لامراة من الانصار سماها ابن عباس، فنسيت اسمها " ما منعك ان تحجي معنا ". قالت كان لنا ناضح فركبه ابو فلان وابنه لزوجها وابنها وترك ناضحا ننضح عليه قال " فاذا كان رمضان اعتمري فيه فان عمرة في رمضان حجة ". او نحوا مما قال
ہم سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی، ان سے ہشام نے بیان کیا، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے نکلے تو ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کوئی حج کا احرام باندھنا چاہتا ہے تو وہ حج کا باندھ لے اور اگر کوئی عمرہ کا باندھنا چاہتا ہے تو وہ عمرہ کا باندھ لے۔ اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ ہم میں بعض نے تو عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا احرام باندھا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، لیکن عرفہ کا دن آیا تو میں اس وقت حائضہ تھی، چنانچہ میں نے اس کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول دے اور اس میں کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھا لینا۔ ( میں نے ایسا ہی کیا ) جب محصب میں قیام کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو میرے ساتھ تنعیم بھیجا، وہاں سے میں نے عمرہ کا احرام اپنے اس عمرہ کے بدلہ میں باندھا ( جس کو توڑ ڈالا تھا ) ۔
حدثنا محمد بن سلام، اخبرنا ابو معاوية، حدثنا هشام، عن ابيه، عن عايشة رضى الله عنها خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين لهلال ذي الحجة فقال لنا " من احب منكم ان يهل بالحج فليهل ومن احب ان يهل بعمرة فليهل بعمرة، فلولا اني اهديت لاهللت بعمرة ". قالت فمنا من اهل بعمرة، ومنا من اهل بحج، وكنت ممن اهل بعمرة، فاظلني يوم عرفة، وانا حايض، فشكوت الى النبي صلى الله عليه وسلم فقال " ارفضي عمرتك، وانقضي راسك وامتشطي، واهلي بالحج ". فلما كان ليلة الحصبة ارسل معي عبد الرحمن الى التنعيم، فاهللت بعمرة مكان عمرتي
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، انہوں نے عمرو بن اوس سے سنا، ان کو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اپنے ساتھ سواری پر لے جائیں اور تنعیم سے انہیں عمرہ کرا لائیں۔ سفیان بن عیینہ نے کہیں یوں کہا میں نے عمرو بن دینار سے سنا، کہیں یوں کہا میں نے کئی بار اس حدیث کو عمرو بن دینار سے سنا۔
حدثنا علي بن عبد الله، حدثنا سفيان، عن عمرو، سمع عمرو بن اوس، ان عبد الرحمن بن ابي بكر رضى الله عنهما اخبره ان النبي صلى الله عليه وسلم امره ان يردف عايشة، ويعمرها من التنعيم. قال سفيان مرة سمعت عمرا، كم سمعته من عمرو
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، ان سے عبدالوہاب بن عبدالمجید نے، ان سے حبیب معلم نے، ان سے عطاء بن ابی رباح نے اور ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب نے حج کا احرام باندھا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور طلحہ رضی اللہ عنہ کے سوا قربانی کسی کے پاس نہیں تھی۔ ان ہی دنوں میں علی رضی اللہ عنہ یمن سے آئے تو ان کے ساتھ بھی قربانی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جس چیز کا احرام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھا ہے میرا بھی احرام وہی ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو ( مکہ میں پہنچ کر ) اس کی اجازت دے دی تھی کہ اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کر دیں اور بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کر کے بال ترشوا لیں اور احرام کھول دیں، لیکن وہ لوگ ایسا نہ کریں جن کے ساتھ قربانی ہو۔ اس پر لوگوں نے کہا کہ ہم منیٰ سے حج کے لیے اس طرح سے جائیں گے کہ ہمارے ذکر سے منی ٹپک رہی ہو۔ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات اب ہوئی اگر پہلے سے معلوم ہوتی تو میں اپنے ساتھ ہدی نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو ( افعال عمرہ ادا کرنے کے بعد ) میں بھی احرام کھول دیتا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ( اس حج میں ) حائضہ ہو گئی تھیں اس لیے انہوں نے اگرچہ تمام مناسک ادا کئے لیکن بیت اللہ کا طواف نہیں کیا۔ پھر جب وہ پاک ہو گئیں اور طواف کر لیا تو عرض کی یا رسول اللہ! سب لوگ حج اور عمرہ دونوں کر کے واپس ہو رہے ہیں لیکن میں صرف حج کر سکی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہما سے کہا کہ انہیں ہمراہ لے کر تنعیم جائیں اور عمرہ کرا لائیں، یہ عمرہ حج کے بعد ذی الحجہ کے ہی مہینہ میں ہوا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب جمرہ عقبہ کی رمی کر رہے تھے تو سراقہ بن مالک بن جعشم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! کیا یہ ( عمرہ اور حج کے درمیان احرام کھول دینا ) صرف آپ ہی کے لیے ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے ہے۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عبد الوهاب بن عبد المجيد، عن حبيب المعلم، عن عطاء، حدثني جابر بن عبد الله رضى الله عنهما ان النبي صلى الله عليه وسلم اهل واصحابه بالحج وليس مع احد منهم هدى، غير النبي صلى الله عليه وسلم وطلحة، وكان علي قدم من اليمن، ومعه الهدى فقال اهللت بما اهل به رسول الله صلى الله عليه وسلم. وان النبي صلى الله عليه وسلم اذن لاصحابه ان يجعلوها عمرة، يطوفوا بالبيت، ثم يقصروا ويحلوا، الا من معه الهدى، فقالوا ننطلق الى منى وذكر احدنا يقطر فبلغ النبي صلى الله عليه وسلم فقال " لو استقبلت من امري ما استدبرت ما اهديت، ولولا ان معي الهدى لاحللت ". وان عايشة حاضت فنسكت المناسك كلها، غير انها لم تطف بالبيت قال فلما طهرت وطافت، قالت يا رسول الله اتنطلقون بعمرة وحجة، وانطلق بالحج فامر عبد الرحمن بن ابي بكر ان يخرج معها الى التنعيم، فاعتمرت بعد الحج في ذي الحجة، وان سراقة بن مالك بن جعشم لقي النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالعقبة، وهو يرميها، فقال الكم هذه خاصة، يا رسول الله قال " لا، بل للابد
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد عروہ نے خبر دی کہا کہ مجھے عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی انہوں نے کہا کہ ذی الحجہ کا چاند نکلنے والا تھا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے حج کے لیے چلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو عمرہ کا احرام باندھنا چاہے وہ عمرہ کا باندھ لے اور جو حج کا باندھنا چاہے وہ حج کا باندھ لے، اگر میں اپنے ساتھ قربانی نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا ہی احرام باندھتا، چنانچہ بہت سے لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور بہتوں نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر میں مکہ میں داخل ہونے سے پہلے حائضہ ہو گئی، عرفہ کا دن آ گیا اور ابھی میں حائضہ ہی تھی، اس کا رونا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے روئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ دے اور سر کھول لے اور کنگھا کر لے پھر حج کا احرام باندھ لینا، چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا، اس کے بعد جب محصب کی رات آئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ عبدالرحمٰن کو تنعیم بھیجا وہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بٹھا کر لے گئے وہاں سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنے ( چھوڑے ہوئے ) عمرے کے بجائے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کا بھی حج اور عمرہ دونوں ہی پورے کر دیئے نہ تو اس کے لیے انہیں قربانی لانی پڑی نہ صدقہ دینا پڑا اور نہ روزہ رکھنا پڑا۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، قال اخبرني ابي قال، اخبرتني عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم موافين لهلال ذي الحجة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " من احب ان يهل بعمرة فليهل، ومن احب ان يهل بحجة فليهل، ولولا اني اهديت لاهللت بعمرة ". فمنهم من اهل بعمرة، ومنهم من اهل بحجة، وكنت ممن اهل بعمرة، فحضت قبل ان ادخل مكة، فادركني يوم عرفة، وانا حايض، فشكوت الى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال " دعي عمرتك، وانقضي راسك وامتشطي، واهلي بالحج ". ففعلت، فلما كانت ليلة الحصبة ارسل معي عبد الرحمن الى التنعيم، فاردفها، فاهلت بعمرة مكان عمرتها، فقضى الله حجها وعمرتها، ولم يكن في شىء من ذلك هدى، ولا صدقة، ولا صوم
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ان سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور دوسری (روایت میں) ابن عون، ابراہیم سے روایت کرتے ہیں اور وہ اسود سے، انہوں نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! لوگ تو دو نسک ( حج اور عمرہ ) کر کے واپس ہو رہے ہیں اور میں نے صرف ایک نسک ( حج ) کیا ہے؟ اس پر ان سے کہا گیا کہ پھر انتظار کریں اور جب پاک ہو جائیں تو تنعیم جا کر وہاں سے ( عمرہ کا ) احرام باندھیں، پھر ہم سے فلاں جگہ آ ملیں اور یہ کہ اس عمرہ کا ثواب تمہارے خرچ اور محنت کے مطابق ملے گا۔
