Loading...

Loading...
کتب
۲۶ احادیث
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے کثیر بن شنظیر نے بیان کیا، ان سے عطاء بن ابی رباح نے ان سے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنی ایک ضرورت کے لیے ( غزوہ بنی مصطلق میں ) بھیجا۔ میں واپس آیا اور میں نے کام پورا کر دیا تھا۔ پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہیں دیا۔ میرے دل میں اللہ جانے کیا بات آئی اور میں نے اپنے دل میں کہا کہ شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر اس لیے خفا ہیں کہ میں دیر سے آیا ہوں۔ میں نے پھر دوبارہ سلام کیا اور جب اس مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی جواب نہ دیا تو اب میرے دل میں پہلے سے بھی زیادہ خیال آیا۔ پھر میں نے ( تیسری مرتبہ ) سلام کیا، اور اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا کہ پہلے جو دو بار میں نے جواب نہ دیا تو اس وجہ سے تھا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنی اونٹنی پر تھے اور اس کا رخ قبلہ کی طرف نہ تھا بلکہ دوسری طرف تھا۔
حدثنا ابو معمر، حدثنا عبد الوارث، حدثنا كثير بن شنظير، عن عطاء بن ابي رباح، عن جابر بن عبد الله رضى الله عنهما قال بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم في حاجة له فانطلقت، ثم رجعت وقد قضيتها، فاتيت النبي صلى الله عليه وسلم فسلمت عليه، فلم يرد على، فوقع في قلبي ما الله اعلم به فقلت في نفسي لعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وجد على اني ابطات عليه، ثم سلمت عليه فلم يرد على، فوقع في قلبي اشد من المرة الاولى، ثم سلمت عليه فرد على فقال " انما منعني ان ارد عليك اني كنت اصلي ". وكان على راحلته متوجها الى غير القبلة
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالعزیز بن ابی حازم نے بیان کیا، ان سے ابوحازم سلمہ بن دینار نے اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ قباء کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف میں کوئی جھگڑا ہو گیا ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کئی اصحاب کو ساتھ لے کر ان میں صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلح صفائی کے لیے ٹھہر گئے۔ ادھر نماز کا وقت ہو گیا تو بلال رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہیں آئے اور نماز کا وقت ہو گیا، تو کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ آپ نے جواب دیا کہ ہاں اگر تم چاہتے ہو تو پڑھا دوں گا۔ چنانچہ بلال رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر نیت باندھ لی۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لے آئے اور صفوں سے گزرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی صف میں آ کھڑے ہوئے، لوگوں نے ہاتھ پر ہاتھ مارنے شروع کر دیئے۔ ( سہل نے کہا کہ «تصفيح» کے معنی «تصفيق» کے ہیں ) آپ نے بیان کیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز میں کسی طرف متوجہ نہیں ہوتے تھے۔ لیکن جب لوگوں نے بہت دستکیں دیں تو انہوں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشارہ سے ابوبکر کو نماز پڑھانے کے لیے کہا۔ اس پر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا اور پھر الٹے پاؤں پیچھے کی طرف چلے آئے اور صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی۔ نماز سے فارغ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ لوگو! یہ کیا بات ہے کہ جب نماز میں کوئی بات پیش آتی ہے تو تم تالیاں بجانے لگتے ہو۔ یہ مسئلہ تو عورتوں کے لیے ہے۔ تمہیں اگر نماز میں کوئی حادثہ پیش آئے تو «سبحان الله» کہا کرو۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ابوبکر! میرے کہنے کے باوجود تم نے نماز کیوں نہیں پڑھائی؟ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ ابوقحافہ کے بیٹے کو زیب نہیں دیتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں نماز پڑھائے۔
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد العزيز، عن ابي حازم، عن سهل بن سعد رضى الله عنه قال بلغ رسول الله صلى الله عليه وسلم ان بني عمرو بن عوف بقباء كان بينهم شىء، فخرج يصلح بينهم في اناس من اصحابه، فحبس رسول الله صلى الله عليه وسلم وحانت الصلاة، فجاء بلال الى ابي بكر رضى الله عنهما فقال يا ابا بكر، ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حبس وقد حانت الصلاة، فهل لك ان توم الناس قال نعم ان شيت. فاقام بلال الصلاة، وتقدم ابو بكر رضى الله عنه فكبر للناس، وجاء رسول الله صلى الله عليه وسلم يمشي في الصفوف يشقها شقا، حتى قام في الصف، فاخذ الناس في التصفيح. قال سهل التصفيح هو التصفيق. قال وكان ابو بكر رضى الله عنه لا يلتفت في صلاته، فلما اكثر الناس التفت فاذا رسول الله صلى الله عليه وسلم فاشار اليه، يامره ان يصلي، فرفع ابو بكر رضى الله عنه يده، فحمد الله، ثم رجع القهقرى وراءه حتى قام في الصف، وتقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم فصلى للناس، فلما فرغ اقبل على الناس فقال " يا ايها الناس ما لكم حين نابكم شىء في الصلاة اخذتم بالتصفيح انما التصفيح للنساء، من نابه شىء في صلاته فليقل سبحان الله ". ثم التفت الى ابي بكر رضى الله عنه فقال " يا ابا بكر، ما منعك ان تصلي للناس حين اشرت اليك ". قال ابو بكر ما كان ينبغي لابن ابي قحافة ان يصلي بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب سختیانی نے، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نماز میں پہلو پر ہاتھ رکھنے سے منع کیا گیا تھا۔ ہشام اور ابوہلال محمد بن سلیم نے، ابن سیرین سے اس حدیث کو روایت کیا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے۔