حدثنا مسدد، حدثنا يزيد بن زريع، حدثنا ابن عون، عن القاسم بن محمد، وعن ابن عون، عن ابراهيم، عن الاسود، قالا قالت عايشة رضى الله عنها يا رسول الله يصدر الناس بنسكين واصدر بنسك فقيل لها " انتظري، فاذا طهرت فاخرجي الى التنعيم، فاهلي ثم ايتينا بمكان كذا، ولكنها على قدر نفقتك، او نصبك
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے افلح بن حمید نے بیان کیا، ان سے قاسم بن محمد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ حج کے مہینوں اور آداب میں ہم حج کا احرام باندھ کر مدینہ سے چلے اور مقام سرف میں پڑاؤ کیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ جس کے ساتھ قربانی نہ ہو اور وہ چاہے کہ اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل دے تو وہ ایسا کر سکتا ہے، لیکن جس کے ساتھ قربانی ہے وہ ایسا نہیں کر سکتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب میں سے بعض مقدور والوں کے ساتھ قربانی تھی، اس لیے ان کا ( احرام صرف ) عمرہ کا نہیں رہا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ رو کیوں رہی ہو؟ میں نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے جو کچھ فرمایا میں سن رہی تھی، اب تو میرا عمرہ رہ گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا بات ہوئی؟ میں نے کہا کہ میں نماز نہیں پڑھ سکتی ( حیض کی وجہ سے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ کوئی حرج نہیں، تو بھی آدم کی بیٹیوں میں سے ایک ہے، اور جو ان سب کے مقدر میں لکھا ہے وہی تمہارا بھی مقدر ہے۔ اب حج کا احرام باندھ لے شاید اللہ تعالیٰ تمہیں عمرہ بھی نصیب کرے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں نے حج کا احرام باندھ لیا پھر جب ہم ( حج سے فارغ ہو کر اور ) منی سے نکل کر محصب میں اترے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن کو بلایا اور ان سے کہا کہ اپنی بہن کو حد حرم سے باہر لے جا ( تنعیم ) تاکہ وہ وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ لیں، پھر طواف و سعی کرو ہم تمہارا انتظار یہیں کریں گے۔ ہم آدھی رات کو آپ کی خدمت میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا فارغ ہو گئے؟ میں نے کہا ہاں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد اپنے اصحاب میں کوچ کا اعلان کر دیا۔ بیت اللہ کا طواف وداع کرنے والے لوگ صبح کی نماز سے پہلے ہی روانہ ہو گئے اور مدینہ کی طرف چل دیئے۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا افلح بن حميد، عن القاسم، عن عايشة رضى الله عنها قالت خرجنا مهلين بالحج في اشهر الحج، وحرم الحج، فنزلنا سرف، فقال النبي صلى الله عليه وسلم لاصحابه " من لم يكن معه هدى، فاحب ان يجعلها عمرة، فليفعل ومن كان معه هدى فلا ". وكان مع النبي صلى الله عليه وسلم ورجال من اصحابه ذوي قوة الهدى، فلم تكن لهم عمرة، فدخل على النبي صلى الله عليه وسلم وانا ابكي فقال " ما يبكيك ". قلت سمعتك تقول لاصحابك ما قلت فمنعت العمرة. قال " وما شانك ". قلت لا اصلي. قال " فلا يضرك انت من بنات ادم، كتب عليك ما كتب عليهن، فكوني في حجتك عسى الله ان يرزقكها ". قالت فكنت حتى نفرنا من منى، فنزلنا المحصب فدعا عبد الرحمن، فقال " اخرج باختك الحرم، فلتهل بعمرة، ثم افرغا من طوافكما، انتظركما ها هنا ". فاتينا في جوف الليل. فقال " فرغتما ". قلت نعم. فنادى بالرحيل في اصحابه، فارتحل الناس، ومن طاف بالبيت، قبل صلاة الصبح، ثم خرج موجها الى المدينة
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہمام نے بیان کیا، ان سے عطا بن ابی رباح نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا جبہ پہنے ہوئے اور اس پر خلوق یا زردی کا نشان تھا۔ اس نے پوچھا مجھے اپنے عمرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا ڈال دیا گیا، میری بڑی آرزو تھی کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھوں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہاں آؤ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہو رہی ہو، اس وقت تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھنے کے آرزو مند ہو؟ میں نے کہا ہاں! انہوں نے کپڑے کا کنارہ اٹھایا اور میں نے اس میں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ زور زور سے خراٹے لے رہے تھے، میرا خیال ہے کہ انہوں نے بیان کیا ”جیسے اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے“ پھر جب وحی اترنی بند ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے جو عمرہ کے بارے میں پوچھتا تھا؟ اپنا جبہ اتار دے، خلوق کے اثر کو دھو ڈال اور ( زعفران کی ) زردی صاف کر لے اور جس طرح حج میں کرتے ہو اسی طرح اس میں بھی کرو۔