حدثنا ابو النعمان، حدثنا حماد، عن ايوب، عن محمد، عن ابي هريرة رضى الله عنه قال نهي عن الخصر، في الصلاة. وقال هشام وابو هلال عن ابن سيرين، عن ابي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے ہشام بن حسان فردوسی نے بیان کیا، ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلو پر ہاتھ رکھ کر نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔
حدثنا عمرو بن علي، حدثنا يحيى، حدثنا هشام، حدثنا محمد، عن ابي هريرة، رضى الله عنه قال نهي ان يصلي الرجل مختصرا
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے روح بن عبادہ نے، کہا کہ ہم سے عمر نے جو سعید کے بیٹے ہیں، انہوں نے کہا کہ مجھے ابن ابی ملیکہ نے خبر دی عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سلام پھیرتے ہی بڑی تیزی سے اٹھے اور اپنی ایک بیوی کے حجرہ میں تشریف لے گئے، پھر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی جلدی پر اس تعجب و حیرت کو محسوس کیا جو صحابہ کے چہروں سے ظاہر ہو رہا تھا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز میں مجھے سونے کا ایک ڈلا یاد آ گیا جو ہمارے پاس تقسیم سے باقی رہ گیا تھا۔ مجھے برا معلوم ہوا کہ ہمارے پاس وہ شام تک یا رات تک رہ جائے۔ اس لیے میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دے دیا۔
حدثنا اسحاق بن منصور، حدثنا روح، حدثنا عمر هو ابن سعيد قال اخبرني ابن ابي مليكة، عن عقبة بن الحارث رضى الله عنه قال صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم العصر، فلما سلم قام سريعا دخل على بعض نسايه، ثم خرج وراى ما في وجوه القوم من تعجبهم لسرعته فقال " ذكرت وانا في الصلاة تبرا عندنا، فكرهت ان يمسي او يبيت عندنا فامرت بقسمته
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے لیث نے، ان سے جعفر بن ربیعہ نے اور ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے۔ جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو مردود پھر آ جاتا ہے اور جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے ( اور تکبیر کہی جاتی ہے ) تو پھر بھاگ جاتا ہے۔ لیکن جب مؤذن چپ ہو جاتا ہے تو پھر آ جاتا ہے۔ اور آدمی کے دل میں وسواس پیدا کرتا رہتا ہے۔ کہتا ہے کہ ( فلاں فلاں بات ) یاد کر۔ کم بخت وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں بھی نہ تھیں۔ اس طرح نمازی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی رکعتیں پڑھی ہیں۔ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے کہا کہ جب کوئی یہ بھول جائے ( کہ کتنی رکعتیں پڑھی ہیں ) تو بیٹھے بیٹھے ( سہو کے ) دو سجدے کر لے۔ ابوسلمہ نے یہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا تھا۔
حدثنا يحيى بن بكير، حدثنا الليث، عن جعفر، عن الاعرج، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه قال رسول الله صلى الله عليه وسلم " اذا اذن بالصلاة ادبر الشيطان له ضراط حتى لا يسمع التاذين، فاذا سكت الموذن اقبل، فاذا ثوب ادبر فاذا سكت اقبل، فلا يزال بالمرء يقول له اذكر ما لم يكن يذكر حتى لا يدري كم صلى ". قال ابو سلمة بن عبد الرحمن اذا فعل احدكم ذلك فليسجد سجدتين وهو قاعد. وسمعه ابو سلمة من ابي هريرة رضى الله عنه
ہم سے محمد بن مثنی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عثمان بن عمر نے کہا کہ مجھے ابن ابی ذئب نے خبر دی، انہیں سعید مقبری نے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا لوگ کہتے ہیں کہ ابوہریرہ بہت زیادہ حدیثیں بیان کرتا ہے ( اور حال یہ ہے کہ ) میں ایک شخص سے ایک مرتبہ ملا اور اس سے میں نے ( بطور امتحان ) دریافت کیا کہ گزشتہ رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء میں کون کون سی سورتیں پڑھی تھیں؟ اس نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم۔ میں نے پوچھا کہ تم نماز میں شریک تھے؟ کہا کہ ہاں شریک تھا۔ میں نے کہا لیکن مجھے تو یاد ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فلاں فلاں سورتیں پڑھی تھیں۔
حدثنا محمد بن المثنى، حدثنا عثمان بن عمر، قال اخبرني ابن ابي ذيب، عن سعيد المقبري، قال قال ابو هريرة رضى الله عنه يقول الناس اكثر ابو هريرة، فلقيت رجلا فقلت بم قرا رسول الله صلى الله عليه وسلم البارحة في العتمة فقال لا ادري. فقلت لم تشهدها قال بلى. قلت لكن انا ادري، قرا سورة كذا وكذا