حدثنا ابو نعيم، حدثنا همام، حدثنا عطاء، قال حدثني صفوان بن يعلى بن امية يعني، عن ابيه، ان رجلا، اتى النبي صلى الله عليه وسلم وهو بالجعرانة وعليه جبة وعليه اثر الخلوق او قال صفرة فقال كيف تامرني ان اصنع في عمرتي فانزل الله على النبي صلى الله عليه وسلم، فستر بثوب ووددت اني قد رايت النبي صلى الله عليه وسلم وقد انزل عليه الوحى. فقال عمر تعال ايسرك ان تنظر الى النبي صلى الله عليه وسلم وقد انزل الله الوحى قلت نعم. فرفع طرف الثوب، فنظرت اليه له غطيط واحسبه قال كغطيط البكر. فلما سري عنه قال " اين السايل عن العمرة اخلع عنك الجبة واغسل اثر الخلوق عنك، وانق الصفرة، واصنع في عمرتك كما تصنع في حجك
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی، انہیں ہشام بن عروہ نے، انہیں ان کے والد (عروہ بن زبیر) نے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا جب کہ ابھی میں نوعمر تھا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ”صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اگر کوئی ان کی سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہ ہو گا۔ یہ سن کر عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہرگز نہیں۔ اگر مطلب یہ ہوتا جیسا کہ تم بتا رہے ہو پھر تو ان کی سعی نہ کرنے میں واقعی کوئی حرج نہیں تھا، لیکن یہ آیت تو انصار کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو منات بت کے نام کا احرام باندھتے تھے جو قدید کے مقابل میں رکھا ہوا تھا وہ صفا اور مروہ کی سعی کو اچھا نہیں سمجھتے تھے، جب اسلام آیا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا اور اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”صفا اور مروہ دونوں اللہ کی نشانیاں ہیں اس لیے جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس کے لیے ان کی سعی کرنے میں کوئی گناہ نہیں“ سفیان اور ابومعاویہ نے ہشام سے یہ زیادتی نکالی ہے کہ جو کوئی صفا مروہ کا پھیرا نہ کرے تو اللہ اس کا حج اور عمرہ پورا نہ کرے گا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، اخبرنا مالك، عن هشام بن عروة، عن ابيه، انه قال قلت لعايشة رضى الله عنها زوج النبي صلى الله عليه وسلم وانا يوميذ حديث السن ارايت قول الله تبارك وتعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما} فلا ارى على احد شييا ان لا يطوف بهما. فقالت عايشة كلا، لو كانت كما تقول كانت فلا جناح عليه ان لا يطوف بهما. انما انزلت هذه الاية في الانصار كانوا يهلون لمناة، وكانت مناة حذو قديد، وكانوا يتحرجون ان يطوفوا بين الصفا والمروة، فلما جاء الاسلام سالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم عن ذلك، فانزل الله تعالى {ان الصفا والمروة من شعاير الله فمن حج البيت او اعتمر فلا جناح عليه ان يطوف بهما}. زاد سفيان وابو معاوية عن هشام ما اتم الله حج امري ولا عمرته لم يطف بين الصفا والمروة
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، عن جرير، عن اسماعيل، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم واعتمرنا معه فلما دخل مكة طاف وطفنا معه، واتى الصفا والمروة واتيناها معه، وكنا نستره من اهل مكة ان يرميه احد. فقال له صاحب لي اكان دخل الكعبة قال لا. قال فحدثنا ما، قال لخديجة. قال " بشروا خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب
حدثنا اسحاق بن ابراهيم، عن جرير، عن اسماعيل، عن عبد الله بن ابي اوفى، قال اعتمر رسول الله صلى الله عليه وسلم واعتمرنا معه فلما دخل مكة طاف وطفنا معه، واتى الصفا والمروة واتيناها معه، وكنا نستره من اهل مكة ان يرميه احد. فقال له صاحب لي اكان دخل الكعبة قال لا. قال فحدثنا ما، قال لخديجة. قال " بشروا خديجة ببيت في الجنة من قصب لا صخب فيه ولا نصب